nazmKuch Alfaaz

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اور کچھ دیر ستم سہ لیں تڑپ لیں رو لیں اپنے ٹھی سے کی میرا سے ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبو سے ہے گفتار پہ تازیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھروں بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفل سے کی قباء ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں اک ذرا دل پامال کہ پڑنا کے دن تھوڑے ہیں عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم کو رہنا ہے پہ یوںہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے یہ تری حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار چاندنی راتوں کا بیکار دہکتا ہوا درد دل کی بے سود تڑپ جسم کی مایو سے پکار چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

Related Nazm

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

موتا جنگ ادھر موتا جنگ کا شور ہے خدا میرا گھر بھی اسی اور ہے تباہی کا منظر ہے جائیں جدھر ہے ٹوٹی عمارت دکانیں سبھی ہے پتھر ہی پتھر فقط راہ پر کہی چیخ نے کی صدا ہے کہی خموشی کا ہے عالم کہی خون سے لتھپت پڑا ہے کوئی ہیں تلوار ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑے کئی ستم گر بڑھاتے بغاوت لگ صاحب فن ہے سلامت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اتری خوشگوار ہے بگڑے سے حالات اب شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئی ہیں میاں کئی زندگی ختم ا سے بیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ فضا ہے وہ ہے وہ ملی ہے ہوا خوف کی سمندر لبالب ہے لاشوں سے ہی لگ ہری کوئی ی ہاں ٹھور ہے یہ اٹھتا دھواں اور جلتا مکان بتاتے ہیں خوبصورت کا یہ دور ہے

MAHESH CHAUHAN NARNAULI

16 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

Faiz Ahmad Faiz

3 likes

حقیقت ج سے کی دید ہے وہ ہے وہ لاکھوں مسرتیں پن ہاں حقیقت حسن ج سے کی تمنا ہے وہ ہے وہ جنتیں پن ہاں ہزار فتنے تہ پا لگ ناز خاک نشیں ہر اک نگاہ خمار شباب سے درماندہ شباب ج سے سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں نظیر و ج سے کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں ادا لغزش پا پر قیامتیں قرباں بیاض رکھ پہ سحر کی سباحتیں قرباں سیاہ زلفوں ہے وہ ہے وہ وارفتہ نکہتوں کا ہجوم طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم حقیقت آنکھ ج سے کے بناو بچیں خالق اتراے زبان شیر کو تعریف کرتے شرم آئی حقیقت ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش مکیں و کوثر و تسنیم و سلسبیل ب دوش گداز جسم قباء ج سے پہ سج کے ناز کرے دراز قد جسے سرو سہي نماز کرے غرض حقیقت حسن جو محتاج وصف و نام نہیں حقیقت حسن ج سے کا تصور بشر کا کام نہیں کسی زمانے ہے وہ ہے وہ ا سے رہ گزر سے گزرا تھا بصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھا اور اب یہ راہ گزر بھی ہے دل فریب و حسین ہے ا سے کی خاک ہے وہ ہے وہ کیف شراب و شیر جلوے ہوا ہے وہ ہے وہ شوخی رفتار کی ادائیں ہیں فضا ہے وہ ہے وہ نرمی گفتار کی صدائیں ہیں غرض حقیقت حسن

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

دربار وطن ہے وہ ہے وہ جب اک دن سب جانے والے جائیں گے کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے کچھ اپنی جزا لے جائیں گے اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو حقیقت سمے قریب آ پہنچا ہے جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے اب ٹوٹ گریںگی زنجیریں اب موج کی خیر نہیں جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے لگ ٹالے جائیں گے کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بے حد ہیں سر بھی بے حد چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک کچھ حشر تو ان سے اٹھےگا کچھ دور تو نالے جائیں گے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

میرا درد نغمہ بے صدا مری ذات ذرہ بے نشاں مری درد کو جو زبان ملے مجھے اپنا نام و نشاں ملے مری ذات کا جو نشان ملے مجھے راز نظم ج ہاں ملے جو مجھے یہ راز ن ہاں ملے مری خموشی کو بیاں ملے مجھے کائنات کی قلندری مجھے دولت دو ج ہاں ملے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

ا سے سمے تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے مہتاب لگ سورج لگ اندھیرا لگ سویرہ آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن اور دل کی پنا ہوں ہے وہ ہے وہ کسی درد کا ڈیرا ممکن ہے کوئی وہم تھا ممکن ہے سنا ہوں گلیوں ہے وہ ہے وہ کسی چاپ کا اک آخری پھیرا شاخوں ہے وہ ہے وہ خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید اب آ کے کرےگا لگ کوئی خواب بسیرہ اک بیر لگ اک مہر لگ اک ربط لگ رشتہ تیرا کوئی اپنا لگ پرایا کوئی میرا مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے لیکن مری دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے ہمت کروں جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

Faiz Ahmad Faiz

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.