دربار وطن ہے وہ ہے وہ جب اک دن سب جانے والے جائیں گے کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے کچھ اپنی جزا لے جائیں گے اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو حقیقت سمے قریب آ پہنچا ہے جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے اب ٹوٹ گریںگی زنجیریں اب موج کی خیر نہیں جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے لگ ٹالے جائیں گے کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بے حد ہیں سر بھی بے حد چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک کچھ حشر تو ان سے اٹھےگا کچھ دور تو نالے جائیں گے
Related Nazm
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا
Jaun Elia
216 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
Faiz Ahmad Faiz
3 likes
ا سے سمے تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے مہتاب لگ سورج لگ اندھیرا لگ سویرہ آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن اور دل کی پنا ہوں ہے وہ ہے وہ کسی درد کا ڈیرا ممکن ہے کوئی وہم تھا ممکن ہے سنا ہوں گلیوں ہے وہ ہے وہ کسی چاپ کا اک آخری پھیرا شاخوں ہے وہ ہے وہ خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید اب آ کے کرےگا لگ کوئی خواب بسیرہ اک بیر لگ اک مہر لگ اک ربط لگ رشتہ تیرا کوئی اپنا لگ پرایا کوئی میرا مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے لیکن مری دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے ہمت کروں جینے کو تو اک عمر پڑی ہے
Faiz Ahmad Faiz
2 likes
سچ ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آپ کے شکوے بجا لگ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستا لگ تھے ہاں جو کہوں بھی آپ نے کی قائدے سے کی ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا لگ تھے آئی تو یوں کہ چنو ہمیشہ تھے مہرباں بھولے تو یوں کہ چنو کبھی آشنا لگ تھے کیوں داد غم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے طلب کی برا کیا ہم سے ج ہاں ہے وہ ہے وہ کشتی غم اور کیا لگ تھے گر فکر زخم کی تو اعتباری وار ہیں کہ ہم کیوں محوہ مدح خوبی تیغ ادا لگ تھے ہر چارا گر کو چارگری سے گریز تھا ور لگ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دکھ تھے بے حد لا دوا لگ تھے لب پر ہے تلخی مے ایام ور لگ فیض ہم تلخی کلام پہ مائل ذرا لگ تھے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اور کچھ دیر ستم سہ لیں تڑپ لیں رو لیں اپنے ٹھی سے کی میرا سے ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبو سے ہے گفتار پہ تازیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھروں بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفل سے کی قباء ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں اک ذرا دل پامال کہ پڑنا کے دن تھوڑے ہیں عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم کو رہنا ہے پہ یوںہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے یہ تری حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار چاندنی راتوں کا بیکار دہکتا ہوا درد دل کی بے سود تڑپ جسم کی مایو سے پکار چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی خواب در خواب محلات کے در وا ہیں کئی اور جلوے کوئی نہیں ہے آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے کوئی نغمہ کوئی خوشبو کوئی کافر صورت کوئی امید کوئی آ سے مسافر صورت کوئی غم کوئی کسک کوئی شک کوئی یقین کوئی نہیں ہے آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے جاناں ا گر ہوں تو مری پا سے ہوں یا دور ہوں جاناں ہر گھڑی سایہ گر خاطر رنجور ہوں جاناں اور نہیں ہوں تو کہی کوئی نہیں کوئی نہیں ہے آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.







