آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی خواب در خواب محلات کے در وا ہیں کئی اور جلوے کوئی نہیں ہے آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے کوئی نغمہ کوئی خوشبو کوئی کافر صورت کوئی امید کوئی آ سے مسافر صورت کوئی غم کوئی کسک کوئی شک کوئی یقین کوئی نہیں ہے آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے جاناں ا گر ہوں تو مری پا سے ہوں یا دور ہوں جاناں ہر گھڑی سایہ گر خاطر رنجور ہوں جاناں اور نہیں ہوں تو کہی کوئی نہیں کوئی نہیں ہے آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے
Related Nazm
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है
Sahir Ludhianvi
52 likes
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم مری شہرت میرا ڈنکا مری اعزاز کا سن کر کبھی یہ لگ سمجھ لینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوٹی کا لکھاری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹا سا بیوپاری ہوں مری آرت پہ برسوں سے جو مہنگے دام بکتا ہے حقیقت تری غم کا سودا ہے تیری آنکھیں تری آنسو تیری چاہت تری جذبے ی ہاں سیلفوں پہ رکھے ہیں وہی تو ہے وہ ہے وہ نے بیچے ہیں تمہاری بات چھڑ جائے تو باتیں بیچ دیتا ہوں ضرورت کچھ زیادہ ہوں تو یادیں بیچ دیتا ہوں تمہارے نام کے صدقے بے حد بڑھانے کمایا ہے نئی گاڑی خری گرا ہے نیا بنگلہ بنایا ہے م گر کیوں مجھ کو لگتا ہے مری اندر کا بیوپاری تمہیں کو بیچ آیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم
Khalil Ur Rehman Qamar
34 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
ہم پرورش لوح و کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھےگی ہاں اہل ستم مشک ستم کرتے رہیں گے جھمکے یہ تلخی یہ ستم ہم کو بے شرط دم ہے تو مدوا الم کرتے رہیں گے مے خا لگ سلامت ہے تو ہم سرخی مے سے تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے باقی ہے لہو دل ہے وہ ہے وہ تو ہر خوشی سے پیدا رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے اک طرز ت غافل ہے سو حقیقت ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
Faiz Ahmad Faiz
3 likes
گزر رہے ہیں شب و روز جاناں نہیں آتی ریاض زیست ہے آزردہ بہار ابھی مری خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں تری غم کی کفیل ہیں پیاری ابھی تلک مری تنہائیوں ہے وہ ہے وہ بستی ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری ادا سے آنکھیں تری دید کو مشین ہیں بہار حسن پہ پابن گرا کہوں کب تک یہ آزمائش دل پامال گریز پا کب تک قسم تمہاری بے حد غم اٹھا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلط تھا دعا دل پامال و شکیب آ جاؤ قرار خاطر بیتاب تھک گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
چلو پھروں سے مسکرائیں چلو پھروں سے دل جلائیں جو گزر گئی ہیں راتیں انہیں پھروں جگا کے لائیں جو بسر گئی ہیں باتیں انہیں یاد ہے وہ ہے وہ بلائیں چلو پھروں سے دل لگائیں چلو پھروں سے مسکرائیں کسی شہ نشین پہ جھلکی حقیقت دھنک کسی قباء کی کسی رگ ہے وہ ہے وہ کسمسائی حقیقت کسک کسی ادا کی کوئی حرف بے مروت کسی کنج لب سے پھوٹا حقیقت عہد رفتہ کے رنگینیوں تہ بام پھروں سے ٹوٹا یہ ملن کی نا ملن کی یہ لگن کی اور جلن کی جو صحیح ہیں وارداتیں جو گزر گئی ہیں راتیں جو بسر گئی ہیں باتیں کوئی ان کی دھن بنائیں کوئی ان کا گیت گائیں چلو پھروں سے مسکرائیں چلو پھروں سے دل جلائیں
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
میرا درد نغمہ بے صدا مری ذات ذرہ بے نشاں مری درد کو جو زبان ملے مجھے اپنا نام و نشاں ملے مری ذات کا جو نشان ملے مجھے راز نظم ج ہاں ملے جو مجھے یہ راز ن ہاں ملے مری خموشی کو بیاں ملے مجھے کائنات کی قلندری مجھے دولت دو ج ہاں ملے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.







