nazmKuch Alfaaz

دل نہیں توڑوگی جاناں تو گھر بسا لوگی ساتھ کسی کے پر دیکھو ہے وہ ہے وہ تنہا رہ جاؤں گا دیکھو رک جاؤ لگ جاؤ مان بھی جاؤ کہ دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ کچھ کر جاؤں گا جانے کو تو چلی جاوگی پر کہ دیتا ہوں ساتھ تمہارے مری ساری خوشیاں جائیں گی یہ رت یہ بہاریں پھروں مجھ کو نا خوش باش برساتیں بھی گزریںگی ب سے تن پر مری یہ روح بھیگا نا پائیں گی آخر ایک چھوڑوگی روح کا جاناں قتل کر جاوگی مری بن جاناں بھی جان بھلا پھروں کیسے رہ پاؤ گی یاد کروں کہا تھا جاناں نے ساتھ نہیں موڑوگی چاہے کچھ بھی ہوں جائے پر دل نہیں توڑوگی پھروں کیوں ایسی باتیں کرتی ہوں مان بھی جاؤ کہ دو نا جان مری منا نہیں روٹھے جاناں میرا دل نہیں توڑوگی

Related Nazm

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

More from Navneet Vatsal Sahil

हिज्र की रातें हिज्र की रातें रातें नहीं होतीं हिज्र की रातें साँप होती हैं सियाह काले साँप जो शाम ढले बाहर निकलते हैं यादों के बिल से और शुरू कर देते हैं डसना ज़हर जब चढ़ने लगता है जिस्म ठंडा पड़ने लगता है धड़कन कभी इतनी तेज़ कि कमरा गूँजने लग जाए कभी इतनी धीमी कि नब्ज़ टटोलनी पड़ जाए साँसें इतनी बेचैन मानो दिया बुझने को हो और आख़िरी क़तरा बाक़ी हो तेल का दर्द ऐसा दिल में ख़ून के क़तरे आँखों से निकलने लगते हैं पर मौत नहीं आती यका यक आहिस्ता आहिस्ता लाती हैं हर एक ख़्वाहिश और एहसास को मारते हुए अंदरू लाश बनाते हुए हिज्र की रातें साँप होती हैं हिज्र की रातें रातें नहीं होतीं

Navneet Vatsal Sahil

0 likes

چناب ہوئے پروش پریم ہے وہ ہے وہ چناب ہوئے کچھ پروش پروش نہیں رہتے حقیقت ہوں جاتے ہیں ستری حقیقت خود کو بھر لیتے ہیں بھاوکتا اور آنسو سے پریم ہے وہ ہے وہ چناب پروش پرابت کر کر لیتے ستریتو کے اس کا گن کو جس ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوتا ہے میرا سا پاگل پن رادھا سا نہہسوارٹھ پریم حقیقت چنتے ہیں میرا یا رادھا ہوں جانا یا ہوں جانا دونوں ہی دونوں ہوں جانا اتیہدھک دہکھد ہے اسے سہن کرنی ہوتی ہیں تب دونوں ہی پیڑا رادھا جس کے بغیر کرشن نام ادھورا ہے پرنتو پھروں بھی رادھا کے حصے آتا ہے ویوگی جیون اور حقیقت چن لیتی ہے کرشن کی یادوں کے ساتھ جیون نرواہ میرا جس کے بغیر کرشن کوئی بھگوان نہیں اور میرا کو ملتا ہے ترسکرت جیون اور آخری سواںس تک حقیقت چنتی ہے کرشن بھکتی دونوں ہی بےباک پریم کی پریائے ہیں جو بتاتا ہے اتھاہ یا نہہسوارٹھ پریم سدیو ایک طرفہ رہا ہے حقیقت نہیں پرابت کر پاتا رکمنی ہونا رادھا کی مائل میرا نے نہیں سویقار کیا پریمکا بنے رہنا اور اس کا نے کرشن کو سگے کہا رادھا ہوں جانا دہکھد تو ہے میرا ہوں جانا اتین

Navneet Vatsal Sahil

3 likes

اک جادوئی لفظ نا آپ تھا نا جاناں تھا نا تو تھا کبھی نام نہیں لیے ہم نے ایک دوسرے کے پھروں بھی کتنی باتیں ہوتیں تھیں اک لفظ تھا لفظ کیا تھا جان جان اور جان تھا یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے وہ ہے وہ کتنا کچھ تھا ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سب کچھ تھا جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک دوسرے سے چاہیے تھا ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سارے وعدے تھے جو لوگ ملتے سمے کرتے ہیں حقیقت ساری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھیں جو بچھڑتے سمے کے لیے تھیں یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے وہ ہے وہ کتنا کچھ تھا جانتے ہوں دوست یہ لفظ قاف یوں واقعہ ہی نا تھا ایک خوشبوؤں تھا پورا ہماری محبت کا یہ اک ایسا لفظ تھا ج سے ہے وہ ہے وہ سانسیں تھیں جو اکیلا سارے ٹھنڈے لفظوں کے بیچ گرم تھا زندہ لفظ تھا اک وہی تو گواہ تھا ہم محبت ہے وہ ہے وہ کتنے سچے تھے ایک ایسا لفظ جسے بولتے ہوئے اپنا بدن سرسرا کی قباء لگتی پیڑ ناچتے لگتے اور ہوا بہکتی لگتی یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے

Navneet Vatsal Sahil

4 likes

"तुम भी इक दरिया हो" ज़िन्दगी यूँ भी ख़ूब-सूरत है. किनारे पर बैठे-बैठे दरिया में जाते हुए लोगों को देखते रहना मगर दरिया में न जाना, मौजो को दूर से देखना मगर छूने की कोशिश न करना दिल लाख कहे, "चल हम भी एक बार छूते हैं ना !" मगर मैं जानता हूँ मौज आख़िर को मौज है और दरिया दरिया! तुम भी इक दरिया के जैसी हो मैं किनारे पर ही ठीक हूँ

Navneet Vatsal Sahil

4 likes

"नाकाम कोशिश" कभी कभी ऐसा भी होता है अक्सर सिगरेट सुलगाकर भूल जाता हूँ मैं और चला जाता हूँ उस बीते हुए वक़्त में हमारी साथ बिताई यादों को समेटने सब कुछ समेटने की नाकाम कोशिश करता हुआ मैं भूल जाता हूँ सिगरेट ! उँगली जला चुकी होती है तब तक

Navneet Vatsal Sahil

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Navneet Vatsal Sahil.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Navneet Vatsal Sahil's nazm.