اک جادوئی لفظ نا آپ تھا نا جاناں تھا نا تو تھا کبھی نام نہیں لیے ہم نے ایک دوسرے کے پھروں بھی کتنی باتیں ہوتیں تھیں اک لفظ تھا لفظ کیا تھا جان جان اور جان تھا یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے وہ ہے وہ کتنا کچھ تھا ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سب کچھ تھا جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک دوسرے سے چاہیے تھا ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سارے وعدے تھے جو لوگ ملتے سمے کرتے ہیں حقیقت ساری ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھیں جو بچھڑتے سمے کے لیے تھیں یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے وہ ہے وہ کتنا کچھ تھا جانتے ہوں دوست یہ لفظ قاف یوں واقعہ ہی نا تھا ایک خوشبوؤں تھا پورا ہماری محبت کا یہ اک ایسا لفظ تھا ج سے ہے وہ ہے وہ سانسیں تھیں جو اکیلا سارے ٹھنڈے لفظوں کے بیچ گرم تھا زندہ لفظ تھا اک وہی تو گواہ تھا ہم محبت ہے وہ ہے وہ کتنے سچے تھے ایک ایسا لفظ جسے بولتے ہوئے اپنا بدن سرسرا کی قباء لگتی پیڑ ناچتے لگتے اور ہوا بہکتی لگتی یہ لفظ قاف یوں اک لفظ نہیں تھا ا سے اک لفظ ہے
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
More from Navneet Vatsal Sahil
हिज्र की रातें हिज्र की रातें रातें नहीं होतीं हिज्र की रातें साँप होती हैं सियाह काले साँप जो शाम ढले बाहर निकलते हैं यादों के बिल से और शुरू कर देते हैं डसना ज़हर जब चढ़ने लगता है जिस्म ठंडा पड़ने लगता है धड़कन कभी इतनी तेज़ कि कमरा गूँजने लग जाए कभी इतनी धीमी कि नब्ज़ टटोलनी पड़ जाए साँसें इतनी बेचैन मानो दिया बुझने को हो और आख़िरी क़तरा बाक़ी हो तेल का दर्द ऐसा दिल में ख़ून के क़तरे आँखों से निकलने लगते हैं पर मौत नहीं आती यका यक आहिस्ता आहिस्ता लाती हैं हर एक ख़्वाहिश और एहसास को मारते हुए अंदरू लाश बनाते हुए हिज्र की रातें साँप होती हैं हिज्र की रातें रातें नहीं होतीं
Navneet Vatsal Sahil
0 likes
"तुम भी इक दरिया हो" ज़िन्दगी यूँ भी ख़ूब-सूरत है. किनारे पर बैठे-बैठे दरिया में जाते हुए लोगों को देखते रहना मगर दरिया में न जाना, मौजो को दूर से देखना मगर छूने की कोशिश न करना दिल लाख कहे, "चल हम भी एक बार छूते हैं ना !" मगर मैं जानता हूँ मौज आख़िर को मौज है और दरिया दरिया! तुम भी इक दरिया के जैसी हो मैं किनारे पर ही ठीक हूँ
Navneet Vatsal Sahil
4 likes
چناب ہوئے پروش پریم ہے وہ ہے وہ چناب ہوئے کچھ پروش پروش نہیں رہتے حقیقت ہوں جاتے ہیں ستری حقیقت خود کو بھر لیتے ہیں بھاوکتا اور آنسو سے پریم ہے وہ ہے وہ چناب پروش پرابت کر کر لیتے ستریتو کے اس کا گن کو جس ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوتا ہے میرا سا پاگل پن رادھا سا نہہسوارٹھ پریم حقیقت چنتے ہیں میرا یا رادھا ہوں جانا یا ہوں جانا دونوں ہی دونوں ہوں جانا اتیہدھک دہکھد ہے اسے سہن کرنی ہوتی ہیں تب دونوں ہی پیڑا رادھا جس کے بغیر کرشن نام ادھورا ہے پرنتو پھروں بھی رادھا کے حصے آتا ہے ویوگی جیون اور حقیقت چن لیتی ہے کرشن کی یادوں کے ساتھ جیون نرواہ میرا جس کے بغیر کرشن کوئی بھگوان نہیں اور میرا کو ملتا ہے ترسکرت جیون اور آخری سواںس تک حقیقت چنتی ہے کرشن بھکتی دونوں ہی بےباک پریم کی پریائے ہیں جو بتاتا ہے اتھاہ یا نہہسوارٹھ پریم سدیو ایک طرفہ رہا ہے حقیقت نہیں پرابت کر پاتا رکمنی ہونا رادھا کی مائل میرا نے نہیں سویقار کیا پریمکا بنے رہنا اور اس کا نے کرشن کو سگے کہا رادھا ہوں جانا دہکھد تو ہے میرا ہوں جانا اتین
Navneet Vatsal Sahil
3 likes
بڑھوا نجم یہ غزلوں بڑھوا نہیں کر سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑھوا نہیں کر سکتا ا سے کی با ہوں ہے وہ ہے وہ رہے تو بڑھوا ا سے کی باتیں رہیں تو بڑھوا اپنی خوشیاں بھی رہیں ہیں بڑھوا سمے الفت و وصل کا بھی تو بڑھوا ہی رہا اب ہجر کا دائرہ بڑھوا نہیں کر سکتا دن رہے تو بڑھوا راتے رہیں سو بڑھوا اپنی زندگی بھی رہی ہے بڑھوا ا سے کے ساتھ گزارا ہر اک لمحہ بھی تو بڑھوا ہی رہا اب داستان محبت بڑھوا نہیں کر سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑھوا نہیں کر سکتا
Navneet Vatsal Sahil
3 likes
"नाकाम कोशिश" कभी कभी ऐसा भी होता है अक्सर सिगरेट सुलगाकर भूल जाता हूँ मैं और चला जाता हूँ उस बीते हुए वक़्त में हमारी साथ बिताई यादों को समेटने सब कुछ समेटने की नाकाम कोशिश करता हुआ मैं भूल जाता हूँ सिगरेट ! उँगली जला चुकी होती है तब तक
Navneet Vatsal Sahil
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Navneet Vatsal Sahil.
Similar Moods
More moods that pair well with Navneet Vatsal Sahil's nazm.







