nazmKuch Alfaaz

گھر گھر کیا ہوتا ہے یہ حقیقت کمروں سے بنا ہوا چوکھانا ہے کیا جس کے ایک کمرے کی چھوئیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوکھے ہوئے گلدستے رکھے ہوئے ہیں اور نئے پھول وا سے ہے وہ ہے وہ انتظار کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل جانے کا

Related Nazm

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

जब वो मुझ को कहती थी एक शे'र सुनाओ उस के उपरी लब को चूम के हट जाता था उस के ज़ेहन में क्या आता था? तैश में आ कर कहती थी - “शे'र मुकम्मल कौन करेगा? सानी मिसरा कौन पढ़ेगा?”

Zubair Ali Tabish

67 likes

کیوں الجھا الجھا رہتے ہوں کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیا اب بھی تنہا راتیں ہیں کیا درد ہی دل بہلاتے ہیں کیوں محفل را سے نہیں آتی کیوں کوئل گیت نہیں گاتی کیوں پھولوں سے خوشبو گم ہے کیوں بھونرا گم سم گم سم ہے ان باتوں کا کیا زار ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیوں اماں کی کم سنتے ہوں کیا بھیتر بھیتر گنتے ہوں کیوں ہنسنا رونا بھول گئے کیوں لکڑی چنو گھنتے ہوں کیا دل کو کہی لگائے ہوں کیا عشق ہے وہ ہے وہ دھوکہ کھائے ہوں کیا ایسا ہی کچھ مسئلہ ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں

Raghav Ramkaran

42 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

یاد ہے ایک دن مری میز پہ بیٹھے بیٹھے سگریٹ کی ڈبیا پر جاناں نے ایک سکیچ بنایا تھا آ کر دیکھو ا سے پودھے پر پھول آیا ہے

Gulzar

37 likes

More from Aryan Mishra

“जंग” जब राइफ़लें नहीं गाएँगी लोरियाँ और बारूद की महक को बच्चे इत्र समझ कर नहीं सूँघेंगे जब हर घर में दीवारों की जगह दरवाज़े होंगे खुले हुए तो समझ लेना जंग थक चुकी होगी जब खूँख़ार हुकूमतें किसी खेत की मेड़ पर बैठ कर फ़सलें उगाने लगेंगी और टैंकों की जगह कुआँ खोदने वाले औज़ार बाँटेंगी तो समझ लेना सियासत भी शर्मिंदा हो चली होगी जब शे'र कहने वाले ज़ख़्मों की गिनती नहीं करेंगे बल्कि मुहब्बत की बारिशों को बाँधने लगेंगे मतले में और कोई बच्चा बम की जगह काग़ज़ की नाव बनाएगा तो समझ लेना इंसानियत लौट आई होगी और हाँ जब एक शाम सीमा की दो ओर बैठे सिपाही एक ही सूरज को देख कर कहेंगे चलो घर चलते हैं तो उस दिन जंग वाक़ई ख़त्म हो चुकी होगी

Aryan Mishra

0 likes

عادت حقیقت ساتھ تھا آباد تھا چنو بندشوں نکلا ہی تھا خود سے خود کو پیچھے چھوڑ کر پر ایک عادت سے نکلنے کے لیے دوسری عادت ڈال لی ڈال لی پھروں سے عادت کچھ اٹپٹے سے نام دینے کی کام دینے کی میری صبح میری شام دینے کی عادت ڈال لی پھروں سے ہے وہ ہے وہ نے نکال لی ہے وہ ہے وہ نے حقیقت پوشاکیں جو کبھی دوبارہ نہیں پہننے کا من بنایا تھا تن نہیں سجایا تھا سالو سے ہے وہ ہے وہ نے عرصے بیت گئے تھے خود کو دوسرے کی آنکھوں کے پانی ہے وہ ہے وہ دیکھے پر پھروں بھی عادت ڈال لی ہے وہ ہے وہ نے پھروں سے کچھ کیشوں کو گالوں پر سجانے کی پھروں سے ای سے سینے کی اک تکیہ بنانے کی پھروں سے 9 رات ہے وہ ہے وہ گھر دیر جانے کی غلطیاں ساری کسی کی بھول جانے کی عادت ڈال لی پھروں سے

Aryan Mishra

1 likes

کتاب ایک کتاب تھی پا سے مری وہی جسے پڑھنے ہے وہ ہے وہ آل سے آتا تھا لگتا تھا جو ہمیشہ ڈیسک پر رکھی رہےگی دھول نو زائیدہ ک ہاں جائے گی جائے گی نہیں کہی کون پڑھےگا ا سے کتاب کو ج سے ہے وہ ہے وہ بھاو کا ابھاو ہے جھوٹ کا پربھاو ہے پھروں ایک دن ایک جھوٹا مجھ سے حقیقت کتاب لے گیا تو

Aryan Mishra

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aryan Mishra.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aryan Mishra's nazm.