nazmKuch Alfaaz

“जंग” जब राइफ़लें नहीं गाएँगी लोरियाँ और बारूद की महक को बच्चे इत्र समझ कर नहीं सूँघेंगे जब हर घर में दीवारों की जगह दरवाज़े होंगे खुले हुए तो समझ लेना जंग थक चुकी होगी जब खूँख़ार हुकूमतें किसी खेत की मेड़ पर बैठ कर फ़सलें उगाने लगेंगी और टैंकों की जगह कुआँ खोदने वाले औज़ार बाँटेंगी तो समझ लेना सियासत भी शर्मिंदा हो चली होगी जब शे'र कहने वाले ज़ख़्मों की गिनती नहीं करेंगे बल्कि मुहब्बत की बारिशों को बाँधने लगेंगे मतले में और कोई बच्चा बम की जगह काग़ज़ की नाव बनाएगा तो समझ लेना इंसानियत लौट आई होगी और हाँ जब एक शाम सीमा की दो ओर बैठे सिपाही एक ही सूरज को देख कर कहेंगे चलो घर चलते हैं तो उस दिन जंग वाक़ई ख़त्म हो चुकी होगी

Related Nazm

तुम हमारे लिए तुम हमारे लिए अर्चना बन गई हम तुम्हारे लिए एक दर्पण प्रिये तुम मिलो तो सही हाल पूछो मेरा हम न रो दें तो कह देना पत्थर प्रिये प्यार मिलना नहीं था अगर भाग्य में देवताओं ने हम सेे ये छल क्यूँ किया मेरे दिल में भरी रेत ही रेत थी दे के अमृत ये हम को विकल क्यूँ किया अप्सरा हो तो हो पर हमारे लिए तुम ही सुंदर सुकोमल सुघर हो प्रिये देवताओं के गणितीय संसार में ऐसा भी है नहीं कोई अच्छा न था हम अगर इस जनम भी नहीं मिल सके सब कहेंगे यही प्यार सच्चा न था कायरों को कभी प्यार मिलता नहीं फ़ैसला कोई ले लो कि डटकर प्रिये मम्मी कहती थीं चंदा बहुत दूर है चाँद से आगे हम को सितारा लगा यूँँ तो चेहरे ही चेहरे थे दुनिया में पर एक तेरा ही चेहरा पियारा लगा पलकों पे मेरी रख कर क़दम तुम चलो पॉंव में चुभ न जाए कि कंकड़ प्रिये

Rakesh Mahadiuree

24 likes

موتا جنگ ادھر موتا جنگ کا شور ہے خدا میرا گھر بھی اسی اور ہے تباہی کا منظر ہے جائیں جدھر ہے ٹوٹی عمارت دکانیں سبھی ہے پتھر ہی پتھر فقط راہ پر کہی چیخ نے کی صدا ہے کہی خموشی کا ہے عالم کہی خون سے لتھپت پڑا ہے کوئی ہیں تلوار ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑے کئی ستم گر بڑھاتے بغاوت لگ صاحب فن ہے سلامت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اتری خوشگوار ہے بگڑے سے حالات اب شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئی ہیں میاں کئی زندگی ختم ا سے بیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ فضا ہے وہ ہے وہ ملی ہے ہوا خوف کی سمندر لبالب ہے لاشوں سے ہی لگ ہری کوئی ی ہاں ٹھور ہے یہ اٹھتا دھواں اور جلتا مکان بتاتے ہیں خوبصورت کا یہ دور ہے

MAHESH CHAUHAN NARNAULI

16 likes

بندہ اور خدا ایک بڑھوا سی کہانی ہے جو وقار کہ منا زبانی ہے یہ حکومت آسمانی ہے ہر مخلوق روحانی ہے یہ خدا کی مہربانی ہے کی سجدوں ہے وہ ہے وہ جھکتی پیشانی ہے یہ ساری دنیا فانی ہے ہر بے وجہ کو موت آنی ہے یہ انسانیت عیاشی کی دیوانی ہے ہر بے وجہ کی ڈھلتی جوانی ہے قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا یہ آ رہے عذاب خوشگوار کی نشانی ہے یہ لوگوں کی گمراہی اور بڑی نادانی ہے کی ک ہاں اوپر خدا کو شکل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھانی ہے

ZafarAli Memon

20 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت

Varun Anand

475 likes

More from Aryan Mishra

گھر گھر کیا ہوتا ہے یہ حقیقت کمروں سے بنا ہوا چوکھانا ہے کیا جس کے ایک کمرے کی چھوئیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوکھے ہوئے گلدستے رکھے ہوئے ہیں اور نئے پھول وا سے ہے وہ ہے وہ انتظار کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل جانے کا

Aryan Mishra

1 likes

عادت حقیقت ساتھ تھا آباد تھا چنو بندشوں نکلا ہی تھا خود سے خود کو پیچھے چھوڑ کر پر ایک عادت سے نکلنے کے لیے دوسری عادت ڈال لی ڈال لی پھروں سے عادت کچھ اٹپٹے سے نام دینے کی کام دینے کی میری صبح میری شام دینے کی عادت ڈال لی پھروں سے ہے وہ ہے وہ نے نکال لی ہے وہ ہے وہ نے حقیقت پوشاکیں جو کبھی دوبارہ نہیں پہننے کا من بنایا تھا تن نہیں سجایا تھا سالو سے ہے وہ ہے وہ نے عرصے بیت گئے تھے خود کو دوسرے کی آنکھوں کے پانی ہے وہ ہے وہ دیکھے پر پھروں بھی عادت ڈال لی ہے وہ ہے وہ نے پھروں سے کچھ کیشوں کو گالوں پر سجانے کی پھروں سے ای سے سینے کی اک تکیہ بنانے کی پھروں سے 9 رات ہے وہ ہے وہ گھر دیر جانے کی غلطیاں ساری کسی کی بھول جانے کی عادت ڈال لی پھروں سے

Aryan Mishra

1 likes

کتاب ایک کتاب تھی پا سے مری وہی جسے پڑھنے ہے وہ ہے وہ آل سے آتا تھا لگتا تھا جو ہمیشہ ڈیسک پر رکھی رہےگی دھول نو زائیدہ ک ہاں جائے گی جائے گی نہیں کہی کون پڑھےگا ا سے کتاب کو ج سے ہے وہ ہے وہ بھاو کا ابھاو ہے جھوٹ کا پربھاو ہے پھروں ایک دن ایک جھوٹا مجھ سے حقیقت کتاب لے گیا تو

Aryan Mishra

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aryan Mishra.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aryan Mishra's nazm.