nazmKuch Alfaaz

जब वो मुझ को कहती थी एक शे'र सुनाओ उस के उपरी लब को चूम के हट जाता था उस के ज़ेहन में क्या आता था? तैश में आ कर कहती थी - “शे'र मुकम्मल कौन करेगा? सानी मिसरा कौन पढ़ेगा?”

Related Nazm

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

خط جاناں کو یہ بتانا تھا یا پھروں یہ سمجھانا تھا دل کی ب سے یہ چاہت تھی ب سے جاناں پر پیار لٹانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا تھا چھیڑنا جاناں کو تھوڑا تھوڑا تمہیں ستانا تھا جو روٹھ جاتے جاناں مجھ سے ہاں مجھ کو تمہیں منانا تھا پھروں جاناں کو گلے لگانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا لڑ کے بھی جاناں سوتے تو تمہارا سر سہلانا تھا مقصد صرف ایک تھا تمہارا پیار کمانا تھا ساری دنیا مٹی ہے تمہارا ساتھ خزا لگ تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ملنے جاناں سے آنا تھا یا پھروں تمہیں بلانا تھا مانگ تمہاری بھڑنی تھی اپنا تمہیں بنانا تھا تمہارا ہی اندھیرا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ا سے جیون کا ہر منظر تمہارے ساتھ بتانا تھا ہر پھیرے کا ہر وعدہ تمہارے ساتھ نبھانا تھا منگل سوتر ان ہاتھوں سے جاناں کو ہی برفیلے تھا جاناں کو یہ بتانا تھا فاصلے جتنے بھی تھے ان کو مجھے مٹانا تھا ا سے خدا سے ہر جنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا ساتھ لکھانا تھا پھروں بارات تمہاری چوکھٹ پر جاناں سے ہی بیاہ رچانا تھا<b

Divya 'Kumar Sahab'

28 likes

ہم گھوم چکے بستی بن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک آ سے کی فان سے لیے من ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی ساجن ہوں کوئی پیارا ہوں کوئی دیپک ہوں کوئی تارا ہوں جب جیون رات اندھیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں جب ساون بادل چھائی ہوں جب فاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہوں جب سورج دھوپ نہاتا ہوں یا شام نے بستی گھری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کب تک دور جھروکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب دید سے دل کو سیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں کیا جھگڑا سود گٹھلیاں کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا دنیا لے جائے جاناں ایک مجھے بہتری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں

Ibn E Insha

22 likes

تم سے بے پناہ محبت میرے نور نظر آ بھی جا تو نظر کب سنائے گا مجھ کو تو اچھی خبر تیرا عاشق بیچارا پریشان ہے تجھ سے ناراض ہے اور حیران ہے قاصد معتبر لے جا میری خبر تیری نظروں سے ملتی ہیں خاموشیاں دل میں کیوں رکھتا ہے اتنی سرگوشیاں کھول دے اب زبان اے میرے ہم سفر میرے دل کی تمنا یہیں ہیں صنم میں رہوں ساتھیا بن کے ساتوں جنم بات ہو جائے سچ تو جو کہ دے اگر ٹوٹ کر میرا دل یہ بکھر جائےگا تو نہ ہوگا تو دانش یہ مر جائےگا سوکھ جائےگا یہ زندگی کا شجر

Danish Balliavi

12 likes

More from Zubair Ali Tabish

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے

Zubair Ali Tabish

19 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's nazm.