nazmKuch Alfaaz

ہاں دیکھا کل ہم نے ا سے کو دیکھنے کا جسے ارمان تھا حقیقت جو اپنے شہر سے آگے قریہ باغ و بہاراں تھا سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے جھلسی سی ا سے بستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسا کیسا گھر کا مالک کیسا کیسا مہمان تھا سب گلیوں ہے وہ ہے وہ ترنجن تھے اور ہر ترنجن ہے وہ ہے وہ سکھیاں تھیں سب کے جی ہے وہ ہے وہ آنے والی کل کا شوق فراواں تھا اگلونہ ٹھیلوں باجوں گانجوں باراتوں کی دھو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھیں آج کوئی دیکھے تو سمجھے یہ تو صدا شایاں تھا چاروں جانب ٹھنڈے چولہے اجڑے اجڑے آنگن ہیں ورنہ ہر گھر ہے وہ ہے وہ تھے کمرے ہر کمرے ہے وہ ہے وہ سامان تھا اجلی اور پر نور شبیہیں روز نماز کو آتی تھیں مسجد کے ان طاقوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا کیا دیا فروزاں تھا اجڑی جوان فصلیں لاغر کتے ٹوٹے کھمبے خالی کھیت کیا ا سے نہر کے پل کے آگے ایسا لڑیاں تھا آج کہ اک روٹی کی خاطر کارڈ دکھاتا پھرتا ہے ملائے گا کمپ کو روٹی دے دے ایسا ایسا دہقان تھا تاب نہیں ہر ایک سے پوچھیں بابا تجھ پر کیا گزری ایک کو روک کے پوچھا ہم نے سینا ا سے کا بریاں تھا بولا لوگ تو آئیں جائیں بستی ک

Related Nazm

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

موتا جنگ ادھر موتا جنگ کا شور ہے خدا میرا گھر بھی اسی اور ہے تباہی کا منظر ہے جائیں جدھر ہے ٹوٹی عمارت دکانیں سبھی ہے پتھر ہی پتھر فقط راہ پر کہی چیخ نے کی صدا ہے کہی خموشی کا ہے عالم کہی خون سے لتھپت پڑا ہے کوئی ہیں تلوار ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پکڑے کئی ستم گر بڑھاتے بغاوت لگ صاحب فن ہے سلامت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ہے اتری خوشگوار ہے بگڑے سے حالات اب شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئی ہیں میاں کئی زندگی ختم ا سے بیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ فضا ہے وہ ہے وہ ملی ہے ہوا خوف کی سمندر لبالب ہے لاشوں سے ہی لگ ہری کوئی ی ہاں ٹھور ہے یہ اٹھتا دھواں اور جلتا مکان بتاتے ہیں خوبصورت کا یہ دور ہے

MAHESH CHAUHAN NARNAULI

16 likes

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے

Zubair Ali Tabish

19 likes

باتیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میری قلم 9 بات کرتے ہیں یہ چاند سورج کیا لگتے ہیں یہ دونوں اس کا کی آنکھیں ہیں تو پھروں یہ تارے کیا ہیں سب تارے اس کا کی بالی ہیں تو بادل کیا لگتے ہیں پھروں یہ بادل اس کا کی زلفیں ہیں تو خوشبو کیا لگتا ہے یہ خوشبو ہے نتھ اس کا کی یہ موسم کیا لگتے ہیں پھروں سب موسم اس کا کے نخرے ہیں تو پھروں ہوا کیا لگتی ہے ہوا تو اس کا کا آنچل ہے یہ ندیاں تو پھروں رہ گئیں یہ ندیاں اس کا کا کنگن ہیں تو پھروں سمندر کیا ہوا یہ سمندر پائل ہے اس کا کی پھروں پرکرتی کیا لگتی ہے یہ پرکرتی اس کا کی ساڑی ہے یہ پوری دھرتی رہ گئی یہ دھرتی اس کا کی گود ہے ان سب ہے وہ ہے وہ پھروں جاناں کیا ہوں مجھ کو اس کا کا دل سمجھ لو تمہارا دل پھروں کیا ہوا اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ پھول سمجھ لو اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ اگتا ہے اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ کھلتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی پھروں ملتا ہے روز صبح سے رات تک دیکھنے مجھ کو آتا ہے ساتھ حقیقت ہر پل چلتا ہے کنگن پائل کھنکھاتا ہے<

Divya 'Kumar Sahab'

27 likes

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے

Tehzeeb Hafi

180 likes

More from Ibn E Insha

मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं दाँत थे मैं ने दूध पिला कर सात बरस में पाले आ कर उन को ले गए चूहे लंबी मोंछों वाले गुड़ का उन को माट मिला था मीठा और मज़ेदार लाख ख़ुशामद कर के मुझ से ले लिए दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बिल्ली थी इक मामी मौसी चुपके चुपके आई पंजों पर थी देग की खुरचन होंटों पर बालाई बोली गुड़ के माट पे मैं ने चूहे देखे चार हिस्सा आधों-आध रहेगा दे दो दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बा'द में बूढ़ा मोती आया रोनी शक्ल बनाए बोला बीबी इस बिल्ली का कुछ तो करें उपाए दूध न छोड़े गोश्त न छोड़े हैं बुढ्ढा लाचार इस को करूँँ शिकार जो मुझ को दे दो दाँत उधार अच्छी मुन्नी तुम ने अपने इतने दाँत गँवाए कुछ चूहों ने कुछ बिल्ली ने कुछ मोती ने पाए बाक़ी जो दो-चार रहे हैं वो हम को दिलवाओ इक दावत में आज मिलेंगे तिक्के और पोलाव मुर्ग़ी के पाए का सालन बैगन का आचार दोगी या किसी और से माँगूँ हाँ दिए उधार बाबा हाँ हाँ दिए उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं

Ibn E Insha

0 likes

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہوں کچھ ا سے کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر ا سے پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی دیوانے کا فصل خزاں کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا ا سے کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب ا سے کی بات کو چھوڑو دیوا لگ پھروں دیوا لگ جاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسہ لے جانا آوارہ آوارہ پھروں لگ چھوڑ کے منڈلی یاروں کی دیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشا کا اب حال وہی کیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوا اٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا ا سے کا شعار ہوا طور طریقہ اُکھڑا اُکھڑا چہرہ پیلا سخت ملول راہ ہے وہ ہے وہ چنو خاک پہ کوئی مسئلہ مسئلہ باغ کا پھول شام سویرے بال ناری بیٹھا بیٹھا روتا ہے ناقوں والو ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے اپنا بھی حقیقت دوست تھا ہم بھی پا سے ا سے کے بیٹھ آتے ہیں ادھر ادھر کے قصے کہ کے جی ا سے کا بہلاتے ہیں اکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے ا گلہ یارا لگ کون ہوں جاناں ک سے کام سے آئی ہم نے لگ جاناں کو پہچانا جانے

Ibn E Insha

0 likes

لب پر نام کسی کا بھی ہو دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت عودی دھرتی چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے طوفان آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے کون ابد تک جیتا ہے رنگیں محض فسوں کا پردہ ہم تو آج کے بندے ہیں ہجر و وصل وفا اور دھوکہ سب کچھ آج پہ رکھا ہے

Ibn E Insha

0 likes

پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنٹا ہوا سایہ بان اونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواں دیکھ پہنچا ہے آخر ک ہاں سے ک ہاں جھانکتا صورت خیل آوارگاں قمری قمری بہر کاخ و کو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرثیہ سیل ظلمات کو چیرتا جل اٹھا دور بستی کا پہلا دیا پنچھیوں نے بھی پچھم کا رستہ لیا خیر جاؤ عزیزو م گر دیکھنا ایک جگنو بھی مشعل سی لے کے چلا ہے اسے بھی کوئی جستجو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں پر رواں سرمئی بادلوں ہاں تمہیں کیا فردو سے جوان اور اونچے فردو سے جوان باغ عالم کے تازہ شگفتہ گلو بے نیازا لگ مہکا کروں خوش رہو لیکن اتنا بھی سوچا کبھی ظالمو ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاں ایک ہی شہر ہے وہ ہے وہ ہم ک ہاں جاناں ک ہاں دوستوں نے بھی کانٹے ہیں دل داریاں آج وقف غم الفت رائگاں ہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراں تھے کبھی صاحب آبرو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ تانوں سے کیا کیا جتاتے نہیں ایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیں جی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیں سامنے بھی م گر آتے ج

Ibn E Insha

0 likes

شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنا ئی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح و جاں کو دستی ہے روح و جاں ہے وہ ہے وہ بستی ہے شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاک شب کی بیلوں پر شبنمی سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار کانٹے ہے اتنی بات تھوڑی ہے سد ہزار باتیں تھیں حیلہ شکیبائی صورتوں کی زیبائی کامتوں کی را'نائی ان سیاہ راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کہ سے کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنا ئی یہ نگر کبھی پہلے ای سے دودمان نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک سامان تھا آج دل ہے وہ ہے وہ ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہر جائی پھروں بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بُن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں حقیقت رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی نہ

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.