nazmKuch Alfaaz

गलियाँ और गलियों में गलियाँ छोटे घर नीचे दरवाज़े टाट के पर्दे मैली बद-रंगी दीवारें दीवारों से सर टकराती कोई गाली गलियों के सीने पर बहती गंदी नाली गलियों के माथे पर बहता आवाज़ों का गंदा नाला आवाज़ों की भीड़ बहुत है इंसानों की भीड़ बहुत है कड़वे और कसीले चेहरे बद-हाली के ज़हरस हैं ज़हरीले चेहरे बीमारी से पीले चेहरे मरते चेहरे हारे चेहरे बे-बस और बेचारे चेहरे सारे चेहरे एक पहाड़ी कचरे की और उस पर फिरते आवारा कुत्तों से बच्चे अपना बचपन ढूँड रहे हैं दिन ढलता है इस बस्ती में रहने वाले औरों की जन्नत को अपनी मेहनत दे कर अपने जहन्नम की जानिब अब थके हुए झुँझलाए हुए से लौट रहे हैं एक गली में ज़ंग लगे पीपे रक्खे हैं कच्ची दारू महक रही है आज सवेरे से बस्ती में क़त्ल-ओ-ख़ूँ का चाक़ू-ज़नी का कोई क़िस्सा नहीं हुआ है ख़ैर अभी तो शाम है पूरी रात पड़ी है यूँँ लगता है सारी बस्ती जैसे इक दुखता फोड़ा है यूँँ लगता है सारी बस्ती जैसे है इक जलता कढ़ाव यूँँ लगता है जैसे ख़ुदा नुक्कड़ पर बैठा टूटे-फूटे इंसाँ औने-पौने दामों बेच रहा है!

Related Nazm

انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں

Faiz Ahmad Faiz

27 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

More from Javed Akhtar

گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوں باہر نکلو دیکھو کیا حال ہے دنیا کا یہ کیا عالم ہے سونی آنکھیں ہیں سبھی خوشیوں سے خالی چنو آؤ ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیں یہ جو ماتھے ہیں اداسی کی لکیروں کے تلے آؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیں چہروں سے گہری یہ بیتابی مٹا کے آؤ ان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیں دور تک جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ویرانے نظر آتے ہیں آؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیں لفظ در لفظ سمندر سا بہے موج ب موج بہر نغمات ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کوہ ستم حل ہوں جائے دنیا دنیا لگ رہے ایک غزل ہوں جائے

Javed Akhtar

1 likes

जाने किस की तलाश उन की आँखों में थी आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे जितना भी वो चले इतने ही बिछ गए राह में फ़ासले ख़्वाब मंज़िल थे और मंज़िलें ख़्वाब थीं रास्तों से निकलते रहे रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे जिन पे सब चलते हैं ऐसे सब रास्ते छोड़ के एक अंजान पगडंडी की उँगली था में हुए इक सितारे से उम्मीद बाँधे हुए सम्त की हर गुमाँ को यक़ीं मान के अपने दिल से कोई धोका खाते हुए जान के सहरा सहरा समुंदर को वो ढूँडते कुछ सराबों की जानिब रहे गामज़न यूँँ नहीं था कि उन को ख़बर ही न थी ये समुंदर नहीं लेकिन उन को कहीं शायद एहसास था ये फ़रेब उन को महव-ए-सफ़र रक्खेगा ये सबब था कि था और कोई सबब जो लिए उन को फिरता रहा मंज़िलों मंज़िलों रास्ते रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे अक्सर ऐसा हुआ शहर-दर-शहर और बस्ती बस्ती किसी भी दरीचे में कोई चराग़-ए-मोहब्बत न था बे-रुख़ी से भरी सारी गलियों में सारे मकानों के दरवाज़े यूँँ बंद थे जैसे इक सर्द ख़ामोश लहजे में वो कह रहे हों मुरव्वत का और मेहरबानी का मस्कन कहीं और होगा यहाँ तो नहीं है यही एक मंज़र समेटे थे शहरों के पथरीले सब रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे और कभी यूँँ हुआ आरज़ू के मुसाफ़िर थे जलती सुलगती हुई धूप में कुछ दरख़्तों ने साए बिछाए मगर उन को ऐसा लगा साए में जो सुकून और आराम है मंज़िलों तक पहुँचने न देगा उन्हें और यूँँ भी हुआ महकी कलियों ने ख़ुशबू के पैग़ाम भेजे उन्हें उन को ऐसा लगा चंद कलियों पे कैसे क़नाअ'त करें उन को तो ढूँढ़ना है वो गुलशन कि जिस को किसी ने अभी तक है देखा नहीं जाने क्यूँँ था उन्हें इस का पूरा यक़ीं देर हो या सवेर उन को लेकिन कहीं ऐसे गुलशन के मिल जाएँगे रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे धूप ढलने लगी बस ज़रा देर में रात हो जाएगी आरज़ू के मुसाफ़िर जो हैं उन के क़दमों तले जो भी इक राह है वो भी शायद अँधेरे में खो जाएगी आरज़ू के मुसाफ़िर भी अपने थके-हारे बे-जान पैरों पे कुछ देर तक लड़खड़ाएँगे और गिर के सो जाएँगे सिर्फ़ सन्नाटा सोचेगा ये रात भर मंज़िलें तो उन्हें जाने कितनी मिलीं ये मगर मंज़िलों को समझते रहे जाने क्यूँँ रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे और फिर इक सवेरे की उजली किरन तीरगी चीर के जगमगा देगी जब अन-गिनत रहगुज़ारों पे बिखरे हुए उन के नक़्श-ए-क़दम आफ़ियत-गाहों में रहने वाले ये हैरत से मजबूर हो के कहेंगे ये नक़्श-ए-क़दम सिर्फ़ नक़्श-ए-क़दम ही नहीं ये तो दरयाफ़्त हैं ये तो ईजाद हैं ये तो अफ़्कार हैं ये तो अश'आर हैं ये कोई रक़्स हैं ये कोई राग हैं इन से ही तो हैं आरास्ता सारी तहज़ीब ओ तारीख़ के वक़्त के ज़िंदगी के सभी रास्ते वो मुसाफ़िर मगर जानते-बूझते भी रहे बे-ख़बर जिस को छू लें क़दम वो तो बस राह थी उन की मंज़िल दिगर थी अलग चाह थी जो नहीं मिल सके उस की थी आरज़ू जो नहीं है कहीं उस की थी जुस्तुजू शायद इस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे

Javed Akhtar

1 likes

عجیب قصہ ہے جب یہ دنیا سمجھ رہی تھی جاناں اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں تو ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی تھی جو کہ مری بھی تھی تمہاری بھی تھی ج ہاں فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کے خواب جاگتے تھے ج ہاں ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیں ج ہاں کے پھولوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی آرزو کے سب رنگ کھیل رہے تھے ج ہاں پہ دونوں کی جرأتوں کے ہزار چشمے عرو سے دہر رہے تھے لگ رلا تھے لگ رنج و غم تھے سکون کا گہرا اک سمندر تھا اور ہم تھے عجیب قصہ ہے ساری دنیا نے جب یہ جانا کہ ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی ہے تو ہر ایک ابرو نے چنو ہم پر کمان تانی تمام پیشانیوں پہ ابھریں غم اور نبھائیے کی گہری شکنیں کسی کے لہجے سے تلخی چھلکی کسی کی باتوں ہے وہ ہے وہ ترشی آئی کسی نے چاہا کہ کوئی دیوار ہی اٹھا دے کسی نے چاہا ہماری دنیا ہی حقیقت مٹا دے م گر زمانے کو شفت تھا زما لگ ہارا یہ ساری دنیا کو ماننا ہی پڑا ہ

Javed Akhtar

0 likes

ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت تمام حیرت تمام حیرت یہ کیا تماشا یہ کیا سماں ہے یہ کیا عیاں ہے یہ کیا ن ہاں ہے اتھاہ میک اپ ہے اک خلا کا لگ جانے کب سے لگ جانے کب تک ک ہاں تلک ہے ہماری دی کی انتہا ہے جسے سمجھتے ہیں ہم فلک ہے یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آ سماں ہے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جگنو کی شکل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے شمار سورج پگھل رہے ہیں شہاب ثاقب ہے یا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو آگ کے تیر چل رہے ہیں کروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں ہے وہ ہے وہ پھیلی یہ کہکشائیں خلا گھیرے ہیں یا خلاوں کی قید ہے وہ ہے وہ ہے یہ کون ک سے کو لیے چلا ہے ہر ایک لمحہ کروڑوں میلوں کی جو مسافت ہے ان کو آخر ک ہاں ہے جانا ا گر ہے ان کا کہی کوئی آخری ہری تو حقیقت ک ہاں ہے ج ہاں کہی ہے سوال یہ ہے و ہاں سے آگے کوئی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے کوئی فلک ہے ا گر نہیں ہے تو یہ نہیں کتنی دور تک ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت<

Javed Akhtar

0 likes

آنکھ کھل گئی مری ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ پھروں زندہ پیٹ کے اندھیروں سے ذہن کے دھندلکوں تک ایک سانپ کے جیسا رینگتا خیال آیا آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے اک عجیب خموشی منجمد ہے کمرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک خو اور اک چھت اور چار دیواریں مجھ سے بے تعلق سب سب مری تماشائی سامنے کی کھڑکی سے تیز دھوپ کی کرنیں آ رہی ہیں بستر پر چبھ رہی ہیں چہرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دودمان نوکیلی ہیں چنو ڈ گر کے طنز مری غربت پر آنکھ کھل گئی مری آج جگ ہوں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف کھول باقی ہے آج مری بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈیوٹی ہے میرا ڈھانچا اپنی مردہ آنکھوں سے دیکھتا ہے کمرے کو آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے دوپہر کی گرمی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے ارادہ قدموں سے اک سڑک پہ چلتا ہوں تنگ سی سڑک پر ہیں دونوں سمت دکانیں خالی خالی آنکھوں سے ہر دکان کا تختہ صرف دیکھ سکتا ہوں اب پڑھا نہیں جاتا لوگ آتے جاتے ہیں پا سے سے گزرنے ہیں پھروں بھی کتنے دھندلے ہیں سب ہیں چنو بے چہرہ شور ان دکانوں کا راہ

Javed Akhtar

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Javed Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Javed Akhtar's nazm.