عجیب قصہ ہے جب یہ دنیا سمجھ رہی تھی جاناں اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں تو ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی تھی جو کہ مری بھی تھی تمہاری بھی تھی ج ہاں فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کے خواب جاگتے تھے ج ہاں ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیں ج ہاں کے پھولوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی آرزو کے سب رنگ کھیل رہے تھے ج ہاں پہ دونوں کی جرأتوں کے ہزار چشمے عرو سے دہر رہے تھے لگ رلا تھے لگ رنج و غم تھے سکون کا گہرا اک سمندر تھا اور ہم تھے عجیب قصہ ہے ساری دنیا نے جب یہ جانا کہ ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی ہے تو ہر ایک ابرو نے چنو ہم پر کمان تانی تمام پیشانیوں پہ ابھریں غم اور نبھائیے کی گہری شکنیں کسی کے لہجے سے تلخی چھلکی کسی کی باتوں ہے وہ ہے وہ ترشی آئی کسی نے چاہا کہ کوئی دیوار ہی اٹھا دے کسی نے چاہا ہماری دنیا ہی حقیقت مٹا دے م گر زمانے کو شفت تھا زما لگ ہارا یہ ساری دنیا کو ماننا ہی پڑا ہ
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا
Jaun Elia
216 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے
Sandeep Thakur
21 likes
More from Javed Akhtar
مری رستے ہے وہ ہے وہ اک موڑ تھا اور ا سے موڑ پر پیڑ تھا ایک برگد کا اونچا شوالہ ج سے کے سائے ہے وہ ہے وہ میرا بے حد سمے بیتا ہے لیکن ہمیشہ یہی ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ رستے ہے وہ ہے وہ یہ موڑ ہی ا سے لیے ہے کہ یہ پیڑ ہے عمر کی آندھیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ ایک دن گر گیا تو ہے موڑ لیکن ہے اب تک وہیں کا وہیں دیکھتا ہوں تو آگے بھی رستے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے موڑ ہی موڑ ہیں پیڑ کوئی نہیں راستوں ہے وہ ہے وہ مجھے یوں تو مل جاتے ہیں مہرباں پھروں بھی ہر موڑ پر پوچھتا ہے یہ دل حقیقت جو اک چھاؤں تھی کھو گئی ہے ک ہاں
Javed Akhtar
0 likes
کچھ جاناں نے کہا کچھ ہے وہ ہے وہ نے کہا اور بڑھتے بڑھتے بات بڑھی دل اوب گیا تو دل ڈوب گیا تو اور گہری کالی رات بڑھی جاناں اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سارے دروازے بند کیے بیٹھے ہیں کڑوے گھونٹ پیے اوڑھے ہیں نبھائیے کی چادر کچھ جاناں سوچو کچھ ہے وہ ہے وہ سوچوں کیوں اونچی ہیں یہ دیواریں کب تک ہم ان پر سر ماریں کب تک یہ اندھیرے رہنے ہیں کی لگ کے یہ گھیرے رہنے ہیں چلو اپنے دروازے کھولیں اور گھر کے باہر آئیں ہم دل ٹھہرے ج ہاں ہیں برسوں سے حقیقت اک نکڑ ہے خوبصورت کا کب تک ا سے نکڑ پر ٹھہرے اب ا سے کے آگے جائیں ہم ب سے تھوڑی دور اک دریا ہے ج ہاں ایک اجالا بہتا ہے واں لہروں لہروں ہیں کرنیں اور کرنوں کرنوں ہیں لہریں ان کرنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان لہروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم دل کو خوب نہانے دیں سینوں ہے وہ ہے وہ جو اک پتھر ہے ا سے پتھر کو گھل جانے دیں دل کے اک کونے ہے وہ ہے وہ بھی چھپی گر تھوڑی سی بھی خوبصورت ہے ا سے خوبصورت کو دھل جانے دیں دونوں کی طرف سے ج سے دن بھی اظہار ندا
Javed Akhtar
3 likes
ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت تمام حیرت تمام حیرت یہ کیا تماشا یہ کیا سماں ہے یہ کیا عیاں ہے یہ کیا ن ہاں ہے اتھاہ میک اپ ہے اک خلا کا لگ جانے کب سے لگ جانے کب تک ک ہاں تلک ہے ہماری دی کی انتہا ہے جسے سمجھتے ہیں ہم فلک ہے یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آ سماں ہے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جگنو کی شکل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے شمار سورج پگھل رہے ہیں شہاب ثاقب ہے یا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو آگ کے تیر چل رہے ہیں کروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں ہے وہ ہے وہ پھیلی یہ کہکشائیں خلا گھیرے ہیں یا خلاوں کی قید ہے وہ ہے وہ ہے یہ کون ک سے کو لیے چلا ہے ہر ایک لمحہ کروڑوں میلوں کی جو مسافت ہے ان کو آخر ک ہاں ہے جانا ا گر ہے ان کا کہی کوئی آخری ہری تو حقیقت ک ہاں ہے ج ہاں کہی ہے سوال یہ ہے و ہاں سے آگے کوئی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے کوئی فلک ہے ا گر نہیں ہے تو یہ نہیں کتنی دور تک ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت<
Javed Akhtar
0 likes
گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوں باہر نکلو دیکھو کیا حال ہے دنیا کا یہ کیا عالم ہے سونی آنکھیں ہیں سبھی خوشیوں سے خالی چنو آؤ ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیں یہ جو ماتھے ہیں اداسی کی لکیروں کے تلے آؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیں چہروں سے گہری یہ بیتابی مٹا کے آؤ ان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیں دور تک جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ویرانے نظر آتے ہیں آؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیں لفظ در لفظ سمندر سا بہے موج ب موج بہر نغمات ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کوہ ستم حل ہوں جائے دنیا دنیا لگ رہے ایک غزل ہوں جائے
Javed Akhtar
1 likes
दिल वो सहरा था कि जिस सहरा में हसरतें रेत के टीलों की तरह रहती थीं जब हवादिस की हवा उन को मिटाने के लिए चलती थी यहाँ मिटती थीं कहीं और उभर आती थीं शक्ल खोते ही नई शक्ल में ढल जाती थीं दिल के सहरा पे मगर अब की बार सानेहा गुज़रा कुछ ऐसा कि सुनाए न बने आँधी वो आई कि सारे टीले ऐसे बिखरे कि कहीं और उभर ही न सके यूँँ मिटे हैं कि कहीं और बनाए न बने अब कहीं टीले नहीं रेत नहीं रेत का ज़र्रा नहीं दिल में अब कुछ नहीं दिल को सहरा भी अगर कहिए तो कैसे कहिए
Javed Akhtar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's nazm.







