nazmKuch Alfaaz

دسمبر مجھے را سے آتا نہیں کئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسل دل و جان ہے وہ ہے وہ سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے زلزلوں کی طرح ہانفتہ ہے چٹختے ہوئے خواب آنکھوں کی چھوؤں گا رگیں چھیلتے ہیں م گر ہے وہ ہے وہ اک سال کی گود ہے وہ ہے وہ جاگتی صبح کو بے کرانچاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر اب تک وہی جستجو کا سفر کر رہا ہوں گزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرا م گر سال کے آخری دن نہایت کٹھن ہیں مری ملنے والو نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئی تو ملنا کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ شورش ہوا دل دھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیں دسمبر مجھے را سے آتا نہیں

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو

Abrar Kashif

50 likes

More from Mohsin Naqvi

اسے کہنا چیزیں سے محبت تو نہیں مرتی بچھڑ جانا محبت کی صداقت کی علامت ہے محبت ایک فطرت ہے ہاں فطرت کب بدلتی ہے سو جب ہم دور ہوں جائیں نئے رشتوں ہے وہ ہے وہ کھو جائیں تو یہ مت سوچ لینا جاناں کے محبت مر گئی ہوں گی نہیں ایسے نہیں ہوگا مری بارے ہے وہ ہے وہ گر تمہاری آنکھیں بھر آئیں چھلک کر ایک بھی آنسو پلک پہ جو اتر آئی تو ب سے اتنا سمجھ لینا جو مری نام سے اتنی تری دل کو عقیدت ہے تری دل ہے وہ ہے وہ بچھڑ کر بھی ابھی مری محبت ہے محبت تو بچھڑ کر بھی صدا آباد رہتی ہے محبت ہوں کسی سے تو ہمیشہ یاد رہتی ہے محبت سمے کے بے رحم طوفان سے نہیں ڈرتی

Mohsin Naqvi

10 likes

مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کے دور جانے سے تعلق ٹوٹ جانے سے کسی کے مان جانے سے کسی کے روٹھ جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو سے کسی کے سے کسی کو یاد رکھنے سے کسی کو بھول جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو چھوڑ دینے سے کسی کے چھوڑ جانے سے لگ شمع کو جلانے سے لگ شمع کو بجھانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا اکیلے مسکرانے سے کبھی آنسو بہانے سے لگ ا سے سارے زمانے سے حقیقت سے فسانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کی نا رسائی سے کسی کی پارسائی سے کسی کی بے وفائی سے کسی دکھ انتہائی سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا لگ تو ا سے پار رہنے سے لگ تو ا سے پار رہنے سے لگ اپنی زندگانی سے لگ اک دن موت آنے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا

Mohsin Naqvi

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mohsin Naqvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mohsin Naqvi's nazm.