خواب نہیں دیکھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے رات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کا او سے کی بوندوں ہے وہ ہے وہ سورج کے سما جانے کا چاند سی مٹی کے ذروں سے صدا آنے کا شہر سے دور کسی گاؤں ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا کھیت خلیانو لگ ہے وہ ہے وہ باغوں ہے وہ ہے وہ کہی گانے کا صبح گھر چھوڑنے کا دیر سے گھر آنے کا بہتے جھرنوں کی کھنکتی ہوئی آوازوں کا چہچہاتی ہوئی چڑیوں سے ل گرا شاخوں کا نرگسی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہنستی ہوئی نادانی کا مسکراتے ہوئے چہرے کی غزل فیلنگ کا تیرا ہوں جانے تری پیار ہے وہ ہے وہ کھو جانے کا تیرا کہلانے کا تیرا ہی نظر آنے کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے
Related Nazm
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
اک خط مجھے لکھنا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ بسے دل کو اک دن مجھے چکھنا ہے خاجہ تیری نگری کا خسرو تیری چوکھٹ سے اک شب مجھے پینی ہے لذت سخنوالی خوشبو اے وطن والی تاکتے تری مرقد کو اک شعر سنہانا ہے اک سانولی رنگت کو چپکے سے بتانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل بھی ہوں دہلی بھی اردو بھی ہوں ہم رہی بھی اک خط مجھے لکھنا ہے ممکن ہے کبھی لکھوں ممکن ہے ابھی لکھوں
Ali Zaryoun
25 likes
خط جاناں کو یہ بتانا تھا یا پھروں یہ سمجھانا تھا دل کی ب سے یہ چاہت تھی ب سے جاناں پر پیار لٹانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا تھا چھیڑنا جاناں کو تھوڑا تھوڑا تمہیں ستانا تھا جو روٹھ جاتے جاناں مجھ سے ہاں مجھ کو تمہیں منانا تھا پھروں جاناں کو گلے لگانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا لڑ کے بھی جاناں سوتے تو تمہارا سر سہلانا تھا مقصد صرف ایک تھا تمہارا پیار کمانا تھا ساری دنیا مٹی ہے تمہارا ساتھ خزا لگ تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ملنے جاناں سے آنا تھا یا پھروں تمہیں بلانا تھا مانگ تمہاری بھڑنی تھی اپنا تمہیں بنانا تھا تمہارا ہی اندھیرا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ا سے جیون کا ہر منظر تمہارے ساتھ بتانا تھا ہر پھیرے کا ہر وعدہ تمہارے ساتھ نبھانا تھا منگل سوتر ان ہاتھوں سے جاناں کو ہی برفیلے تھا جاناں کو یہ بتانا تھا فاصلے جتنے بھی تھے ان کو مجھے مٹانا تھا ا سے خدا سے ہر جنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا ساتھ لکھانا تھا پھروں بارات تمہاری چوکھٹ پر جاناں سے ہی بیاہ رچانا تھا<b
Divya 'Kumar Sahab'
28 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
More from Waseem Barelvi
کھلونا دیر سے ایک ناسمجھ بچہ اک کھلونے کے ٹوٹ جانے پر ا سے طرح سے ادا سے بیٹھا ہے چنو میت قریب رکھی ہوں اور مرنے کے بعد ہر ہر بات مرنے والے کی یاد آتی ہوں جانے کیا کیا ذرا بناو سے سوچ لیتا ہے اور روتا ہے لیکن اتنی خبر ک ہاں ا سے کو زندگی کے عجیب ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھی مٹی کا اک کھلونا ہے
Waseem Barelvi
3 likes
میرا شہر شہر میرا ادا سے گنگا سا کوئی بھی آئی اور اپنے پاپ کھو کے جاتا ہے دھوکے جاتا ہے آگ کا کھیل کھیلنے والے یہ نہیں جانتے کہ پانی کا آگ سے بیر ہے ہمیشہ کا آگ کتنی ہی خوفناک صحیح ا سے کی لپٹوں کی عمر تھوڑی ہے اور گنگا کے صاف پانی کو آج بہنا ہے کل بھی بہنا ہے جانے ک سے ک سے کا درد سہنا ہے شہر میرا ادا سے گنگا سا
Waseem Barelvi
2 likes
قیامت سمے کے تیز گام دریا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کسی موج کی طرح ابھری آنکھوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہوں گئی اوجھل اور ہے وہ ہے وہ ایک بلبلے کی طرح اسی دریا کے اک کنارے پر نرکولوں کے مہیب جھاوے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا الجھا کہ یہ بھی بھول گیا تو بلبلے کی بسات ہی کیا تھی
Waseem Barelvi
1 likes
دیوانے کی جنت میرا یہ خواب کہ جاناں میرے قریب آئی ہوں اپنے سائے سے جھجھکتی ہوئی گھبراتی ہوئی اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئی اپنے قدموں کی بھی آواز سے کترا تی ہوئی اپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لیے اپنی خاموشی ہے وہ ہے وہ گہنائے مقام غزل ہوئے راز لیے اپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لیے دل کی دھڑکن کو بہت روکتی سمجھاتی ہوئی اپنی پائل کی غزل خوانی پہ جھلاتی ہوئی نرم شانے پہ جوانی کا نیا بار لیے شوخ آنکھوں ہے وہ ہے وہ حجابات سے انکار لیے تیز نبضوں ہے وہ ہے وہ ملاقات کے آثار لیے کالے بالوں سے بکھرتی ہوئی چمپا کی مہک سرخ آرِز پہ دمکتے ہوئے شالوں کی چمک نیچی نظروں ہے وہ ہے وہ سمائی ہوئی دودمان جھجک نقرئی جسم پہ حقیقت چاند کی کرنوں کی فوار چاندنی رات ہے وہ ہے وہ شورش ہوا پلکوں کا ستار فرت جذبات سے مہکی ہوئی سانسوں کی قطار دور ماضی کی بد انجام روایات لیے نیچی نظریں وہی احساس ملاقات لیے وہی ماحول وہی تاروں بھری رات لیے آج جاناں آئی ہوں دوہراتی ہوئی ماضی کو میرا یہ خواب کہ جاناں میرے قریب آئی ہوں کاش اک خواب رہے
Waseem Barelvi
3 likes
ادنا سا باسی کل بھی مری پیا سے پہ دریا ہنستے تھے آج بھی مری درد کا درماں کوئی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دھرتی کا ادنا سا باسی ہوں سچ پوچھو تو مجھ سا پریشاں کوئی نہیں کیسے کیسے خواب بنے تھے آنکھوں نے آج بھی ان خوابوں سا ارزاں کوئی نہیں کل بھی مری زخم بھونائے جاتے تھے آج بھی مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ داماں کوئی نہیں کل میرا نیلام کیا تھا غیروں نے آج تو مری اپنے بیچے دیتے ہیں سچ پوچھو تو مری غلطیاں ب سے اتنی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دھرتی کا ادنا سا باسی ہوں
Waseem Barelvi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's nazm.







