کتابیں کتابیں سوئی ہوئی ہیں الماریوں ہے وہ ہے وہ سکون سے یوں دیکھتے ہوئے خواب کوئی تو جگا دے ان کو دھول اتنی ہے ان پر چنو لپٹی ہوئی ہیں دل سے چاہتی ہیں کتابیں کوئی تو چھو لے ان کو دماغ کی الماری ج سے سے کھلتی ہے ان چابیوں کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی تو پوچھے ان کو یہ فی سے بک واٹ سے ایپ انسٹاگرام سے ملے جو فرصت کتابیں چاہتی ہیں عاشق ایسے کوئی تو ملے ان کو دل ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھے ہیں کتنے راز یادیں غضب بے حد کچھ کتابیں چاہتی ہیں بیٹھ کے کوئی تو معیار سمجھے ان کو
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو
Gulzar
68 likes
More from Vinod Ganeshpure
کھو گیا تو ہوں تجھے دیکھا لگا مجھ کو وہی پھروں کھو گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہوش ا سے دن سے ترا جو ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگے دن رات اک جیسی خوشی ہے وہ ہے وہ سو گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے اک یاد اب تو ہے مسافر ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ستائے جا رہی دنیا ترا دل ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ
Vinod Ganeshpure
2 likes
"इश्क़" इक पल पल सा वक़्त हर दिन गुज़रता हैं क्यूँँ न जाने दिल भी हरदम दूरियों से डरता है क्यूँँ इश्क़ में हम डूबे हुए हैं एक-दूसरे के इतने चाह के दिल-ओ-जान से दर्द ये मिलता है क्यूँँ शिकायत किस से ही करें मना करने के बा'द भी न जाने कैसे भला प्यार में ये दिल पिघलता है क्यूँँ
Vinod Ganeshpure
1 likes
راحت سجنے سنورنے کا ہے اک ب سے لالچ اس کا کو دیکھ ا سے کو تعریف کر دوں اک ب سے چاہت اس کا کو مجھے اچھا لگے کچھ بھی ا سے کی کوئی بھی تو خوبی مل جاتی ہے پھروں اسے بڑی اک ب سے راحت اس کا کو یوں ملے لگ ملے بھی روٹھتی نہیں حقیقت کبھی بھی مجھے ا سے کی یاد ستاتا ہر پل اک ب سے چاہت اس کا کو کون ہے دل کو دل دینے والا ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بلانے پر ا سے کے صرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ چھوڑ آ جاؤں ا سے کے لیے پھروں ملتی ہے اک ب سے راحت اس کا کو
Vinod Ganeshpure
1 likes
بے داغ بے داغ رہ کر کیا کریں ہم داغ سہ کر کیا کریں دنیا خیال و خواب دے اک ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم آگ سہ کر کیا کریں حقیقت چھوڑ کر ہم کو گئے بیراغ سہ کر کیا کریں حقیقت روز جنگل دے جلا بن باغ سہ کر کیا کریں حقیقت لوٹ کر سب کچھ گئے ہم تیاگ سہ کر کیا کریں
Vinod Ganeshpure
1 likes
سناٹا تری آنکھیں نہیں ہوتی لگ سناٹا کہی ہوتا اکیلی تو نہیں ہوتی اطراف ہے وہ ہے وہ نہیں ہوتا بتائیں کیا جتائیں کیا سنبھالا ہیں ستائیں کیا اتارو جاناں نظر مری زبان سے ہم بتائیں کیا گھنی راتیں جلاتی ہیں تری یادیں ستاتی ہیں نہیں رہنا مجھے اب تو نہیں کہنا تجھے ہے کچھ
Vinod Ganeshpure
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vinod Ganeshpure.
Similar Moods
More moods that pair well with Vinod Ganeshpure's nazm.







