بے داغ بے داغ رہ کر کیا کریں ہم داغ سہ کر کیا کریں دنیا خیال و خواب دے اک ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم آگ سہ کر کیا کریں حقیقت چھوڑ کر ہم کو گئے بیراغ سہ کر کیا کریں حقیقت روز جنگل دے جلا بن باغ سہ کر کیا کریں حقیقت لوٹ کر سب کچھ گئے ہم تیاگ سہ کر کیا کریں
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
خدا ناراض غصہ ہے غصہ ہے مذہب کی بات پر کیوں اٹھ رہے سوال ہے بےحال ہے بےحال ہے سب مکڑیوں کے جال ہے دنیا ہے وہ ہے وہ رہنا بھی اب بے حد بڑا جنجال ہے نڈھال ہے نڈھال ہے گزر رہی جو زندگی یہ دن ہے یا کوئی سال ہے مجھے آج کی فکر تو ہے مجھے کل کا بھی خیال ہے نقاب ہے نقاب ہے ہر چہرے پر نقاب ہے جو بے وجہ کی یہ ذات ہے حقیقت سانپ کا بھی باپ ہے جو دو رخا کردار ہے غضب ہے بے مثال ہے دلال ہے دلال ہے سب سوچ کے دلال ہے گناہ بھی ا سے کا ماف ہے سب پیسے کی یہ چال ہے کیا کال ہے کیا کال ہے خدا بھی جو ناراض ہے عبادتوں ہے وہ ہے وہ مل رہے جلدبازی کے اعمال ہے خود سوچنا اب تو تو ذرا مذہب کی بات پر کیوں اٹھ رہے سوال ہے غصہ ہے غصہ ہے
ZafarAli Memon
17 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
More from Vinod Ganeshpure
کھو گیا تو ہوں تجھے دیکھا لگا مجھ کو وہی پھروں کھو گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہوش ا سے دن سے ترا جو ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگے دن رات اک جیسی خوشی ہے وہ ہے وہ سو گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے اک یاد اب تو ہے مسافر ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ستائے جا رہی دنیا ترا دل ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ
Vinod Ganeshpure
2 likes
کتابیں کتابیں سوئی ہوئی ہیں الماریوں ہے وہ ہے وہ سکون سے یوں دیکھتے ہوئے خواب کوئی تو جگا دے ان کو دھول اتنی ہے ان پر چنو لپٹی ہوئی ہیں دل سے چاہتی ہیں کتابیں کوئی تو چھو لے ان کو دماغ کی الماری ج سے سے کھلتی ہے ان چابیوں کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی تو پوچھے ان کو یہ فی سے بک واٹ سے ایپ انسٹاگرام سے ملے جو فرصت کتابیں چاہتی ہیں عاشق ایسے کوئی تو ملے ان کو دل ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھے ہیں کتنے راز یادیں غضب بے حد کچھ کتابیں چاہتی ہیں بیٹھ کے کوئی تو معیار سمجھے ان کو
Vinod Ganeshpure
1 likes
"इश्क़" इक पल पल सा वक़्त हर दिन गुज़रता हैं क्यूँँ न जाने दिल भी हरदम दूरियों से डरता है क्यूँँ इश्क़ में हम डूबे हुए हैं एक-दूसरे के इतने चाह के दिल-ओ-जान से दर्द ये मिलता है क्यूँँ शिकायत किस से ही करें मना करने के बा'द भी न जाने कैसे भला प्यार में ये दिल पिघलता है क्यूँँ
Vinod Ganeshpure
1 likes
خدا ہر کسی کی چاہ کیا کیسے پتا ہوں صاف کہ دو سب خدا تو ہوں نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ کا ہے درد مجھ کو کیوں پتا ہوں آپ سے یوں اب جدا تو ہوں نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد رکھ آباد ہے آواز تیری تو کبھی لڑ یوں شدہ تو ہوں نہیں ہے وہ ہے وہ
Vinod Ganeshpure
1 likes
تو ہے مورنی تو چاند ہے چنو ہے آسمان کی شان تو خواب ہے چنو روشنی ہوں دن کے ہر پل ساتھ تو خوشی ہے چنو ہوتے ہر پل ہے آنکھوں کے ساتھ تو رات ہے دل کی ہوں انکہی سی بات تو ہے مورنی ناچے جو میگھ کرتے ہیں برسات
Vinod Ganeshpure
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vinod Ganeshpure.
Similar Moods
More moods that pair well with Vinod Ganeshpure's nazm.







