nazmKuch Alfaaz

کھو گیا تو ہوں تجھے دیکھا لگا مجھ کو وہی پھروں کھو گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہوش ا سے دن سے ترا جو ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگے دن رات اک جیسی خوشی ہے وہ ہے وہ سو گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے اک یاد اب تو ہے مسافر ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ستائے جا رہی دنیا ترا دل ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

کیوں الجھا الجھا رہتے ہوں کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیا اب بھی تنہا راتیں ہیں کیا درد ہی دل بہلاتے ہیں کیوں محفل را سے نہیں آتی کیوں کوئل گیت نہیں گاتی کیوں پھولوں سے خوشبو گم ہے کیوں بھونرا گم سم گم سم ہے ان باتوں کا کیا زار ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیوں اماں کی کم سنتے ہوں کیا بھیتر بھیتر گنتے ہوں کیوں ہنسنا رونا بھول گئے کیوں لکڑی چنو گھنتے ہوں کیا دل کو کہی لگائے ہوں کیا عشق ہے وہ ہے وہ دھوکہ کھائے ہوں کیا ایسا ہی کچھ مسئلہ ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں

Raghav Ramkaran

42 likes

More from Vinod Ganeshpure

"इश्क़" इक पल पल सा वक़्त हर दिन गुज़रता हैं क्यूँँ न जाने दिल भी हरदम दूरियों से डरता है क्यूँँ इश्क़ में हम डूबे हुए हैं एक-दूसरे के इतने चाह के दिल-ओ-जान से दर्द ये मिलता है क्यूँँ शिकायत किस से ही करें मना करने के बा'द भी न जाने कैसे भला प्यार में ये दिल पिघलता है क्यूँँ

Vinod Ganeshpure

1 likes

کتابیں کتابیں سوئی ہوئی ہیں الماریوں ہے وہ ہے وہ سکون سے یوں دیکھتے ہوئے خواب کوئی تو جگا دے ان کو دھول اتنی ہے ان پر چنو لپٹی ہوئی ہیں دل سے چاہتی ہیں کتابیں کوئی تو چھو لے ان کو دماغ کی الماری ج سے سے کھلتی ہے ان چابیوں کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی تو پوچھے ان کو یہ فی سے بک واٹ سے ایپ انسٹاگرام سے ملے جو فرصت کتابیں چاہتی ہیں عاشق ایسے کوئی تو ملے ان کو دل ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھے ہیں کتنے راز یادیں غضب بے حد کچھ کتابیں چاہتی ہیں بیٹھ کے کوئی تو معیار سمجھے ان کو

Vinod Ganeshpure

1 likes

راحت سجنے سنورنے کا ہے اک ب سے لالچ اس کا کو دیکھ ا سے کو تعریف کر دوں اک ب سے چاہت اس کا کو مجھے اچھا لگے کچھ بھی ا سے کی کوئی بھی تو خوبی مل جاتی ہے پھروں اسے بڑی اک ب سے راحت اس کا کو یوں ملے لگ ملے بھی روٹھتی نہیں حقیقت کبھی بھی مجھے ا سے کی یاد ستاتا ہر پل اک ب سے چاہت اس کا کو کون ہے دل کو دل دینے والا ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بلانے پر ا سے کے صرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ چھوڑ آ جاؤں ا سے کے لیے پھروں ملتی ہے اک ب سے راحت اس کا کو

Vinod Ganeshpure

1 likes

بے داغ بے داغ رہ کر کیا کریں ہم داغ سہ کر کیا کریں دنیا خیال و خواب دے اک ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم آگ سہ کر کیا کریں حقیقت چھوڑ کر ہم کو گئے بیراغ سہ کر کیا کریں حقیقت روز جنگل دے جلا بن باغ سہ کر کیا کریں حقیقت لوٹ کر سب کچھ گئے ہم تیاگ سہ کر کیا کریں

Vinod Ganeshpure

1 likes

"मान ले तैयार सब को" धूल उड़ती ही रही है आँख में चलते यहाँ से एक तू मुझ को बता दे आज चलना है कहाँ से याद रखना इक यही बस दिन सभी जलना यहाँ से ख़ुश नहीं हो साथ मेरे ज़िंदगी ढलना यहाँ से दूर मंज़िल आज भी है फ़र्ज़ अपना ताज भी है ठोकरों हिस्सा न कुछ भी कर्ज़ सपना नाज़ भी है दौड़ किस की ख़त्म होती शौक़ लालच प्यार सब को मिल रहे हैं यार धोके रोज़ अपने ख्वार सब को बोल दे जो हम बुरा फिर मान ले तैयार सब को

Vinod Ganeshpure

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vinod Ganeshpure.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vinod Ganeshpure's nazm.