nazmKuch Alfaaz

کیا لگتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی نجم کہتا ہوں جاناں ا سے کا عنوان لگتی ہوں مجھ سے مری باتیں کرتی ہوں کون ہوں جاناں مری کیا لگتی ہوں کتنی کم میسر ہوں جاناں مجھ کو پھروں بھی ساری کی ساری لگتی ہوں تمہیں تتلیاں تلاش کرتی ہیں بارشوں ہے وہ ہے وہ بھیگا گلاب لگتی ہوں ستارے تم تم تمہارا بے پیرہن کرتے ہیں فلک پر چمکتا چاند لگتی ہوں آنکھیں غزل ہرنی زلف گھٹا ساون پہاڑی پر رقص کرتا بادل لگتی ہوں ہر ایک بات بادہ خوار سی کرتی ہوں چنو کسی مزار کی دعا لگتی ہوں یہ حسن آتش دہکتا شباب کتنے ہی کوہ طور جلاتی ہوں تمہیں خاموشیاں ا سے طرح پکارتی ہیں چنو گاؤں ہے وہ ہے وہ مغرب کی اذان لگتی ہوں اب کیا زحمت کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے اترا ہوا فرشتہ لگتی ہوں

ALI ZUHRI10 Likes

Related Nazm

ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت

Varun Anand

475 likes

''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए

Amir Ameer

295 likes

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

Khalil Ur Rehman Qamar

191 likes

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ

Muneer Niyazi

108 likes

More from ALI ZUHRI

بابا تری کمرے سے جو آتی تھی ہمیشہ بابا حقیقت آواز پکارتی نہیں مجھ کو بابا تری کاندهوں پر بیٹھ کر جو دیکھے تھے کبھی حقیقت ذائقہ لگتے ہیں اب سونے جسر بابا یہ زمانے کی نگاہیں کوڑی ہے وحشی ہے یہ نوچ نو زائیدہ جسموں کو ہمارے بابا تو گھر ہے وہ ہے وہ ہمارے ویران تھا ہم تو تری آنگن کی کلی تھے بابا تری کاندهوں پر آخری سمے رونا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے گھر سے وداع ہونا تھا بابا تیری ہی نشانی ہے تجھ سا دکھتا بھی ہے بھائی بھی کب بیٹیوں سا سمجھتا ہے بابا تو جو گیا تو ماں کے چہرے کی رنگت بھی لے گیا تو حقیقت بھی ادا سے ہے بے حد کم بولتی ہے بابا دل سے اب ب سے یہی دعا نکلتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مسکراتے ملو جنت ہے وہ ہے وہ بابا

ALI ZUHRI

9 likes

نسا دنیا کے رنگین مظاہروں سے ہٹ کر,जब کبھی میری نظر اس کا سادہ لباس لڑکی پہ اگر پڑتی میرے دل سے حسرتیں نکلتی اور امنگیں جھوم اٹھتی اس کا کا لڑکی کے ناک نقش بلکل بھی بناوٹی نہیں اس کا کا کے بدن کے نقوش ہے وہ ہے وہ کچھ بھی سجاوٹی نہیں خدا کی قسم دنیا کے مظاہروں ہے وہ ہے وہ اس کا کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں اسے اس کا دنیا کی جوش کی کوئی پرواہ ہی نہیں مانو دنیا سے اسے کوئی رابطہ ہی نہیں اسے خدا نے اپنی قدرت کی نشانی کے لیے بنایا ہوگا اس کا کا کا پیکر تحت السرا کی مٹی سے تراشا ہوگا اس کا کا کی بلندی پہ فرشتوں نے بھی سر جھکایا ہوگا حقیقت تو ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر خدا کو خود اپنی کن پہ رشک آیا ہوگا خدا نے کوئل کو اس کا کی سماعت کے آثار تلاشیں ہیں اور پیڑوں کو اس کا کی بانہوں کے ہار تلاشیں ہیں یہ گھٹا اس کا کی اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ رہ کر کالی ہوتی ہے اس کا کا کے آنچل سے ہی شام پر لالی ہوتی ہے اس کا کا کے ہاتھوں کی لکیروں پر دنیا نقش ہے جنت کی کیسی کیسی ہے وہ ہے وہ بھی اس کا کا ہی عکس ہے اس کا کا کی آنکھوں کی بینائی سے सुब्ह,रात

ALI ZUHRI

4 likes

جنگ یہ جنگ کبھی لگ ختم ہوں گی چل ہم دنیا بسائیں اور کہی ا سے شہر کی چڑیاں سہم گئی ہیں حقیقت اڑ کے جاتی ہیں اور کہی ی ہاں گونج رہی ہے توپوں کی صدائیں چل ہم گیت سنائیں اور کہی یہ دنیا ہے کانٹو سے بھری ہم پھول کھلائیں اور کہی ی ہاں خوبصورت کا بارود جلا ہیں ہم محبت مہکائیں اور کہی سب بستیاں جل کے راکھ ہوئی چل آشیاں بنائیں اور کہی یہ لوگ ہیں جسم چبانے کے لیے ہم فصل اگائیں اور کہی ہر دھڑکن ہے وہ ہے وہ شور ہے برپا چل سکون ب نام طاقت اور کہی

ALI ZUHRI

9 likes

مر رہی ہوں اسے کہنا ہے وہ ہے وہ مر رہی ہوں آنکھیں ابھی کھلی ہوئی ہیں سمے ملے تو لوٹ آئی سانسیں ابھی رکی نہیں ہیں باتیں پرانی بھلا چکی ہوں خط سبھی جلا چکی ہوں سچ تجھے بتا رہی ہوں انتظار ترا ہے وہ ہے وہ کر رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھیرے دھیرے مر رہی ہوں یاد تجھے ب سے کر رہی ہوں وجود ترا یہیں کہی ہے یقین ہے وہ ہے وہ خود کو دلا رہی ہوں

ALI ZUHRI

9 likes

دوست یہ بات تجھ سے چھپی نہیں تو روح ہے مری سایہ نہیں تو نے یہ کیسے کہ دیا تو دوست ہے ہم سفر نہیں کیوں تجھے آتا سمجھ نہیں تو راہ ہے مری منزل نہیں

ALI ZUHRI

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ALI ZUHRI.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ALI ZUHRI's nazm.