nazmKuch Alfaaz

مر رہی ہوں اسے کہنا ہے وہ ہے وہ مر رہی ہوں آنکھیں ابھی کھلی ہوئی ہیں سمے ملے تو لوٹ آئی سانسیں ابھی رکی نہیں ہیں باتیں پرانی بھلا چکی ہوں خط سبھی جلا چکی ہوں سچ تجھے بتا رہی ہوں انتظار ترا ہے وہ ہے وہ کر رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھیرے دھیرے مر رہی ہوں یاد تجھے ب سے کر رہی ہوں وجود ترا یہیں کہی ہے یقین ہے وہ ہے وہ خود کو دلا رہی ہوں

ALI ZUHRI9 Likes

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

More from ALI ZUHRI

"जुदाई" जिन दिनों में तुम ने देखा था मुझे मैं उन दिनों किसी गुलाब जैसा खिल रहा था महक रहा था तुम्हारे इश्क़ का गुलाबी जाम मेरे नर्म चेहरे पे बह रहा था मगर अब के यूँँ है बिछड़ के तुम सेे तुम्हारे हिज्र ए मलाल से मैं उजड़ गया हूँ तुम्हारी क़िताब में रखे हुए गुलाब जैसा मैं इन दिनों सड़ रहा हूँ तुम्हारे इंतिज़ार की सर्द राहों पर पत्ती पत्ती बिखर रहा हूँ मैं जीता जागता एक लड़का साँस दर साँस मर रहा हूँ

ALI ZUHRI

1 likes

بابا تری کمرے سے جو آتی تھی ہمیشہ بابا حقیقت آواز پکارتی نہیں مجھ کو بابا تری کاندهوں پر بیٹھ کر جو دیکھے تھے کبھی حقیقت ذائقہ لگتے ہیں اب سونے جسر بابا یہ زمانے کی نگاہیں کوڑی ہے وحشی ہے یہ نوچ نو زائیدہ جسموں کو ہمارے بابا تو گھر ہے وہ ہے وہ ہمارے ویران تھا ہم تو تری آنگن کی کلی تھے بابا تری کاندهوں پر آخری سمے رونا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے گھر سے وداع ہونا تھا بابا تیری ہی نشانی ہے تجھ سا دکھتا بھی ہے بھائی بھی کب بیٹیوں سا سمجھتا ہے بابا تو جو گیا تو ماں کے چہرے کی رنگت بھی لے گیا تو حقیقت بھی ادا سے ہے بے حد کم بولتی ہے بابا دل سے اب ب سے یہی دعا نکلتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مسکراتے ملو جنت ہے وہ ہے وہ بابا

ALI ZUHRI

9 likes

نسا دنیا کے رنگین مظاہروں سے ہٹ کر,जब کبھی میری نظر اس کا سادہ لباس لڑکی پہ اگر پڑتی میرے دل سے حسرتیں نکلتی اور امنگیں جھوم اٹھتی اس کا کا لڑکی کے ناک نقش بلکل بھی بناوٹی نہیں اس کا کا کے بدن کے نقوش ہے وہ ہے وہ کچھ بھی سجاوٹی نہیں خدا کی قسم دنیا کے مظاہروں ہے وہ ہے وہ اس کا کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں اسے اس کا دنیا کی جوش کی کوئی پرواہ ہی نہیں مانو دنیا سے اسے کوئی رابطہ ہی نہیں اسے خدا نے اپنی قدرت کی نشانی کے لیے بنایا ہوگا اس کا کا کا پیکر تحت السرا کی مٹی سے تراشا ہوگا اس کا کا کی بلندی پہ فرشتوں نے بھی سر جھکایا ہوگا حقیقت تو ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر خدا کو خود اپنی کن پہ رشک آیا ہوگا خدا نے کوئل کو اس کا کی سماعت کے آثار تلاشیں ہیں اور پیڑوں کو اس کا کی بانہوں کے ہار تلاشیں ہیں یہ گھٹا اس کا کی اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ رہ کر کالی ہوتی ہے اس کا کا کے آنچل سے ہی شام پر لالی ہوتی ہے اس کا کا کے ہاتھوں کی لکیروں پر دنیا نقش ہے جنت کی کیسی کیسی ہے وہ ہے وہ بھی اس کا کا ہی عکس ہے اس کا کا کی آنکھوں کی بینائی سے सुब्ह,रात

ALI ZUHRI

4 likes

جنگ یہ جنگ کبھی لگ ختم ہوں گی چل ہم دنیا بسائیں اور کہی ا سے شہر کی چڑیاں سہم گئی ہیں حقیقت اڑ کے جاتی ہیں اور کہی ی ہاں گونج رہی ہے توپوں کی صدائیں چل ہم گیت سنائیں اور کہی یہ دنیا ہے کانٹو سے بھری ہم پھول کھلائیں اور کہی ی ہاں خوبصورت کا بارود جلا ہیں ہم محبت مہکائیں اور کہی سب بستیاں جل کے راکھ ہوئی چل آشیاں بنائیں اور کہی یہ لوگ ہیں جسم چبانے کے لیے ہم فصل اگائیں اور کہی ہر دھڑکن ہے وہ ہے وہ شور ہے برپا چل سکون ب نام طاقت اور کہی

ALI ZUHRI

9 likes

کیا لگتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی نجم کہتا ہوں جاناں ا سے کا عنوان لگتی ہوں مجھ سے مری باتیں کرتی ہوں کون ہوں جاناں مری کیا لگتی ہوں کتنی کم میسر ہوں جاناں مجھ کو پھروں بھی ساری کی ساری لگتی ہوں تمہیں تتلیاں تلاش کرتی ہیں بارشوں ہے وہ ہے وہ بھیگا گلاب لگتی ہوں ستارے تم تم تمہارا بے پیرہن کرتے ہیں فلک پر چمکتا چاند لگتی ہوں آنکھیں غزل ہرنی زلف گھٹا ساون پہاڑی پر رقص کرتا بادل لگتی ہوں ہر ایک بات بادہ خوار سی کرتی ہوں چنو کسی مزار کی دعا لگتی ہوں یہ حسن آتش دہکتا شباب کتنے ہی کوہ طور جلاتی ہوں تمہیں خاموشیاں ا سے طرح پکارتی ہیں چنو گاؤں ہے وہ ہے وہ مغرب کی اذان لگتی ہوں اب کیا زحمت کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے اترا ہوا فرشتہ لگتی ہوں

ALI ZUHRI

10 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ALI ZUHRI.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ALI ZUHRI's nazm.