مری کندھے پہ بیٹھا کوئی پڑھتا رہتا ہے پانچویں و ہوشیاروں و وید مکھیاں کان ہے وہ ہے وہ بھنبھناتی ہیں اڑھائی ہیں کان اپنی آواز کیسے سنوں رانا ہندو تھا یاد خدا مسلمان تھا سنجے حقیقت پہلا انسان تھا ہستیناپور ہے وہ ہے وہ ج سے نے قبل مسیح ٹیلیویژن بنایا اور گھر بیٹھے اک اندھے راجا کو یودھ کا تماشا دکھایا آدمی چاند پر آج اترا تو کیا یہ ترقی نہیں اب سے پہلے بے حد پہلے جب ذرہ ٹوٹا لگ تھا چشمہ جوہر کا پھوٹا لگ تھا خو سے عرش تک جا چکا ہے کوئی یہ اور ایسی بے حد سی جہالت کی باتیں مری کندھے پہ ہوتی ہیں کندھے جھکے جا رہے ہیں قد میرا رات دن گھٹ رہا ہے سر کہی پاؤں سے مل لگ جائے
Related Nazm
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
بندہ اور خدا ایک بڑھوا سی کہانی ہے جو وقار کہ منا زبانی ہے یہ حکومت آسمانی ہے ہر مخلوق روحانی ہے یہ خدا کی مہربانی ہے کی سجدوں ہے وہ ہے وہ جھکتی پیشانی ہے یہ ساری دنیا فانی ہے ہر بے وجہ کو موت آنی ہے یہ انسانیت عیاشی کی دیوانی ہے ہر بے وجہ کی ڈھلتی جوانی ہے قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا یہ آ رہے عذاب خوشگوار کی نشانی ہے یہ لوگوں کی گمراہی اور بڑی نادانی ہے کی ک ہاں اوپر خدا کو شکل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھانی ہے
ZafarAli Memon
20 likes
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری زندگی شماکی صورت ہوں خدایا مری دور دنیا کا مری دم سے اندھیرا ہوں جائے ہر جگہ مری چمکنے سے اجالا ہوں جائے ہوں مری دم سے یوںہی مری وطن کی ظفر ج سے طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی ظفر زندگی ہوں مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شماسے ہوں مجھ کو محبت یا رب ہوں میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا مری اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہوں ا سے رہ پہ چلانا مجھ کو
Allama Iqbal
51 likes
More from Kaifi Azmi
نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا خوشی کا پرچم ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے اٹھنا ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترا لگ فتح گا کے اٹھنا یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے دھڑک رہا ہے فضا کا سینا کہ زندگی کا معاملہ ہے اڑائے رہے یا بہار آئی تمہارے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ فیصلہ ہے لگ چین بے تاب بجلیوں کو لگ مطمئن کاروان شبنم کبھی شگوفوں کے گرم تیور کبھی گلوں کا مزاج برہم شگوفہ و گل کے ا سے تصادم ہے وہ ہے وہ گلستاں بن گیا تو جہنم سجا لیں سب اپنی اپنی جنت اب ایسے خاکے بنا کے اٹھنا خزا لگ رنگ و نور تاریک رہگزاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے عرو سے گل کا غرور عصمت سیاہکاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے تمام سرمایہ لطافت ذلیل خارو ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے گھٹی گھٹی ہیں نمو کی سانسیں چھوٹی چھوٹی نبض گلستاں ہے ہیں گرسنا پھول تشنہ لبی غنچے رخوں پہ زر گرا لبوں پہ جاں ہے ہم نوا ہیں ہم سفیر جب سے اڑائے چمن ہے وہ ہے وہ رواں دواں ہے ا سے انتشار چمن کی سوگند باب زنداں ہلا کے اٹھنا حیات گیتی کی آج جستجو دل شکستہ ہوئی نگاہیں ہیں انقلابی پیام عشق سے کرنیں اتر رہی ہیں
Kaifi Azmi
0 likes
اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی تو ج ہاں تھی اسی جنت ہے وہ ہے وہ نکھرتا ترا روپ ا سے جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم اور دل ج سے پہ خد و خال کی دل پسند بھی نثار بچھاؤ ہی بچھاؤ شرارے ہی شرارے ہیں ی ہاں اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار تشنہ لبی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرح جانے ک سے جام پہ رک جائے نگاہ معصوم ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ مے خا لگ بھی پیا سے ان آنکھوں کی بجھے یا لگ بجھے کیا معلوم ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دل کوئی گھر ہے وہ ہے وہ کوئی محفل ہے وہ ہے وہ سجائے گا تجھے تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہے کون اشکوں کی گھنی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گائے گا تجھے تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے ب سے پیار نہیں اپنے آنچل پہ مجھے خوشی بہا لینے دے تو ج ہاں جاتی ہے جا روکنے والا ہے وہ ہے وہ کون اپنے رستے ہے وہ ہے وہ م گر شمع جلا لینے دے
Kaifi Azmi
0 likes
کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہے ج ہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہے منہو کی مچھلی لگ کشتی نوح اور یہ فضا کہ قطرے قطرے ہے وہ ہے وہ طوفان بے قرار سا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے کو اپنے گریباں کا چاک دکھلاؤں کہ آج دامن یزداں بھی تار تار سا ہے سجا سنوار کے ج سے کو ہزار ناز کیے اسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے تمام جسم ہے منجملہ و اسباب ماتم فکر خوابیدہ دماغ پچھلے زمانے کی یادگار سا ہے سب اپنے پاؤں پہ رکھ رکھ کے پاؤں چلتے ہیں خود اپنے دوش پہ ہر آدمی سوار سا ہے جسے پکاریے ملتا ہے اک کھنڈر سے جواب جسے بھی دیکھیے ماضی کا اشتہار سا ہے ہوئی تو کیسے شایاں ہے وہ ہے وہ آ کے شام ہوئی کہ جو مزار ی ہاں ہے میرا مزار سا ہے کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے ا سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے
Kaifi Azmi
1 likes
कोई ये कैसे बताए कि वो तन्हा क्यूँँ है वो जो अपना था वही और किसी का क्यूँँ है यही दुनिया है तो फिर ऐसी ये दुनिया क्यूँँ है यही होता है तो आख़िर यही होता क्यूँँ है इक ज़रा हाथ बढ़ा दें तो पकड़ लें दामन उन के सीने में समा जाए हमारी धड़कन इतनी क़ुर्बत है तो फिर फ़ासला इतना क्यूँँ है दिल-ए-बर्बाद से निकला नहीं अब तक कोई इस लुटे घर पे दिया करता है दस्तक कोई आस जो टूट गई फिर से बंधाता क्यूँँ है तुम मसर्रत का कहो या इसे ग़म का रिश्ता कहते हैं प्यार का रिश्ता है जनम का रिश्ता है जनम का जो ये रिश्ता तो बदलता क्यूँँ है
Kaifi Azmi
1 likes
लो पौ फटी वो छुप गई तारों की अंजुमन लो जाम-ए-महरस वो छलकने लगी किरन खिचने लगा निगाह में फ़ितरत का बाँकपन जल्वे ज़मीं पे बरसे ज़मीं बन गई दुल्हन गूँजे तराने सुब्ह का इक शोर हो गया आलम मय-ए-बक़ा में शराबोर हो गया फूली शफ़क़ फ़ज़ा में हिना तिलमिला गई इक मौज-ए-रंग काँप के आलम पे छा गई कुल चाँदनी सिमट के गुलों में समा गई ज़र्रे बने नुजूम ज़मीं जगमगा गई छोड़ा सहर ने तीरगी-ए-शब को काट के उड़ने लगी हवा में किरन ओस चाट के मचली जबीन-ए-शर्क़ पे इस तरह मौज-ए-नूर लहरा के तैरने लगी आलम में बर्क़-ए-तूर उड़ने लगी शमीम छलकने लगा सुरूर खिलने लगे शगूफ़े चहकने लगे तुयूर झोंके चले हवा के शजर झूमने लगे मस्ती में फूल काँटों का मुँह चूमने लगे थम थम के ज़ौ-फ़िशाँ हुआ ज़र्रों पे आफ़्ताब छिड़का हवा ने सब्ज़ा-ए-ख़्वाबीदा पर गुलाब मुरझाई पत्तियों में मचलने लगा शबाब लर्ज़िश हुई गुलों को बरसने लगी शराब रिंदान-ए-मस्त और भी सरमस्त हो गए थर्रा के होंट जाम में पैवस्त हो गए दोशीज़ा एक ख़ुश-क़द ओ ख़ुश-रंग-ओ-ख़ूब-रू मालन की नूर-दीदा गुलिस्ताँ की आबरू महका रही है फूलों से दामान-ए-आरज़ू तिफ़्ली लिए है गोद में तूफ़ान-ए-रंग-ओ-बू रंगीनियों में खेली गुलों में पली हुई नौरस कली में क़ौस-ए-क़ुज़ह है ढली हुई मस्ती में रुख़ पे बाल परेशाँ किए हुए बादल में शम-ए-तूर फ़रोज़ाँ किए हुए हर सम्त नक़्श-ए-पास चराग़ाँ किए हुए आँचल को बार-ए-गुल से गुलिस्ताँ किए हुए लहरा रही है बाद-ए-सहर पाँव चूम के फिरती है तीतरी सी ग़ज़ब झूम झूम के ज़ुल्फ़ों में ताब-ए-सुम्बुल-ए-पेचाँ लिए हुए आरिज़ में शोख़ रंग-ए-गुलिस्ताँ लिए हुए आँखों में रूह-ए-बादा-ए-इरफ़ाँ लिए हुए होंटों में आब-ए-लाल-ए-बदख़्शाँ लिए हुए फ़ितरत ने तोल तोल के चश्म-ए-क़ुबूल में सारा चमन निचोड़ दिया एक फूल में ऐ हूर-ए-बाग़ इतनी ख़ुदी से न काम ले उड़ कर शमीम-ए-गुल कहीं आँचल न थाम ले कलियों का ले पयाम सहर का सलाम ले 'कैफ़ी' से हुस्न-ए-दोस्त का ताज़ा कलाम ले शाएर का दिल है मुफ़्त में क्यूँँ दर्द-मंद हो इक गुल इधर भी नज़्म अगर ये पसंद हो
Kaifi Azmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaifi Azmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaifi Azmi's nazm.







