nazmKuch Alfaaz

سب ڈگریوں کے پیچھے پڑے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جدھر بھی نظر ڈالتا ہوں لوگ رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں آجکل سب ہنر چھوڑ کر ان ڈگریوں کے ہی پیچھے پڑے ہیں ڈگریوں ہے وہ ہے وہ ہنر کوئی ہوتا تو پھروں اتہا سے انپڑھ لگ لکھتے ڈگریوں کے یہ پیرویا سڑک پر یوں سر عام سستے لگ بکتے یہ پتا چلتا ہے ڈگریوں سے ہم ک ہاں تک معیار ہیں لکھے ہیں جانتے ہیں م گر لوگ پھروں بھی ڈگریوں کے ہی پیچھے پڑے ہیں ڈگریوں کے جو پیچھے پڑے ہیں حقیقت زمانے ہے وہ ہے وہ نوکر بنیں گے کام خود کے ہنر پر کریںگے حقیقت زمانے کے مالک بنیں گے ڈگریوں سے تو مشعل جاں ہیں نوکر پر ہنر ہم کو مالک بناتا ڈگریوں والے ہوں یا ہوں انپڑھ سب کو قدموں ہے وہ ہے وہ لا کر جھکاتا عمر برباد ہے ڈگریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوست تقدیر کو دے رہے ہیں کیا کریں لوگ نادان بڑے ہیں ڈگریوں کے ہی پیچھے پڑے ہیں پیچھے بھاگو لگ جاناں ڈگریوں کے پیچھے بھاگو سب اپنے ہنر کے دیکھنا جان لوگے ہنر تو رکھ ہی دوگے زما لگ بدل کے ورنا مارے ہجرت فروغ جاناں کو رکھ دےگی دنیا بدل کے ڈگریوں ہے وہ ہے وہ

Related Nazm

انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں

Faiz Ahmad Faiz

27 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from Prashant Kumar

م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تو سب سے جدا ہے تو سب سے حسین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ تجھسا لگ کوئی کہی ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے دیکھ کر ہی نکلتا ہے سورج تجھے دیکھ کر روز ڈھلتا ہے سورج تو اک باوضو اپسرا ہے مری جاں خدا بھی تو تجھ پہ فدا ہے مری جاں تجھی سے محبت کرےگا یقین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے کام سب چھوڑ کر دیکھتے ہیں بنا بات کے پھول بھی پھینکتے ہیں کہ ممتاز بھی تری جیسی نہیں ہے ی ہاں ایک تو ہی مہا سندری ہے بے حد خوبصورت ہے زہرہ جبیں ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے

Prashant Kumar

1 likes

"हार्ट अटैक तू लावेगी" जो टॉप पहन के आएगी तो क़हर क़सम से ढाएगी यूँँ तंग क़बा में आवेगी फिर बिजली ख़ूब गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी झुक के रूमाल उठाएगी एकाध को तू टपकाएगी जो ऐसे पेट दिखाएगी तो दिल की नींव हिलाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी यूँँ देखके तू मुस्काएगी तो झगड़ा सब में कराएगी तू हम को भी मरवाएगी तू हम को भी मरवाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी जो हम सेे हाथ मिलाएगी तो दिल के तार भिड़ाएगी तू तन में आग लगाएगी हम को तू मार गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी

Prashant Kumar

1 likes

صدا مفل سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دینے کے جائیں گے نہیں کچھ کسی کو سو اپنے بدن کی قباء دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مری زندگی کی دعا کرنے والوں تمہیں آخری ہے وہ ہے وہ دعا دے رہا ہوں مبارک ہوں سب کو خوشی کا ہری یہ محفل خوشی کی تمہیں دے رہا ہوں مری پا سے خانے کو کچھ بھی نہیں ہے سبھی کے لیے یہ جوا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں انتقامن مت کروں کوئی احسان مجھ پر اتاروںگا کیسے یہ احسان لوگوں مجھے عمر بھر گالیاں دوگے پھروں سب ہمیشہ رہوگے پریشان لوگوں ضرورت نہیں کچھ بھی دینے کی مجھ کو ہے وہ ہے وہ جاناں کو تمہاری وفا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے کوئی خوش رہنے کی مت دعا دو یہ غم ہی مری زندگی بن گیا تو ہے مجھے غزلوں ہی سبھی لوگ دینا یہی تو مری بندگی بن گیا تو ہے مری زندگی آگ کا ایک گولا ہے ایسے ہے وہ ہے وہ تجھ کو ہوا دے رہا ہوں مجھے بھ

Prashant Kumar

1 likes

جب پاپا پاپا کہتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے جب پاپا ہم نے کہوائی جاں پھٹ کے گلے ہے وہ ہے وہ ہے آئی تب ہنستے گاتے پھرتے تھے اب مارے مارے پھرتے ہیں لگ ہی کچھ کھونے کا ڈر تھا تب لگ ہی کچھ پانے کی اچھا تھی تب من ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی آتا تھا وہیں پہ رویا کرتے تھے ہم رونے کے لیے بھی اب ہم کو جا بک کروانی پڑتی ہے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے سکول کو ہم جاناں جاتے تھے تب زیب ہے وہ ہے وہ پیسے رہتے تھے اب ہاتھ سبھی کے خالی ہیں کیسی یار اب کی پڑھائی ہے حقیقت پیٹھ پہ بوجھ کتابوں کا اور جیب ہے وہ ہے وہ کنچے رہتے تھے جب سکول سے گھر آتے تھے تو چاک چرا کر لاتے تھے گلی ڈنڈا لے لے کر روز ہم گلیوں گلیوں پھرتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے یاد آتا ہے حقیقت دور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دا گرا کے آنچل ہے وہ ہے وہ سیاہ بخت تھے ممی کو جھوٹ بتاتے تھے پاپا کو جھوٹ بتاتے تھے پھروں ہوتی خوب پٹائی تھی ہم اکڑ بکر کرتے تھ

Prashant Kumar

4 likes

چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے کیوں ہے اتنی جواں کیوں ہے اتنی حسین نام ک سے نے رکھا تیرا زہرہ جبیں تنگ سی ٹاپ پہنے اب آنا نہیں چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے مجھ کو ڈر ہے کہی لے لگ جائے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے چاند ہے وہ ہے وہ داغ ہے پھروں بھی مغرور ہے لگ رہا اپنی عادت سے مجبور ہے تو جدھر جا رہا چاند ادھر آ رہا یہ تجھے دیکھ کر کتنا شرما رہا آڑ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے سمٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے خوبصورت بے حد لگ رہی آج تو آج سے بن گئی مری ممتاز جب کیسی کاریگری ہے خدا کی قسم زلف سے پاؤں تک زہر ہے تو صنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری جان ہوں تو مری جان ہے خواب ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں لپٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے اپنی صورت دکھا دے خدا کے لیے مجھ کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لے خدا کے لیے اب تو گھر سے نکل آ خدا کے لیے مجھ کو اپنا بنا لے خدا کے لیے عمر بھر کے لیے با ہوں ہے وہ ہے وہ تھام

Prashant Kumar

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prashant Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prashant Kumar's nazm.