شاید میرا دکھ سمجھ پاؤ جاناں کبھی اندازہ تو لگاؤ جاناں شاید میرا دکھ سمجھ پاؤ جاناں ہر گھڑی ہے وہ ہے وہ نے ب سے تمہارا انتظار کیا اپنے خوابوں ہے وہ ہے وہ خیالوں ہے وہ ہے وہ تمہیں پیار کیا اک دفع ہی صحیح مجھے سینے سے لگاؤ جاناں ہاں شاید میرا دکھ سمجھ پاؤ جاناں پل پل ڈرتا رہا ہوں تمہیں کھونے سے بھی پا سے آنے سے بھی دور ہونے سے بھی مجھے خود ہے وہ ہے وہ چھپا سکو تو گلشن زیبا جاناں ہاں شاید میرا دکھ سمجھ پاؤ جاناں سونا سونا جاناں بن مجھے ج ہاں لگے چنو چاند بن سونا آ سماں لگے پھروں سے مری دنیا ہے وہ ہے وہ لوٹ آؤ جاناں ہاں شاید میرا دکھ سمجھ پاؤ جاناں
Related Nazm
तुम हमारे लिए तुम हमारे लिए अर्चना बन गई हम तुम्हारे लिए एक दर्पण प्रिये तुम मिलो तो सही हाल पूछो मेरा हम न रो दें तो कह देना पत्थर प्रिये प्यार मिलना नहीं था अगर भाग्य में देवताओं ने हम सेे ये छल क्यूँ किया मेरे दिल में भरी रेत ही रेत थी दे के अमृत ये हम को विकल क्यूँ किया अप्सरा हो तो हो पर हमारे लिए तुम ही सुंदर सुकोमल सुघर हो प्रिये देवताओं के गणितीय संसार में ऐसा भी है नहीं कोई अच्छा न था हम अगर इस जनम भी नहीं मिल सके सब कहेंगे यही प्यार सच्चा न था कायरों को कभी प्यार मिलता नहीं फ़ैसला कोई ले लो कि डटकर प्रिये मम्मी कहती थीं चंदा बहुत दूर है चाँद से आगे हम को सितारा लगा यूँँ तो चेहरे ही चेहरे थे दुनिया में पर एक तेरा ही चेहरा पियारा लगा पलकों पे मेरी रख कर क़दम तुम चलो पॉंव में चुभ न जाए कि कंकड़ प्रिये
Rakesh Mahadiuree
24 likes
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو
Gulzar
68 likes
More from Vikas Sangam
چپپیاں تیری خاموشیاں تڑپاتی ہیں مجھے یہ اداسیاں ستاتی ہیں مجھے غم دل کا سہارا نہیں ہے اب تیرا چپ رہنا بے شرط نہیں ہے جب تک تجھے ہے وہ ہے وہ سن سکتا ہوں تری الفاظ ہے وہ ہے وہ چن سکتا ہوں اب سینے سے لگا لے مجھے یہ چپپیاں مار لگ ڈالے مجھے یہ تنہائیاں خلتی ہیں دل ہے وہ ہے وہ بے چینیاں پلتی ہیں کچھ بول
Vikas Sangam
1 likes
مشکل مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک سوال تھا جو تا عمر مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا کیوں حقیقت شخص ہمارا لگ ہوں سکا عمر بھر جسے ہم نے دل ہے وہ ہے وہ رکھا تا عمر اسی سوال نے ہاں مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ کوئی راج تھا جو راج ا سے نے دل ہے وہ ہے وہ رکھا بات ہی بات ہے وہ ہے وہ کیا بات آج ہوں گئی جو ا سے نے دل کی بات بھری محفل ہے وہ ہے وہ رکھا تا عمر اسی سوال نے ہاں مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا راہ منزل اسے کہ ہاں گیا تو لمحہ میرا ک ہاں گیا تو جسے چرا کے زمانے سے ہم نے سرخ پھولوں ہے وہ ہے وہ رکھا تا عمر اسی سوال نے ہاں مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا
Vikas Sangam
3 likes
فٹ پاتھ چل سکتا نہیں جسم مچلتا ہے جذبات بیتے دن یہیں بیتے رات ہے گھر میرا یہ فٹ پاتھ سکھ کی گھٹا نہیں چھاتی ہنسی کے بادل نہیں آتے بابا دیکھو نا مری حصے ہے وہ ہے وہ خوشی کے پل نہیں آتے اب ہر پل ان آنکھوں سے ہوتی غموں کی برسات بیتے دن یہیں بیتے رات ہے گھر میرا یہ فٹ پاتھ
Vikas Sangam
4 likes
ابھی جاؤ ابھی جاؤ کی تنہائی سے رخصت ہوں جاؤں تو آنا دل روئے ہے وہ ہے وہ مسکراؤں تو آنا ابھی کچھ کہنے سننے کی اچھا نہیں ہاں کچھ کہ پاؤں کچھ سن پاؤں تو آنا ابھی جاؤ جاؤ ا سے دودمان کہ تمہیں روکنا چا ہوں تو لگ روک پاؤں جاؤ ا سے دودمان کہ تمہیں مسکراتا دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی مسکراؤں جاؤ ابھی جاؤ ابھی جاؤ کے درد وں کو سینے سے لگانا ہے مجھے ابھی جاؤ کی خود کو کہی چھپانا ہے مجھے ابھی غم ہے کہی سینے ہے وہ ہے وہ جگا ہوا غموں سے ناتا توڑ لوں تو آنا اپنی آنکھیں نچوڑ لوں تو آنا ابھی جاؤ
Vikas Sangam
4 likes
شکست ج ہاں بل پڑتے ہیں سوچ کے و ہاں سکون کیا لکھیں اپنے شکست عالم کا ہم جنوں کیا لکھے شکست ہی صحیح شکست سے محبت کر لی ہم نے وجے پری نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجے سے بغاوت کر لی ہم نے ج ہاں پھوٹتے ہیں انگارے جسموں ہے وہ ہے وہ و ہاں لہو کیا لکھیں اپنے شکست عالم کا ہم جنوں کیا لکھیں
Vikas Sangam
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vikas Sangam.
Similar Moods
More moods that pair well with Vikas Sangam's nazm.







