nazmKuch Alfaaz

جاناں آشنا ہوں کیا تکرار گر بھلائی ہوں تو مجھے بتا مری طرح ابھی تک جاناں آشنا ہوں کیا یادوں ہے وہ ہے وہ ہر جگہ ہے ملتے ج ہاں تھے ہم مجھ کو نہیں پتا تھا ہوگا کبھی یہ کم منزل نہیں ملی تھی کوشش کیے تھے ہم دو گام ہی چلے تھے پھروں مڑ گئے تھے ہم وعدہ کروں محبت ہے وہ ہے وہ کھا کے یہ قسم ہم ساتھ ہوں گے ان کے جن کو کہی صنم اب ہم کبھی لگ بچھڑیں کھاتے ہیں یہ قسم جاناں نئے سرے سے پوری کریں قسم جاناں گر جواب دوگے آتا ہوں ہے وہ ہے وہ و ہاں سوچو ذرا ابھی تک جاناں آشنا ہوں کیا سوچو ذرا ابھی تک جاناں آشنا ہوں کیا

Related Nazm

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

More from arjun chamoli

کبھی سمے تھا کبھی سمے تھا دیکھا تھا اسے شرماتے ہوئے اپنے آنچل کو مری ہاتھوں سے بچاتے ہوئے اکیلے ملنے پر مجھ کو رجھاتے ہوئے مری ہاتھوں سے اپنی انگلياں چھواتے ہوئے سنسان جگہ پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے جانی بےبسی جگہ پر شوخی بڑھاتے ہوئے حقیقت دور تھا خوش تھے ایک دوجے کو ستاتے ہوئے اور تھک جاتے تھے ناراض کو مناتے ہوئے پیار ہے یا نہیں ڈرتے تھے یہ بتاتے ہوئے قریب رہتے تھے اپنے ارمان جگاتے ہوئے وہی سمے پھروں سے چاہتا ہے اوشا بان ہوں ہے وہ ہے وہ لے لے حقیقت مجھ پہ حق جتاتے ہوئے

arjun chamoli

3 likes

آپ کے لیے کبھی ہنستا تھا کھل کھل کر کبھی تھی زندگی مری یہ مجبوری یہ رسوائی یہ بربا گرا ہوئی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ اب تنہا فنا فی ال عشق ہیں انجانے گھٹن کے ساتھ اب ہے یہ سمٹتی زندگی مری گنا ہوں کی سزا ہوتی تو سہ لیتا خوشی سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلطیاں کے بن جہنم سی ہے نظم زندگی مری مجھے کیا علم تھا الزام جھوٹا بھی لگاتے ہیں جلن دنیا کی اتنی قتل کر دی شخصیت مری لگ گھٹ کر موت آتی ہے لگ گھٹ کر کوئی جی سکتا مجھے محسو سے ہوتا ہے یہ زندہ لاش ہے مری کبھی دشمن نہیں تھے سب کبھی تھی دوستی سب سے لگ کوئی دوست لگتا اب لگ کوئی دشمنی مری مری دل ہے وہ ہے وہ لگ کچھ باقی جو اب بھی ٹوٹ سکتا ہوں یہ ٹکڑے جی رہے کیوںکر ہیں حیرانی بڑھی مری مجھے خوبصورت ہوئی خود سے ہے وہ ہے وہ کیوں کمزور ہوں اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود آیا تری در پہ یا قسمت لائی ہے مری بے حد کچھ کہ نہیں پاتا بے حد کچھ کہ بھی جاتا ہوں سمجھ ہے وہ ہے وہ جو نہیں آئی حقیقت ب سے تسلیم ہے مری تجھے آغاز کرنا ہے تجھے انجام ہے دینا ملے منزل نہیں مجھ کو تو یہ تقدیر ہے مری<br

arjun chamoli

3 likes

چھوٹی سی ملاقات ہم بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے ہوئے یوں جواں ہوں گئے ارمان بنا کہے ہی سب بیاں ہوں گئے بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے تھے جو چھپنے کا کھیل ہم چاہتے تھے لگ ڈھونڈ پائے کوئی سیاہ بخت تھے ایسے ہم ایک دن پتا چلا کہ ہارا نہیں ہے کوئی ڈھونڈا تو ایک نے تھا پکڑے گئے تھے ہم سانسیں تو چھو رہی تھی چپ چپ کھڑے تھے ہم مانا کہ دھڑکنوں کو روکے رہے تھے ہم دل نے لگ معنی بات پسینے سے نہا گئے دھڑکن تھی اتنی تیز ڈر لگ لگے تھے ہم ایسی ملاقات کبھی محسو سے لگ کی تھی دونوں نے کبھی ایسی کوئی بات لگ کی تھی خفا ہوں زندگی سے حقیقت سمے بیت کیوں گیا تو ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی

arjun chamoli

3 likes

حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بےب سے نہیں ہوں مجھے یہ پتا ہے تری آگے کمزور دل بن یہ جائے محبت کو دراڑیں ہوں ہے وہ ہے وہ زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی بھری دکھ کی کیسے سنائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی کر بھی جیون ہے وہ ہے وہ ہر پل مرا ہوں مری لاش کو کوئی کیسے جلائے سکون سے بھرا کوئی دن گر ملے تو ترا ساتھ ہوں اور دنیا بھلائے تجھے پوجنا چاہتا ہے میرا دل بجھے دل سے اوشا دیا کیا جلائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے

arjun chamoli

2 likes

"इश्क़ की आग" चलो फिर से आशिक़ी की राह पर चला जाए अंजाम जो भी हो पर अंदाज़ क्यूँँ बदला जाए बर्फ़-सी दिल में जम गई है शब-ए-तन्हाई में तो फिर वस्ल-ए-यार की गर्मी में पिघला जाए ख़बर है फ़लक की बिजली से मर गया इंसाँ ख़ाक-ए-ज़ुल्मात-रंग से कब कौन चला जाए तब ये जान जाना कि मौत-बर-हक़ है अगर क्यूँ न इश्क़ की आग में जल कर देखा जाए

arjun chamoli

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on arjun chamoli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with arjun chamoli's nazm.