آپ کے لیے کبھی ہنستا تھا کھل کھل کر کبھی تھی زندگی مری یہ مجبوری یہ رسوائی یہ بربا گرا ہوئی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ اب تنہا فنا فی ال عشق ہیں انجانے گھٹن کے ساتھ اب ہے یہ سمٹتی زندگی مری گنا ہوں کی سزا ہوتی تو سہ لیتا خوشی سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلطیاں کے بن جہنم سی ہے نظم زندگی مری مجھے کیا علم تھا الزام جھوٹا بھی لگاتے ہیں جلن دنیا کی اتنی قتل کر دی شخصیت مری لگ گھٹ کر موت آتی ہے لگ گھٹ کر کوئی جی سکتا مجھے محسو سے ہوتا ہے یہ زندہ لاش ہے مری کبھی دشمن نہیں تھے سب کبھی تھی دوستی سب سے لگ کوئی دوست لگتا اب لگ کوئی دشمنی مری مری دل ہے وہ ہے وہ لگ کچھ باقی جو اب بھی ٹوٹ سکتا ہوں یہ ٹکڑے جی رہے کیوںکر ہیں حیرانی بڑھی مری مجھے خوبصورت ہوئی خود سے ہے وہ ہے وہ کیوں کمزور ہوں اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود آیا تری در پہ یا قسمت لائی ہے مری بے حد کچھ کہ نہیں پاتا بے حد کچھ کہ بھی جاتا ہوں سمجھ ہے وہ ہے وہ جو نہیں آئی حقیقت ب سے تسلیم ہے مری تجھے آغاز کرنا ہے تجھے انجام ہے دینا ملے منزل نہیں مجھ کو تو یہ تقدیر ہے مری<br
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا
Jaun Elia
216 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
राइगानी मैं कमरे में पिछले इकत्तीस दिनों से फ़क़त इस हक़ीक़त का नुक़सान गिनने की कोशिश में उलझा हुआ हूँ कि तू जा चुकी है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है तुझे याद है वो ज़माना जो कैम्पस की पगडंडियों पे टहलते हुए कट गया था तुझे याद है कि जब क़दम चल रहे थे कि एक पैर तेरा था और एक मेरा क़दम वो जो धरती पे आवाज़ देते कि जैसे हो रागा कोई मुतरीबों का क़दम जैसे के सा पा गा मा पा गा सा रे वो तबले की तिरखट पे तक धिन धिनक धिन तिनक धिन धना धिन बहम चल रहे थे, क़दम चल रहे थे क़दम जो मुसलसल अगर चल रहे थे तो कितने गवइयों के घर चल रहे थे मगर जिस घड़ी तू ने उस राह को मेरे तन्हा क़दम के हवाले किया उन सुरों की कहानी वहीं रुक गई कितनी फनकारियाँ कितनी बारीकियाँ कितनी कलियाँ बिलावल गवईयों के होंठों पे आने से पहले फ़ना हो गए कितने नुसरत फ़तह कितने मेहँदी हसन मुन्तज़िर रह गए कि हमारे क़दम फिर से उठने लगें तुझ को मालूम है जिस घड़ी मेरी आवाज़ सुन के तू इक ज़ाविये पे पलट के मुड़ी थी वहाँ से, रिलेटिविटी का जनाज़ा उठा था कि उस ज़ाविये की कशिश में ही यूनान के फ़लसफ़े सब ज़मानों की तरतीब बर्बाद कर के तुझे देखने आ गए थे कि तेरे झुकाव की तमसील पे अपनी सीधी लकीरों को ख़म दे सकें अपनी अकड़ी हुई गर्दनों को लिए अपने वक़्तों में पलटें, जियोमैट्री को जन्म दे सकें अब भी कुछ फलसफ़ी अपने फीके ज़मानों से भागे हुए हैं मेरे रास्तों पे आँखें बिछाए हुए अपनी दानिस्त में यूँँ खड़े हैं कि जैसे वो दानिश का मम्बा यहीं पे कहीं है मगर मुड़ के तकने को तू ही नहीं है तो कैसे फ्लोरेन्स की तंग गलियों से कोई डिवेन्ची उठे कैसे हस्पानिया में पिकासु बने उन की आँखों को तू जो मुयस्सर नहीं है ये सब तेरे मेरे इकट्ठे ना होने की क़ीमत अदा कर रहे हैं कि तेरे ना होने से हर इक ज़मा में हर एक फ़न में हर एक दास्ताँ में कोई एक चेहरा भी ताज़ा नहीं है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है
Sohaib Mugheera Siddiqi
73 likes
More from arjun chamoli
چھوٹی سی ملاقات ہم بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے ہوئے یوں جواں ہوں گئے ارمان بنا کہے ہی سب بیاں ہوں گئے بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے تھے جو چھپنے کا کھیل ہم چاہتے تھے لگ ڈھونڈ پائے کوئی سیاہ بخت تھے ایسے ہم ایک دن پتا چلا کہ ہارا نہیں ہے کوئی ڈھونڈا تو ایک نے تھا پکڑے گئے تھے ہم سانسیں تو چھو رہی تھی چپ چپ کھڑے تھے ہم مانا کہ دھڑکنوں کو روکے رہے تھے ہم دل نے لگ معنی بات پسینے سے نہا گئے دھڑکن تھی اتنی تیز ڈر لگ لگے تھے ہم ایسی ملاقات کبھی محسو سے لگ کی تھی دونوں نے کبھی ایسی کوئی بات لگ کی تھی خفا ہوں زندگی سے حقیقت سمے بیت کیوں گیا تو ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی
arjun chamoli
3 likes
کبھی سمے تھا کبھی سمے تھا دیکھا تھا اسے شرماتے ہوئے اپنے آنچل کو مری ہاتھوں سے بچاتے ہوئے اکیلے ملنے پر مجھ کو رجھاتے ہوئے مری ہاتھوں سے اپنی انگلياں چھواتے ہوئے سنسان جگہ پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے جانی بےبسی جگہ پر شوخی بڑھاتے ہوئے حقیقت دور تھا خوش تھے ایک دوجے کو ستاتے ہوئے اور تھک جاتے تھے ناراض کو مناتے ہوئے پیار ہے یا نہیں ڈرتے تھے یہ بتاتے ہوئے قریب رہتے تھے اپنے ارمان جگاتے ہوئے وہی سمے پھروں سے چاہتا ہے اوشا بان ہوں ہے وہ ہے وہ لے لے حقیقت مجھ پہ حق جتاتے ہوئے
arjun chamoli
3 likes
کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر تیری قیامت سے ڈرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی دل سے ڈر کو فنا تو کر یہ بڑا حسین ہے عشق بھی تو حسین بے حد یہ سنا تو کر یہ مہک ہے عشق کی جاں مری کہ تو پھول بنکے کھلا تو کر کبھی روشنی کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو بھی عشق کر کے جلا تو کر میرا دل تری ہی قدم پہ ہے کبھی لب سے لب بھی چھوا تو کر یہ ملن بھی عشق کی چاہ ہے کبھی پا سے بیٹھ کہا تو کر مری آرزو مری بن گئی تو بنی ہے جو حقیقت بنا تو کر یہ گلاب جیسا بدن تیرا مجھے بازو ہے وہ ہے وہ بھی بھرا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر
arjun chamoli
2 likes
دھبہ جب جسم و جاں یہ مل رہے تھے ساتھ ہے وہ ہے وہ کھلتے رہے آغاز تھا حقیقت آشنا کا روز ہم ملتے رہے حقیقت روز بہ کا دور تھا بے فکر دونوں تھے کبھی جب ساتھ ہونا زندگی تھی ساتھ ہم چلتے رہے کس کی نظر ہم کو لگی جو عشق ہے وہ ہے وہ دھبہ لگا رسوا ہوئے دونوں ہی جب تو ساتھ سے بچتے رہے معصومیت کو جب سمجھداری ہوا دینے لگی دشوار تب ملنا ہوا تو اجنبی مشعل جاں رہے ٹھنڈا لہو پڑھنے لگیں لگا نکلا جنازہ عشق کا حقیقت دور تھا ظالم بڑا ا سے دور ہے وہ ہے وہ مرتے رہے جب حوصلے نے ہار معنی اور تنہائی بڑھی صحرا بنا گلشن ہمارا زخم بھی بڑھتے رہے جب سوچتے ہے آج ہوتا ہے گلہ ہم کو یہیں مطلب زمانے کو نہ تھا ہم بے پناہ ڈرتے رہے دنیا کی عادت ہے کہ ہر عاشق کو رسوائی ملے خوں عشق کا ہم نے کیا دنیا کو ہم کہتے رہے یہ پاپ اپنے سر پہ ہے دھونا بھی ہم نے ہے اسے کچھ سوچنا باقی نہیں ا سے بار ب سے ملتے رہے
arjun chamoli
2 likes
جاناں آشنا ہوں کیا تکرار گر بھلائی ہوں تو مجھے بتا مری طرح ابھی تک جاناں آشنا ہوں کیا یادوں ہے وہ ہے وہ ہر جگہ ہے ملتے ج ہاں تھے ہم مجھ کو نہیں پتا تھا ہوگا کبھی یہ کم منزل نہیں ملی تھی کوشش کیے تھے ہم دو گام ہی چلے تھے پھروں مڑ گئے تھے ہم وعدہ کروں محبت ہے وہ ہے وہ کھا کے یہ قسم ہم ساتھ ہوں گے ان کے جن کو کہی صنم اب ہم کبھی لگ بچھڑیں کھاتے ہیں یہ قسم جاناں نئے سرے سے پوری کریں قسم جاناں گر جواب دوگے آتا ہوں ہے وہ ہے وہ و ہاں سوچو ذرا ابھی تک جاناں آشنا ہوں کیا سوچو ذرا ابھی تک جاناں آشنا ہوں کیا
arjun chamoli
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on arjun chamoli.
Similar Moods
More moods that pair well with arjun chamoli's nazm.







