کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر تیری قیامت سے ڈرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی دل سے ڈر کو فنا تو کر یہ بڑا حسین ہے عشق بھی تو حسین بے حد یہ سنا تو کر یہ مہک ہے عشق کی جاں مری کہ تو پھول بنکے کھلا تو کر کبھی روشنی کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو بھی عشق کر کے جلا تو کر میرا دل تری ہی قدم پہ ہے کبھی لب سے لب بھی چھوا تو کر یہ ملن بھی عشق کی چاہ ہے کبھی پا سے بیٹھ کہا تو کر مری آرزو مری بن گئی تو بنی ہے جو حقیقت بنا تو کر یہ گلاب جیسا بدن تیرا مجھے بازو ہے وہ ہے وہ بھی بھرا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है
Sahir Ludhianvi
52 likes
More from arjun chamoli
کبھی سمے تھا کبھی سمے تھا دیکھا تھا اسے شرماتے ہوئے اپنے آنچل کو مری ہاتھوں سے بچاتے ہوئے اکیلے ملنے پر مجھ کو رجھاتے ہوئے مری ہاتھوں سے اپنی انگلياں چھواتے ہوئے سنسان جگہ پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے جانی بےبسی جگہ پر شوخی بڑھاتے ہوئے حقیقت دور تھا خوش تھے ایک دوجے کو ستاتے ہوئے اور تھک جاتے تھے ناراض کو مناتے ہوئے پیار ہے یا نہیں ڈرتے تھے یہ بتاتے ہوئے قریب رہتے تھے اپنے ارمان جگاتے ہوئے وہی سمے پھروں سے چاہتا ہے اوشا بان ہوں ہے وہ ہے وہ لے لے حقیقت مجھ پہ حق جتاتے ہوئے
arjun chamoli
3 likes
آپ کے لیے کبھی ہنستا تھا کھل کھل کر کبھی تھی زندگی مری یہ مجبوری یہ رسوائی یہ بربا گرا ہوئی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ اب تنہا فنا فی ال عشق ہیں انجانے گھٹن کے ساتھ اب ہے یہ سمٹتی زندگی مری گنا ہوں کی سزا ہوتی تو سہ لیتا خوشی سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلطیاں کے بن جہنم سی ہے نظم زندگی مری مجھے کیا علم تھا الزام جھوٹا بھی لگاتے ہیں جلن دنیا کی اتنی قتل کر دی شخصیت مری لگ گھٹ کر موت آتی ہے لگ گھٹ کر کوئی جی سکتا مجھے محسو سے ہوتا ہے یہ زندہ لاش ہے مری کبھی دشمن نہیں تھے سب کبھی تھی دوستی سب سے لگ کوئی دوست لگتا اب لگ کوئی دشمنی مری مری دل ہے وہ ہے وہ لگ کچھ باقی جو اب بھی ٹوٹ سکتا ہوں یہ ٹکڑے جی رہے کیوںکر ہیں حیرانی بڑھی مری مجھے خوبصورت ہوئی خود سے ہے وہ ہے وہ کیوں کمزور ہوں اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود آیا تری در پہ یا قسمت لائی ہے مری بے حد کچھ کہ نہیں پاتا بے حد کچھ کہ بھی جاتا ہوں سمجھ ہے وہ ہے وہ جو نہیں آئی حقیقت ب سے تسلیم ہے مری تجھے آغاز کرنا ہے تجھے انجام ہے دینا ملے منزل نہیں مجھ کو تو یہ تقدیر ہے مری<br
arjun chamoli
3 likes
دھبہ جب جسم و جاں یہ مل رہے تھے ساتھ ہے وہ ہے وہ کھلتے رہے آغاز تھا حقیقت آشنا کا روز ہم ملتے رہے حقیقت روز بہ کا دور تھا بے فکر دونوں تھے کبھی جب ساتھ ہونا زندگی تھی ساتھ ہم چلتے رہے کس کی نظر ہم کو لگی جو عشق ہے وہ ہے وہ دھبہ لگا رسوا ہوئے دونوں ہی جب تو ساتھ سے بچتے رہے معصومیت کو جب سمجھداری ہوا دینے لگی دشوار تب ملنا ہوا تو اجنبی مشعل جاں رہے ٹھنڈا لہو پڑھنے لگیں لگا نکلا جنازہ عشق کا حقیقت دور تھا ظالم بڑا ا سے دور ہے وہ ہے وہ مرتے رہے جب حوصلے نے ہار معنی اور تنہائی بڑھی صحرا بنا گلشن ہمارا زخم بھی بڑھتے رہے جب سوچتے ہے آج ہوتا ہے گلہ ہم کو یہیں مطلب زمانے کو نہ تھا ہم بے پناہ ڈرتے رہے دنیا کی عادت ہے کہ ہر عاشق کو رسوائی ملے خوں عشق کا ہم نے کیا دنیا کو ہم کہتے رہے یہ پاپ اپنے سر پہ ہے دھونا بھی ہم نے ہے اسے کچھ سوچنا باقی نہیں ا سے بار ب سے ملتے رہے
arjun chamoli
2 likes
حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بےب سے نہیں ہوں مجھے یہ پتا ہے تری آگے کمزور دل بن یہ جائے محبت کو دراڑیں ہوں ہے وہ ہے وہ زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی بھری دکھ کی کیسے سنائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی کر بھی جیون ہے وہ ہے وہ ہر پل مرا ہوں مری لاش کو کوئی کیسے جلائے سکون سے بھرا کوئی دن گر ملے تو ترا ساتھ ہوں اور دنیا بھلائے تجھے پوجنا چاہتا ہے میرا دل بجھے دل سے اوشا دیا کیا جلائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے
arjun chamoli
2 likes
چھوٹی سی ملاقات ہم بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے ہوئے یوں جواں ہوں گئے ارمان بنا کہے ہی سب بیاں ہوں گئے بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے تھے جو چھپنے کا کھیل ہم چاہتے تھے لگ ڈھونڈ پائے کوئی سیاہ بخت تھے ایسے ہم ایک دن پتا چلا کہ ہارا نہیں ہے کوئی ڈھونڈا تو ایک نے تھا پکڑے گئے تھے ہم سانسیں تو چھو رہی تھی چپ چپ کھڑے تھے ہم مانا کہ دھڑکنوں کو روکے رہے تھے ہم دل نے لگ معنی بات پسینے سے نہا گئے دھڑکن تھی اتنی تیز ڈر لگ لگے تھے ہم ایسی ملاقات کبھی محسو سے لگ کی تھی دونوں نے کبھی ایسی کوئی بات لگ کی تھی خفا ہوں زندگی سے حقیقت سمے بیت کیوں گیا تو ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی
arjun chamoli
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on arjun chamoli.
Similar Moods
More moods that pair well with arjun chamoli's nazm.







