حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بےب سے نہیں ہوں مجھے یہ پتا ہے تری آگے کمزور دل بن یہ جائے محبت کو دراڑیں ہوں ہے وہ ہے وہ زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہانی بھری دکھ کی کیسے سنائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی کر بھی جیون ہے وہ ہے وہ ہر پل مرا ہوں مری لاش کو کوئی کیسے جلائے سکون سے بھرا کوئی دن گر ملے تو ترا ساتھ ہوں اور دنیا بھلائے تجھے پوجنا چاہتا ہے میرا دل بجھے دل سے اوشا دیا کیا جلائے حقیقت آنسو جو تری قدم پہ گرائے تھے پوجا ہے وہ ہے وہ ارپن تجھی کو چڑھائے
Related Nazm
"कब" कब ये पेड़ हरे होंगे फिर से कब ये कलियाँ फूटेंगी और ये फूल हसेंगे कब ये झरने अपनी प्यास भरेंगे कब ये नदियाँ शोर मचाएँगी कब ये आज़ाद किए जाएँगे सब पंछी कब जंगल साँसे लेंगे कब सब जाएँगे अपने घर कब हाथों से ज़ंजीरें खोली जाएँगी कब हम ऐसों को पूछेगा कोई और ये फ़क़ीरों को भी क़िस्से में लाया जाएगा कब इन काँटों की भी क़ीमत होगी और मिट्टी सोने के भाव में आएगी कब लोगों की ग़लती टाली जाएगी कब ये हवाएँ पायल पहने झूमेगी कब अंबर से परियाँ उतरेंगी कब पत्थरों से भी ख़ुशबू आएगी कब हंसों के जोड़ें नदियों पे बैठेंगे बरखा गीत बनाएगी और मोर उठा के पर कत्थक करते देखे जाएँगे नीलकमल पानी से इश्क़ लड़ाएंगे मछलियाँ ख़ुशी के गोते मारेंगी कब कोयल की कूक सुनाई देगी कब भॅंवरे फिर गुन- गुन करते लौटेंगे बागों में और कब ये प्यारी तितलियाँ कलर फेकेंगी फिर सब कुछ डूबा होगा रंगों में कब ये दुनिया रौशन होगी कब ये जुगनू अपने रंग में आएँगे कब ये सब मुमकिन है कब सबके ही सपने पूरे होंगे कब अपने मन के मुताबिक़ होगा सब कुछ कब ये बहारें लोटेंगी कब वो तारीख़ आएगी बस मुझ को ही नहीं सब को इंतिज़ार है तेरे ' बर्थडे ' का
BR SUDHAKAR
16 likes
صداقت عشق عشق کی جاناں حقیقت سمجھ لو اس کا کا کو غم سے گزرنا پڑےگا ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ مصروف ہوں جاناں ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ رہنا پڑےگا غزلوں اپنا تجھ کو سناؤں جی تو کرتا ہے تجھ کو سناؤں تیری آنکھوں سے کہ دیںگی آنسو اب مجھے بھی نکلنا پڑےگا اپنے بھی روٹھ جائیں گے تیرے رشتے بھی چھوٹ جائیں گے تیرے لوگ تجھ کو کہیں گے سنگ و خشت ایسا لمحہ بھی سہنا پڑےگا تو بھروسا بھی کرتا ہے جس پہ بے وجہ ہوگا ناراض تجھ سے ہوتا 9 یہاں ایسا عاشق عشق سے ہاں مکرنہ پڑےگا حقیقت تجھے بھول جائیں گے ایسے جانے زندہ رہے گا تو کیسے مشورہ بس یہی دےگا دانش الوداع تجھ کو کہنا پڑےگا
Danish Balliavi
12 likes
ہماری بے وفا ہم سفر بے سبب پیار کرتے ہیں تجھ سے ہم نے یہ بھی جاتایا نہیں ہے کب سے تو نے نکالا ہے دل سے تو نے اب تک بتایا نہیں ہے اپنے چہرے سے چلمن ہٹا لے ہم نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے پیار ہوگا مکمل یہ کیسے ساتھ تو نے نبھایا نہیں ہے ہم تری ہیں تری ہی رہیں گے تو نے اپنا ہی سمجھا نہیں ہے ہم تو مجنوں ہوئے تیری خاطر تجھ کو ہم نے ستایا نہیں ہے پیار کے تحفے ہم نے جو دی ہیں تو نے اس کا کو بھی رکھا نہیں ہے رنجشوں ہے وہ ہے وہ ہی چھوڑا ہے تو نے ہم نے ماتم منایا نہیں ہے بے وفا تو ہے دانش کے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری دل ہے وہ ہے وہ کیوں دانش نہیں ہے تیری خاطر یہ جاں بھی ہے حاضر تجھ کو جملہ سنایا نہیں ہے
Danish Balliavi
11 likes
بابا تری کمرے سے جو آتی تھی ہمیشہ بابا حقیقت آواز پکارتی نہیں مجھ کو بابا تری کاندهوں پر بیٹھ کر جو دیکھے تھے کبھی حقیقت ذائقہ لگتے ہیں اب سونے جسر بابا یہ زمانے کی نگاہیں کوڑی ہے وحشی ہے یہ نوچ نو زائیدہ جسموں کو ہمارے بابا تو گھر ہے وہ ہے وہ ہمارے ویران تھا ہم تو تری آنگن کی کلی تھے بابا تری کاندهوں پر آخری سمے رونا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے گھر سے وداع ہونا تھا بابا تیری ہی نشانی ہے تجھ سا دکھتا بھی ہے بھائی بھی کب بیٹیوں سا سمجھتا ہے بابا تو جو گیا تو ماں کے چہرے کی رنگت بھی لے گیا تو حقیقت بھی ادا سے ہے بے حد کم بولتی ہے بابا دل سے اب ب سے یہی دعا نکلتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مسکراتے ملو جنت ہے وہ ہے وہ بابا
ALI ZUHRI
9 likes
تلاش حق تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو ہدف کو دیکھ دنیا کے اسے پہچان ا سے کی جستجو ہے وہ ہے وہ رات دن لگ جا تجھے حق بھی ملےگا ا سے تلک جانے کا رستہ بھی م گر حقیقت راستہ چن لے تو پھروں تو زخم خانے کو ج گر بھی ساتھ لے آنا ستم پر مسکرانے کا ہنر بھی ساتھ لے آنا یہی ہے انتہا ا سے کی یہی انجام ہوتا ہے کہ ا سے رستے پہ چلنے کا یہی انعام ہوتا ہے م گر ا سے راستے پر زخم خانے کا مزہ کچھ اور ہے سن لے ی ہاں پر جان دینے کی جزا کچھ اور ہے سن لے ا گر تو عزم کر لے ب سے ذرا سا حوصلہ کر لے تو پھروں کل کیا پتا جب پھروں کوئی حق کا ہوں جوئندہ نشان رستے لہو کے تری کوئی نقش پا کر لے کہ یہ دنیا تو فانی ہے یہ جاں تو یوں بھی جانی ہے تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو
Dharmesh bashar
7 likes
More from arjun chamoli
کبھی سمے تھا کبھی سمے تھا دیکھا تھا اسے شرماتے ہوئے اپنے آنچل کو مری ہاتھوں سے بچاتے ہوئے اکیلے ملنے پر مجھ کو رجھاتے ہوئے مری ہاتھوں سے اپنی انگلياں چھواتے ہوئے سنسان جگہ پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے جانی بےبسی جگہ پر شوخی بڑھاتے ہوئے حقیقت دور تھا خوش تھے ایک دوجے کو ستاتے ہوئے اور تھک جاتے تھے ناراض کو مناتے ہوئے پیار ہے یا نہیں ڈرتے تھے یہ بتاتے ہوئے قریب رہتے تھے اپنے ارمان جگاتے ہوئے وہی سمے پھروں سے چاہتا ہے اوشا بان ہوں ہے وہ ہے وہ لے لے حقیقت مجھ پہ حق جتاتے ہوئے
arjun chamoli
3 likes
کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر تیری قیامت سے ڈرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی دل سے ڈر کو فنا تو کر یہ بڑا حسین ہے عشق بھی تو حسین بے حد یہ سنا تو کر یہ مہک ہے عشق کی جاں مری کہ تو پھول بنکے کھلا تو کر کبھی روشنی کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو بھی عشق کر کے جلا تو کر میرا دل تری ہی قدم پہ ہے کبھی لب سے لب بھی چھوا تو کر یہ ملن بھی عشق کی چاہ ہے کبھی پا سے بیٹھ کہا تو کر مری آرزو مری بن گئی تو بنی ہے جو حقیقت بنا تو کر یہ گلاب جیسا بدن تیرا مجھے بازو ہے وہ ہے وہ بھی بھرا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر
arjun chamoli
2 likes
دھبہ جب جسم و جاں یہ مل رہے تھے ساتھ ہے وہ ہے وہ کھلتے رہے آغاز تھا حقیقت آشنا کا روز ہم ملتے رہے حقیقت روز بہ کا دور تھا بے فکر دونوں تھے کبھی جب ساتھ ہونا زندگی تھی ساتھ ہم چلتے رہے کس کی نظر ہم کو لگی جو عشق ہے وہ ہے وہ دھبہ لگا رسوا ہوئے دونوں ہی جب تو ساتھ سے بچتے رہے معصومیت کو جب سمجھداری ہوا دینے لگی دشوار تب ملنا ہوا تو اجنبی مشعل جاں رہے ٹھنڈا لہو پڑھنے لگیں لگا نکلا جنازہ عشق کا حقیقت دور تھا ظالم بڑا ا سے دور ہے وہ ہے وہ مرتے رہے جب حوصلے نے ہار معنی اور تنہائی بڑھی صحرا بنا گلشن ہمارا زخم بھی بڑھتے رہے جب سوچتے ہے آج ہوتا ہے گلہ ہم کو یہیں مطلب زمانے کو نہ تھا ہم بے پناہ ڈرتے رہے دنیا کی عادت ہے کہ ہر عاشق کو رسوائی ملے خوں عشق کا ہم نے کیا دنیا کو ہم کہتے رہے یہ پاپ اپنے سر پہ ہے دھونا بھی ہم نے ہے اسے کچھ سوچنا باقی نہیں ا سے بار ب سے ملتے رہے
arjun chamoli
2 likes
آپ کے لیے کبھی ہنستا تھا کھل کھل کر کبھی تھی زندگی مری یہ مجبوری یہ رسوائی یہ بربا گرا ہوئی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ اب تنہا فنا فی ال عشق ہیں انجانے گھٹن کے ساتھ اب ہے یہ سمٹتی زندگی مری گنا ہوں کی سزا ہوتی تو سہ لیتا خوشی سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلطیاں کے بن جہنم سی ہے نظم زندگی مری مجھے کیا علم تھا الزام جھوٹا بھی لگاتے ہیں جلن دنیا کی اتنی قتل کر دی شخصیت مری لگ گھٹ کر موت آتی ہے لگ گھٹ کر کوئی جی سکتا مجھے محسو سے ہوتا ہے یہ زندہ لاش ہے مری کبھی دشمن نہیں تھے سب کبھی تھی دوستی سب سے لگ کوئی دوست لگتا اب لگ کوئی دشمنی مری مری دل ہے وہ ہے وہ لگ کچھ باقی جو اب بھی ٹوٹ سکتا ہوں یہ ٹکڑے جی رہے کیوںکر ہیں حیرانی بڑھی مری مجھے خوبصورت ہوئی خود سے ہے وہ ہے وہ کیوں کمزور ہوں اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود آیا تری در پہ یا قسمت لائی ہے مری بے حد کچھ کہ نہیں پاتا بے حد کچھ کہ بھی جاتا ہوں سمجھ ہے وہ ہے وہ جو نہیں آئی حقیقت ب سے تسلیم ہے مری تجھے آغاز کرنا ہے تجھے انجام ہے دینا ملے منزل نہیں مجھ کو تو یہ تقدیر ہے مری<br
arjun chamoli
3 likes
محبوب کی ایک جھلک روح ہے وہ ہے وہ اتر گئی شکل ا سے کی جب نظر اٹھائی طرف ا سے کی ریشمی لبا سے ہے وہ ہے وہ ظفر تھی حقیقت دودھ کی طرح تھی کمر تراش ا سے کی کان پر جھولتی ا سے کی بالی چومتی جاتی تھی گردن ا سے کی تن سے لپٹی خم بھری ساڑی مہ لقا تھی سندر کٹی ا سے کی آنکھوں کی بناوٹ بادام جیسی ملائے گا شباب پر تھی نظر ا سے کی گورے رنگ کے بیچ گلے کا خم کہ رہا تھا چومے دل پسند ا سے کی جسم کی گڑھن تھی یوں ڈھلی مورت آرزو ہوں کوئی سنگ تراش ا سے کی ہاتھ تھے بتوں کی طرح تراشے ہوئے مکھن جیسی غضب ا سے کی بالوں کی لمبی لٹکن چھوتی جاتی کمر تراش ا سے کی پیروں نے پائی تھی سیدھی گٹھن کیلے کے پیڑ سی اپما ا سے کی کھینچتا ہوا اٹھا سینا تھا کسی ہوئی تھی کمان ا سے کی کھلتے لب بھرے بھرے سے تھے شہد سے بھری پھکڑی ا سے کی پھول کی طرح کا پری چہرہ اجلے رنگ ہے وہ ہے وہ صورت ا سے کی اور کیا مثال دیں ہم اوشا آفتاب جیسی جھلک ا سے کی
arjun chamoli
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on arjun chamoli.
Similar Moods
More moods that pair well with arjun chamoli's nazm.







