nazmKuch Alfaaz

محبوب کی ایک جھلک روح ہے وہ ہے وہ اتر گئی شکل ا سے کی جب نظر اٹھائی طرف ا سے کی ریشمی لبا سے ہے وہ ہے وہ ظفر تھی حقیقت دودھ کی طرح تھی کمر تراش ا سے کی کان پر جھولتی ا سے کی بالی چومتی جاتی تھی گردن ا سے کی تن سے لپٹی خم بھری ساڑی مہ لقا تھی سندر کٹی ا سے کی آنکھوں کی بناوٹ بادام جیسی ملائے گا شباب پر تھی نظر ا سے کی گورے رنگ کے بیچ گلے کا خم کہ رہا تھا چومے دل پسند ا سے کی جسم کی گڑھن تھی یوں ڈھلی مورت آرزو ہوں کوئی سنگ تراش ا سے کی ہاتھ تھے بتوں کی طرح تراشے ہوئے مکھن جیسی غضب ا سے کی بالوں کی لمبی لٹکن چھوتی جاتی کمر تراش ا سے کی پیروں نے پائی تھی سیدھی گٹھن کیلے کے پیڑ سی اپما ا سے کی کھینچتا ہوا اٹھا سینا تھا کسی ہوئی تھی کمان ا سے کی کھلتے لب بھرے بھرے سے تھے شہد سے بھری پھکڑی ا سے کی پھول کی طرح کا پری چہرہ اجلے رنگ ہے وہ ہے وہ صورت ا سے کی اور کیا مثال دیں ہم اوشا آفتاب جیسی جھلک ا سے کی

Related Nazm

''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए

Amir Ameer

295 likes

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا

Jaun Elia

216 likes

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے

Tehzeeb Hafi

180 likes

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ

Muneer Niyazi

108 likes

More from arjun chamoli

کبھی سمے تھا کبھی سمے تھا دیکھا تھا اسے شرماتے ہوئے اپنے آنچل کو مری ہاتھوں سے بچاتے ہوئے اکیلے ملنے پر مجھ کو رجھاتے ہوئے مری ہاتھوں سے اپنی انگلياں چھواتے ہوئے سنسان جگہ پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے جانی بےبسی جگہ پر شوخی بڑھاتے ہوئے حقیقت دور تھا خوش تھے ایک دوجے کو ستاتے ہوئے اور تھک جاتے تھے ناراض کو مناتے ہوئے پیار ہے یا نہیں ڈرتے تھے یہ بتاتے ہوئے قریب رہتے تھے اپنے ارمان جگاتے ہوئے وہی سمے پھروں سے چاہتا ہے اوشا بان ہوں ہے وہ ہے وہ لے لے حقیقت مجھ پہ حق جتاتے ہوئے

arjun chamoli

3 likes

چھوٹی سی ملاقات ہم بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے ہوئے یوں جواں ہوں گئے ارمان بنا کہے ہی سب بیاں ہوں گئے بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلتے تھے جو چھپنے کا کھیل ہم چاہتے تھے لگ ڈھونڈ پائے کوئی سیاہ بخت تھے ایسے ہم ایک دن پتا چلا کہ ہارا نہیں ہے کوئی ڈھونڈا تو ایک نے تھا پکڑے گئے تھے ہم سانسیں تو چھو رہی تھی چپ چپ کھڑے تھے ہم مانا کہ دھڑکنوں کو روکے رہے تھے ہم دل نے لگ معنی بات پسینے سے نہا گئے دھڑکن تھی اتنی تیز ڈر لگ لگے تھے ہم ایسی ملاقات کبھی محسو سے لگ کی تھی دونوں نے کبھی ایسی کوئی بات لگ کی تھی خفا ہوں زندگی سے حقیقت سمے بیت کیوں گیا تو ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی ا سے کے گزر جانے کی کوئی بات لگ کی تھی

arjun chamoli

3 likes

کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر تیری قیامت سے ڈرا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی دل سے ڈر کو فنا تو کر یہ بڑا حسین ہے عشق بھی تو حسین بے حد یہ سنا تو کر یہ مہک ہے عشق کی جاں مری کہ تو پھول بنکے کھلا تو کر کبھی روشنی کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو بھی عشق کر کے جلا تو کر میرا دل تری ہی قدم پہ ہے کبھی لب سے لب بھی چھوا تو کر یہ ملن بھی عشق کی چاہ ہے کبھی پا سے بیٹھ کہا تو کر مری آرزو مری بن گئی تو بنی ہے جو حقیقت بنا تو کر یہ گلاب جیسا بدن تیرا مجھے بازو ہے وہ ہے وہ بھی بھرا تو کر مری زندگی مری بندگی کبھی پیار بنکے دعا تو کر

arjun chamoli

2 likes

آپ کے لیے کبھی ہنستا تھا کھل کھل کر کبھی تھی زندگی مری یہ مجبوری یہ رسوائی یہ بربا گرا ہوئی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ اب تنہا فنا فی ال عشق ہیں انجانے گھٹن کے ساتھ اب ہے یہ سمٹتی زندگی مری گنا ہوں کی سزا ہوتی تو سہ لیتا خوشی سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلطیاں کے بن جہنم سی ہے نظم زندگی مری مجھے کیا علم تھا الزام جھوٹا بھی لگاتے ہیں جلن دنیا کی اتنی قتل کر دی شخصیت مری لگ گھٹ کر موت آتی ہے لگ گھٹ کر کوئی جی سکتا مجھے محسو سے ہوتا ہے یہ زندہ لاش ہے مری کبھی دشمن نہیں تھے سب کبھی تھی دوستی سب سے لگ کوئی دوست لگتا اب لگ کوئی دشمنی مری مری دل ہے وہ ہے وہ لگ کچھ باقی جو اب بھی ٹوٹ سکتا ہوں یہ ٹکڑے جی رہے کیوںکر ہیں حیرانی بڑھی مری مجھے خوبصورت ہوئی خود سے ہے وہ ہے وہ کیوں کمزور ہوں اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود آیا تری در پہ یا قسمت لائی ہے مری بے حد کچھ کہ نہیں پاتا بے حد کچھ کہ بھی جاتا ہوں سمجھ ہے وہ ہے وہ جو نہیں آئی حقیقت ب سے تسلیم ہے مری تجھے آغاز کرنا ہے تجھے انجام ہے دینا ملے منزل نہیں مجھ کو تو یہ تقدیر ہے مری<br

arjun chamoli

3 likes

دھبہ جب جسم و جاں یہ مل رہے تھے ساتھ ہے وہ ہے وہ کھلتے رہے آغاز تھا حقیقت آشنا کا روز ہم ملتے رہے حقیقت روز بہ کا دور تھا بے فکر دونوں تھے کبھی جب ساتھ ہونا زندگی تھی ساتھ ہم چلتے رہے کس کی نظر ہم کو لگی جو عشق ہے وہ ہے وہ دھبہ لگا رسوا ہوئے دونوں ہی جب تو ساتھ سے بچتے رہے معصومیت کو جب سمجھداری ہوا دینے لگی دشوار تب ملنا ہوا تو اجنبی مشعل جاں رہے ٹھنڈا لہو پڑھنے لگیں لگا نکلا جنازہ عشق کا حقیقت دور تھا ظالم بڑا ا سے دور ہے وہ ہے وہ مرتے رہے جب حوصلے نے ہار معنی اور تنہائی بڑھی صحرا بنا گلشن ہمارا زخم بھی بڑھتے رہے جب سوچتے ہے آج ہوتا ہے گلہ ہم کو یہیں مطلب زمانے کو نہ تھا ہم بے پناہ ڈرتے رہے دنیا کی عادت ہے کہ ہر عاشق کو رسوائی ملے خوں عشق کا ہم نے کیا دنیا کو ہم کہتے رہے یہ پاپ اپنے سر پہ ہے دھونا بھی ہم نے ہے اسے کچھ سوچنا باقی نہیں ا سے بار ب سے ملتے رہے

arjun chamoli

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on arjun chamoli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with arjun chamoli's nazm.