nazmKuch Alfaaz

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر حقیقت انتظار تھا ج سے کا یہ حقیقت سحر تو نہیں یہ حقیقت سحر تو نہیں ج سے کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہی لگ کہی فلک کے دشت ہے وہ ہے وہ تاروں کی آخری منزل کہی تو ہوگا شب سست موج کا ساحل کہی تو جا کے رکےگا سفی لگ غم دل جواں لہو کی پر اسرار شاہرا ہوں سے چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے دیار حسن کی بے دل پامال خواب گا ہوں سے پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہے بے حد عزیز تھی لیکن رکھ سحر کی لگن بے حد قریں تھا حسینان نور کا دامن بیعت بیعت تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن سنا ہے ہوں بھی چکا ہے فرق میسج نور سنا ہے ہوں بھی چکا ہے وصال منزل و گام بدل چکا ہے بے حد اہل درد کا جھمکے نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام ج گر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن کسی پہ چارہ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں ک ہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں ابھی گرانی شب ہے وہ ہے وہ کمی نہیں آئی نجات دید و دل کی گھڑی نہیں آئی چلے چلو کہ حقیقت منزل ابھی نہیں آئی

Related Nazm

نظم شاہزادی بہت نادان تھی لڑکی مجھے اپنا سمجھتی تھی مجھہی پہ جاں لٹاتی تھی بہت باتیں بناتی تھی مجھے قصے سناتی تھی اور اس میں شہزادی تھی جسے اک شہزادے سے محبت تھی وہ کہتی تھی کہ میں بھی شہزادی ہوں مجھے بھی شاہزادہ ہی ملےگا نا جو مجھ پہ جاں لٹائے گا مجھے اپنا بنائےگا میں کہتا تھا کہ میں ہوں آم سا لڑکا محبت کا تو مطلب بھی مجھے اب تک نہیں معلوم تمہیں دیکھوں تو لگتا ہے محبت چیز ہے کوئی,جو تم جیسی حسین ہوںگی میں تم سے بات کرتا ہوں تو لگتا ہے محبت ہے کوئی لڑکی جو یوں ہی بولتی ہو گی تمہارے ساتھ ہوتا ہوں تو لگتا ہے محبت ہے یہیں پہ پاس میں میرے سو یوں سمجھو میری خاطر محبت تم محبت کا ہو مطلب تم وہ کہتی تھی چلو جھوٹے بہت باتیں بناتے ہو نہیں ہو اتنے بھولے تم مجھے جتنا دکھاتے ہو کہا میں نے ارے پگلی مجھے چھوڑو چلو جاؤ کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ ہے کوئی شاہزادہ تو کہ تم تو شہزادی ہو تمہیں تو شاہزادہ ہی ملےگا نا دکھا آنکھیں کہا اس نے کہ ہاں ہاں لے ہی آؤں گی تمہیں میں پھر دکھاؤں گی<b

Ankit Maurya

12 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

نثری نجم نثر ابا نجم اماں دونوں کو انکار ہے یہ جو نثری نجم ہے یہ ک سے کی پیدا وار ہے صرف لفاظی پہ مبنی ہے یہ تجری گرا چھوؤں گا ج سے ہے وہ ہے وہ عنقا ہیں معانی لفظ پردہ دار ہے نثر ہے گر نثر تو حقیقت نجم ہوں سکتی نہیں نجم جو ہوں نثر کی مانند حقیقت بے کار ہے قافیہ کی کوئی آزمایا لگ ہے قید ردیف بے در و دیوار کا یہ گھر بھی کیا سخن ساز ہے بہر سے آزاد قید وزن سے ہے بے نیاز واہ کیا مدر پدر آزاد یہ دلدار ہے مرتبے ہے وہ ہے وہ میر و مومن سے ہے ہر کوئی بلند ان ہے وہ ہے وہ ہر بے بحر تاکتے سے بڑا فنکار ہے ج سے کے چمچے جتنے زیادہ ہوں حقیقت اتنا ہی عظیم آج کل مصرع اٹھانا ایک کاروبار ہے داد صرف اپنوں کو دیتے ہیں گروہ اندر گروہ ان کے ٹولے سے جو باہر ہوں گیا تو مردار ہے بن گیا تو استاد و علامہ ی ہاں ہر بے شعور کور چشم اہل نظر ہونے کا دعویدار ہے شاعری بانہوں شاعری ہے ہے ذرا محنت طلب اور محنت ہی حقیقت اجازت ہے ج سے سے ان کو آر ہے پاپ میوزک کے لیے بحر کشف مدعا ہے نثری شاعری ہر روایت سے بغاوت کی یہ دعویدار ہے طبع معنی دل گر لگ بخشی ہوں

Aasi Rizvi

13 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

Faiz Ahmad Faiz

3 likes

ہم پرورش لوح و کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھےگی ہاں اہل ستم مشک ستم کرتے رہیں گے جھمکے یہ تلخی یہ ستم ہم کو بے شرط دم ہے تو مدوا الم کرتے رہیں گے مے خا لگ سلامت ہے تو ہم سرخی مے سے تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے باقی ہے لہو دل ہے وہ ہے وہ تو ہر خوشی سے پیدا رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے اک طرز ت غافل ہے سو حقیقت ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

حقیقت ج سے کی دید ہے وہ ہے وہ لاکھوں مسرتیں پن ہاں حقیقت حسن ج سے کی تمنا ہے وہ ہے وہ جنتیں پن ہاں ہزار فتنے تہ پا لگ ناز خاک نشیں ہر اک نگاہ خمار شباب سے درماندہ شباب ج سے سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں نظیر و ج سے کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں ادا لغزش پا پر قیامتیں قرباں بیاض رکھ پہ سحر کی سباحتیں قرباں سیاہ زلفوں ہے وہ ہے وہ وارفتہ نکہتوں کا ہجوم طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم حقیقت آنکھ ج سے کے بناو بچیں خالق اتراے زبان شیر کو تعریف کرتے شرم آئی حقیقت ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش مکیں و کوثر و تسنیم و سلسبیل ب دوش گداز جسم قباء ج سے پہ سج کے ناز کرے دراز قد جسے سرو سہي نماز کرے غرض حقیقت حسن جو محتاج وصف و نام نہیں حقیقت حسن ج سے کا تصور بشر کا کام نہیں کسی زمانے ہے وہ ہے وہ ا سے رہ گزر سے گزرا تھا بصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھا اور اب یہ راہ گزر بھی ہے دل فریب و حسین ہے ا سے کی خاک ہے وہ ہے وہ کیف شراب و شیر جلوے ہوا ہے وہ ہے وہ شوخی رفتار کی ادائیں ہیں فضا ہے وہ ہے وہ نرمی گفتار کی صدائیں ہیں غرض حقیقت حسن

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

گزر رہے ہیں شب و روز جاناں نہیں آتی ریاض زیست ہے آزردہ بہار ابھی مری خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں تری غم کی کفیل ہیں پیاری ابھی تلک مری تنہائیوں ہے وہ ہے وہ بستی ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری ادا سے آنکھیں تری دید کو مشین ہیں بہار حسن پہ پابن گرا کہوں کب تک یہ آزمائش دل پامال گریز پا کب تک قسم تمہاری بے حد غم اٹھا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلط تھا دعا دل پامال و شکیب آ جاؤ قرار خاطر بیتاب تھک گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اور کچھ دیر ستم سہ لیں تڑپ لیں رو لیں اپنے ٹھی سے کی میرا سے ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبو سے ہے گفتار پہ تازیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھروں بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفل سے کی قباء ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں اک ذرا دل پامال کہ پڑنا کے دن تھوڑے ہیں عرصہ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم کو رہنا ہے پہ یوںہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے یہ تری حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار چاندنی راتوں کا بیکار دہکتا ہوا درد دل کی بے سود تڑپ جسم کی مایو سے پکار چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.