بارود کے بدلے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ آ جائے کتاب تو اچھا ہوں اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہوں
Related Sher
ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
136 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی
Ismail Raaz
140 likes
تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
Santosh S Singh
339 likes
سبھی کا خون ہے شامل ی ہاں کی مٹی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
Rahat Indori
144 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
ہر سال کی آخری شاموں ہے وہ ہے وہ دو چار ورق اڑ جاتے ہیں اب اور لگ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہوں
Ghulam Mohammad Qasir
6 likes
کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے ا سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
9 likes
اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
جن کی درد بھری باتوں سے ایک زما لگ رام ہوا سینکڑوں ایسے فن کاروں کی قسمت ہے وہ ہے وہ بن با سے رہا
Ghulam Mohammad Qasir
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's sher.







