دل خوش گوار بھی ہے ترا بے قرار بھی کچھ کچھ تو لگ رہا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چارہ ساز بھی نینن انہی کے رہتے ہوں گھر ہے وہ ہے وہ گھسے ہوئے اوپر سے بن رہے ہوں بڑے ناک دار بھی کرتا ہوں دو شکار ہے وہ ہے وہ تو ایک تیر سے فن گیتکار بھی ہے میرا حسن کار بھی جاناں نے نہیں کہا تھا ج ہاں چھوڑ دے ابھی اوپر سے کر رہے ہوں میرا انتظار بھی جاناں لوگ کہ رہے ہوں بھلا آدمی اسے مجھ کو نظر سے لگ رہا ہے عیب دار بھی مجھ پر ہی مری جان کا الزام دھر دیا اوپر سے بولتے ہوں مجھے غم گسار بھی نینن نمک لگانا غریبوں کے زخم پر یہ تیرا کام کاج ہے اور روزگار بھی
Related Sher
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو تاکتے یہ خیال اچھا ہے
Mirza Ghalib
489 likes
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا لگنے لگا ہے م گر لگے گا نہیں نہیں لگے گا اسے دیکھ کر م گر خوش ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش نہیں ہوں م گر دیکھ کر لگے گا نہیں
Umair Najmi
1244 likes
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
839 likes
بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا
Tehzeeb Hafi
751 likes
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر ہے وہ ہے وہ رہا
Ahmad Faraz
594 likes
More from Prashant Kumar
زمانے کے ظلم و ستم دیکھ لو مری زندگی کے بھی غم دیکھ لو خوشگوار سے بڑھکر رہے ہیں سبھی کمر تراش کے لگ مانو تو خم دیکھ لو محبت تو کرنے چلے ہوں م گر محبت ہے وہ ہے وہ کیا کیا ہیں غم دیکھ لو یہ خنجر چلانے سے پہلے سنو میرا حال تو کم سے کم دیکھ لو انتقامن اب کے زاہد بھی پینے لگے لگ مانو تو صاحب فن دیکھ لو
Prashant Kumar
4 likes
مری انداز زمانے سے نرالے ہوں گے آج اندھیرے ہیں تو کیا کل کو اجالے ہوں گے ایک روٹی میں سناتے ہیں تجھے کتنا کچھ کل سے ہونٹوں پہ تری میرے نوالے ہوں گے کم سے کم سیکڑوں کو بھوک نے مارا ہوگا بچ گئے جتنے سبھی درد نے پالے ہوں گے اب ہمیں موت بھی اڑاؤ نہیں کرتی ہے زندگی تو ہی بتا کس کے حوالے ہوں گے ہر دفع چھین لیا میرا نوالا سب نے پھروں تو بچے بھی تری بھوک نے پالے ہوں گے ارے کمرے میں مری کچھ بھی نہیں ہے سچی چار دیوار ملیںگی بچے خانہ خراب ہوں گے شہر دل میں سنو تو کوئی نہیں رہتا ہے تم کہاں جا رہے ہو سب میں ہی تالے ہوں گے چھوڑ کے خود کو زمانے کو دیا ہے مرہم پھروں تو بے شک ہی تری پاؤں میں چھالے ہوں گے
Prashant Kumar
4 likes
کچھ لوگ زمانے ہے وہ ہے وہ ہم نام نکل آئی جو ضرب سے سبھی سے تھے حقیقت آم نکل آئی ہے سب سے جدا تیرا انداز تبسم کا جو ایک ہنسی ہے وہ ہے وہ دو گلفام نکل آئی جو سب کو سکھاتے تھے اکرام محبت کا ان پر ہی محبت کے الزام نکل آئی جو سب کو بتاتے تھے ہے وہ ہے وہ اجنبی ہوں کوئی حقیقت نام سے میرے ہی بدنام نکل آئی تو اہل زمیں سے سن ہر بات بنا کے رکھ کچھ بھی نہ پتا کس سے کیا کام نکل آئی
Prashant Kumar
4 likes
خوابوں ہے وہ ہے وہ صحیح روز ستانے کے لیے آ آ پھروں سے مری دل کو چرانے کے لیے آ ہر کوئی سمجھتا ہے مجھے کانچ کا مرہم کچھ اور ہوں ہے وہ ہے وہ ان کو بتانے کے لیے آ ہر بار تری ب سے ہے وہ ہے وہ ک ہاں مجھ کو اٹھانا ا سے بار نگا ہوں سے گرانے کے لیے آ حقیقت رات وہی دن وہی تنہائی کا عالم آنکھوں ہے وہ ہے وہ وہی پیا سے جگانے کے لیے آ سانسوں کے چراغاں تری زلفوں نے بجھائے اب تو ہی جنازے کو اٹھانے کے لیے آ اک تری سوا تھا ہی میرا کون ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سو قبر کی بھی رسم نبھانے کے لیے آ جن دست مبارک ہے وہ ہے وہ مری جان بسی تھی مسجد ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ اٹھانے کے لیے آ
Prashant Kumar
4 likes
خاک بستیوں ہے وہ ہے وہ گھر ریت کے بناؤگے روز روز ایسے ہی خوب چوٹ سر و سامان حیات سوچتے تو ہیں ہم بھی چھت سے کود جائیں اب پھروں خیال آتا ہے جاناں کہاں پہ جاؤگے جو ہمارے ہوں کر بھی ہر کسی کو دیکھوگے بے وفا کی گنتی ہے وہ ہے وہ یار آ ہی جاؤگے بے نقاب ہوکر کے ہم نکل تو آئیں گے ہوں گیا تو کہیں کچھ بھی ہمپے ٹن ٹناؤگے شب کے آٹھ بجتے ہی جاناں کہاں پہ جاتے ہوں کوئی پوچھ بیٹھا پھروں بولو کیا بتاوگے جب رقیب بنکر ہی کچھ نہیں ہوا جاناں سے جاناں حبیب بنکر کیا بستیاں جلاؤگے جب نظر جھکاؤگے بات بن ہی جائے گی پیار سے جو بولیں گے جاناں بھی مان جاؤگے عشق کا محبت کا جب بخار آئےگا وقت پر دوا لینا خود ہی بھول جاؤگے جب کبھی بھی تنہائی نوچ کر کے نو زائیدہ میرا نام لکھ کر جاناں ہاتھ پر مٹاوگے داستان محبت کی ایک بار سن لوگے میرا نام گیتوں ہے وہ ہے وہ جاناں بھی گنگناؤگے
Prashant Kumar
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Prashant Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Prashant Kumar's sher.







