مری انداز زمانے سے نرالے ہوں گے آج اندھیرے ہیں تو کیا کل کو اجالے ہوں گے ایک روٹی میں سناتے ہیں تجھے کتنا کچھ کل سے ہونٹوں پہ تری میرے نوالے ہوں گے کم سے کم سیکڑوں کو بھوک نے مارا ہوگا بچ گئے جتنے سبھی درد نے پالے ہوں گے اب ہمیں موت بھی اڑاؤ نہیں کرتی ہے زندگی تو ہی بتا کس کے حوالے ہوں گے ہر دفع چھین لیا میرا نوالا سب نے پھروں تو بچے بھی تری بھوک نے پالے ہوں گے ارے کمرے میں مری کچھ بھی نہیں ہے سچی چار دیوار ملیںگی بچے خانہ خراب ہوں گے شہر دل میں سنو تو کوئی نہیں رہتا ہے تم کہاں جا رہے ہو سب میں ہی تالے ہوں گے چھوڑ کے خود کو زمانے کو دیا ہے مرہم پھروں تو بے شک ہی تری پاؤں میں چھالے ہوں گے
Related Sher
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے
Bashir Badr
112 likes
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
Mirza Ghalib
97 likes
ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے
Afkar Alvi
70 likes
آج اک اور بر سے بیت گیا تو ا سے کے بغیر ج سے کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے مری
Ahmad Faraz
90 likes
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے ہے وہ ہے وہ دم نہیں ہم سے زما لگ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
Jigar Moradabadi
87 likes
More from Prashant Kumar
زمانے کے ظلم و ستم دیکھ لو مری زندگی کے بھی غم دیکھ لو خوشگوار سے بڑھکر رہے ہیں سبھی کمر تراش کے لگ مانو تو خم دیکھ لو محبت تو کرنے چلے ہوں م گر محبت ہے وہ ہے وہ کیا کیا ہیں غم دیکھ لو یہ خنجر چلانے سے پہلے سنو میرا حال تو کم سے کم دیکھ لو انتقامن اب کے زاہد بھی پینے لگے لگ مانو تو صاحب فن دیکھ لو
Prashant Kumar
4 likes
دل خوش گوار بھی ہے ترا بے قرار بھی کچھ کچھ تو لگ رہا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چارہ ساز بھی نینن انہی کے رہتے ہوں گھر ہے وہ ہے وہ گھسے ہوئے اوپر سے بن رہے ہوں بڑے ناک دار بھی کرتا ہوں دو شکار ہے وہ ہے وہ تو ایک تیر سے فن گیتکار بھی ہے میرا حسن کار بھی جاناں نے نہیں کہا تھا ج ہاں چھوڑ دے ابھی اوپر سے کر رہے ہوں میرا انتظار بھی جاناں لوگ کہ رہے ہوں بھلا آدمی اسے مجھ کو نظر سے لگ رہا ہے عیب دار بھی مجھ پر ہی مری جان کا الزام دھر دیا اوپر سے بولتے ہوں مجھے غم گسار بھی نینن نمک لگانا غریبوں کے زخم پر یہ تیرا کام کاج ہے اور روزگار بھی
Prashant Kumar
3 likes
کچھ لوگ زمانے ہے وہ ہے وہ ہم نام نکل آئی جو ضرب سے سبھی سے تھے حقیقت آم نکل آئی ہے سب سے جدا تیرا انداز تبسم کا جو ایک ہنسی ہے وہ ہے وہ دو گلفام نکل آئی جو سب کو سکھاتے تھے اکرام محبت کا ان پر ہی محبت کے الزام نکل آئی جو سب کو بتاتے تھے ہے وہ ہے وہ اجنبی ہوں کوئی حقیقت نام سے میرے ہی بدنام نکل آئی تو اہل زمیں سے سن ہر بات بنا کے رکھ کچھ بھی نہ پتا کس سے کیا کام نکل آئی
Prashant Kumar
4 likes
حسن والوں میں سبھی کو نورستان ہونا چاہیے اور اس کا کے ساتھ ہی نو رنگ ہونا چاہیے صورت آشنا میں آئیں گے تو داد بھی دیں گے مگر ہر سخن ور شرط ہے خود رنگ ہونا چاہیے میں زمانے میں اگر بادہ آشامی تھا تو تم سے تھا قبر میں بھی تم کو میرے سنگ ہونا چاہیے تیس دن میں ایک دن ہی دل پہ دستک دیتے ہو عشق کرنے کا کوئی تو ڈھنگ ہونا چاہیے مجھ سے ہی بادہ آشامی ہے اس کا ملک کی مٹی تو پھروں اس کا کا ترنگے میں بھی میرا انگ ہونا چاہیے
Prashant Kumar
4 likes
خوابوں ہے وہ ہے وہ صحیح روز ستانے کے لیے آ آ پھروں سے مری دل کو چرانے کے لیے آ ہر کوئی سمجھتا ہے مجھے کانچ کا مرہم کچھ اور ہوں ہے وہ ہے وہ ان کو بتانے کے لیے آ ہر بار تری ب سے ہے وہ ہے وہ ک ہاں مجھ کو اٹھانا ا سے بار نگا ہوں سے گرانے کے لیے آ حقیقت رات وہی دن وہی تنہائی کا عالم آنکھوں ہے وہ ہے وہ وہی پیا سے جگانے کے لیے آ سانسوں کے چراغاں تری زلفوں نے بجھائے اب تو ہی جنازے کو اٹھانے کے لیے آ اک تری سوا تھا ہی میرا کون ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سو قبر کی بھی رسم نبھانے کے لیے آ جن دست مبارک ہے وہ ہے وہ مری جان بسی تھی مسجد ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ اٹھانے کے لیے آ
Prashant Kumar
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Prashant Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Prashant Kumar's sher.







