sherKuch Alfaaz

کچھ لوگ زمانے ہے وہ ہے وہ ہم نام نکل آئی جو ضرب سے سبھی سے تھے حقیقت آم نکل آئی ہے سب سے جدا تیرا انداز تبسم کا جو ایک ہنسی ہے وہ ہے وہ دو گلفام نکل آئی جو سب کو سکھاتے تھے اکرام محبت کا ان پر ہی محبت کے الزام نکل آئی جو سب کو بتاتے تھے ہے وہ ہے وہ اجنبی ہوں کوئی حقیقت نام سے میرے ہی بدنام نکل آئی تو اہل زمیں سے سن ہر بات بنا کے رکھ کچھ بھی نہ پتا کس سے کیا کام نکل آئی

More from Prashant Kumar

دل خوش گوار بھی ہے ترا بے قرار بھی کچھ کچھ تو لگ رہا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چارہ ساز بھی نینن انہی کے رہتے ہوں گھر ہے وہ ہے وہ گھسے ہوئے اوپر سے بن رہے ہوں بڑے ناک دار بھی کرتا ہوں دو شکار ہے وہ ہے وہ تو ایک تیر سے فن گیتکار بھی ہے میرا حسن کار بھی جاناں نے نہیں کہا تھا ج ہاں چھوڑ دے ابھی اوپر سے کر رہے ہوں میرا انتظار بھی جاناں لوگ کہ رہے ہوں بھلا آدمی اسے مجھ کو نظر سے لگ رہا ہے عیب دار بھی مجھ پر ہی مری جان کا الزام دھر دیا اوپر سے بولتے ہوں مجھے غم گسار بھی نینن نمک لگانا غریبوں کے زخم پر یہ تیرا کام کاج ہے اور روزگار بھی

Prashant Kumar

3 likes

زمانے کے ظلم و ستم دیکھ لو مری زندگی کے بھی غم دیکھ لو خوشگوار سے بڑھکر رہے ہیں سبھی کمر تراش کے لگ مانو تو خم دیکھ لو محبت تو کرنے چلے ہوں م گر محبت ہے وہ ہے وہ کیا کیا ہیں غم دیکھ لو یہ خنجر چلانے سے پہلے سنو میرا حال تو کم سے کم دیکھ لو انتقامن اب کے زاہد بھی پینے لگے لگ مانو تو صاحب فن دیکھ لو

Prashant Kumar

4 likes

خوابوں ہے وہ ہے وہ صحیح روز ستانے کے لیے آ آ پھروں سے مری دل کو چرانے کے لیے آ ہر کوئی سمجھتا ہے مجھے کانچ کا مرہم کچھ اور ہوں ہے وہ ہے وہ ان کو بتانے کے لیے آ ہر بار تری ب سے ہے وہ ہے وہ ک ہاں مجھ کو اٹھانا ا سے بار نگا ہوں سے گرانے کے لیے آ حقیقت رات وہی دن وہی تنہائی کا عالم آنکھوں ہے وہ ہے وہ وہی پیا سے جگانے کے لیے آ سانسوں کے چراغاں تری زلفوں نے بجھائے اب تو ہی جنازے کو اٹھانے کے لیے آ اک تری سوا تھا ہی میرا کون ج ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سو قبر کی بھی رسم نبھانے کے لیے آ جن دست مبارک ہے وہ ہے وہ مری جان بسی تھی مسجد ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ اٹھانے کے لیے آ

Prashant Kumar

4 likes

مری انداز زمانے سے نرالے ہوں گے آج اندھیرے ہیں تو کیا کل کو اجالے ہوں گے ایک روٹی میں سناتے ہیں تجھے کتنا کچھ کل سے ہونٹوں پہ تری میرے نوالے ہوں گے کم سے کم سیکڑوں کو بھوک نے مارا ہوگا بچ گئے جتنے سبھی درد نے پالے ہوں گے اب ہمیں موت بھی اڑاؤ نہیں کرتی ہے زندگی تو ہی بتا کس کے حوالے ہوں گے ہر دفع چھین لیا میرا نوالا سب نے پھروں تو بچے بھی تری بھوک نے پالے ہوں گے ارے کمرے میں مری کچھ بھی نہیں ہے سچی چار دیوار ملیںگی بچے خانہ خراب ہوں گے شہر دل میں سنو تو کوئی نہیں رہتا ہے تم کہاں جا رہے ہو سب میں ہی تالے ہوں گے چھوڑ کے خود کو زمانے کو دیا ہے مرہم پھروں تو بے شک ہی تری پاؤں میں چھالے ہوں گے

Prashant Kumar

4 likes

حسن والوں میں سبھی کو نورستان ہونا چاہیے اور اس کا کے ساتھ ہی نو رنگ ہونا چاہیے صورت آشنا میں آئیں گے تو داد بھی دیں گے مگر ہر سخن ور شرط ہے خود رنگ ہونا چاہیے میں زمانے میں اگر بادہ آشامی تھا تو تم سے تھا قبر میں بھی تم کو میرے سنگ ہونا چاہیے تیس دن میں ایک دن ہی دل پہ دستک دیتے ہو عشق کرنے کا کوئی تو ڈھنگ ہونا چاہیے مجھ سے ہی بادہ آشامی ہے اس کا ملک کی مٹی تو پھروں اس کا کا ترنگے میں بھی میرا انگ ہونا چاہیے

Prashant Kumar

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prashant Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prashant Kumar's sher.