پا سے جب تک حقیقت رہے درد تھما رہتا ہے پھیلتا جاتا ہے پھروں آنکھ کے کاجل کی طرح
Related Sher
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
Santosh S Singh
339 likes
اب ان جلے ہوئے جسموں پہ خود ہی سایہ کروں تمہیں کہا تھا بتا کر قریب آیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد مہینوں ادا سے رہتا ہوں مزاق ہے وہ ہے وہ بھی مجھے ہاتھ مت لگایا کروں
Tehzeeb Hafi
295 likes
ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے
Zia Mazkoor
224 likes
لے دے کے اپنے پا سے فقط اک نظر تو ہے کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
Sahir Ludhianvi
174 likes
More from Parveen Shakir
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بے حد پیار تھا ا سے بوڑھے شجر سے
Parveen Shakir
8 likes
ا سے سے اک بار تو روٹھوں ہے وہ ہے وہ اسی کی مانند اور مری طرح سے حقیقت مجھ کو منانے آئی
Parveen Shakir
9 likes
یہ دکھ نہیں کہ اندھیرو سے صلح کی ہم نے ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
Parveen Shakir
13 likes
لڑ کیوں کے دکھ غضب ہوتے ہیں سکھ ا سے سے عجیب ہن سے رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
Parveen Shakir
25 likes
کو بہ کو پھیل گئی بات شنا سائی کی ا سے نے خوشبو کی طرح مری پذیرائی کی
Parveen Shakir
29 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's sher.







