یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا کوئی ہن سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
Related Sher
کوئی حسین بدن جن کی دسترسی ہے وہ ہے وہ نہیں یہی کہی گے کہ کچھ فائدہ ہوں سے ہے وہ ہے وہ نہیں
Umair Najmi
109 likes
آج تو دل کے درد پر ہنسکر درد کا دل دکھا دیا ہے وہ ہے وہ نے
Zubair Ali Tabish
110 likes
تری سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے م گر جو تجھ کو دیکھ چکا ہوں حقیقت اور کیا دیکھے
Parveen Shakir
89 likes
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے
Bashir Badr
112 likes
جانتا ہوں کہ تجھے ساتھ تو رکھتے ہیں کئی پوچھنا تھا کہ تیرا دھیان بھی رکھتا ہے کوئی
Umair Najmi
109 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
ہر سال کی آخری شاموں ہے وہ ہے وہ دو چار ورق اڑ جاتے ہیں اب اور لگ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہوں
Ghulam Mohammad Qasir
6 likes
اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے ا سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
9 likes
ہے وہ ہے وہ بدن کو درد کے ملبو سے پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
کوئی منا پھیر لیتا ہے تو سینکڑوں اب شکایت کیا تجھے ک سے نے کہا تھا آئینے کو توڑ کر لے جا
Ghulam Mohammad Qasir
12 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's sher.







