کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
Poetry Collection
Bewafai
With great care, the top picks for wafa shayari have been put together. These are some heart wrenching shayari that will tug at your heart strings as you contemplate the rules of wafa in this world.
Total
77
Sher
47
Ghazal
30
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا قہر ہوتا جو باوفا ہوتا
ہم اسے یاد بہت آئیں گے جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا
میرے علاوہ اسے خود سے بھی محبت ہے اور ایسا کرنے سے وہ بے وفا نہیں ہوتی
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی
تم کسی کے بھی ہو نہیں سکتے تم کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
جو ملا اس نے بے وفائی کی کچھ عجب رنگ ہے زمانے کا
یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا
ہم نے تو خود کو بھی مٹا ڈالا تم نے تو صرف بے وفائی کی
وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی
اب زمانہ ہے بے وفائی کا سیکھ لیں ہم بھی یہ ہنر شاید
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
عاشقی میں بہت ضروری ہے بے وفائی کبھی کبھی کرنا
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا بارہا آزما کے دیکھ لیا
قائم ہے اب بھی میری وفاؤں کا سلسلہ اک سلسلہ ہے ان کی جفاؤں کا سلسلہ
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا قہر ہوتا جو باوفا ہوتا
دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
عاشقی میں بہت ضروری ہے بے وفائی کبھی کبھی کرنا
میرے علاوہ اسے خود سے بھی محبت ہے اور ایسا کرنے سے وہ بے وفا نہیں ہوتی
اڑ گئی یوں وفا زمانے سے کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں
میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا
تم کسی کے بھی ہو نہیں سکتے تم کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
جو ملا اس نے بے وفائی کی کچھ عجب رنگ ہے زمانے کا
یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا
ہم نے تو خود کو بھی مٹا ڈالا تم نے تو صرف بے وفائی کی
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا بارہا آزما کے دیکھ لیا
امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح
اب زمانہ ہے بے وفائی کا سیکھ لیں ہم بھی یہ ہنر شاید
قائم ہے اب بھی میری وفاؤں کا سلسلہ اک سلسلہ ہے ان کی جفاؤں کا سلسلہ
اس بے وفا سے کر کے وفا مر مٹا رضاؔ اک قصۂ طویل کا یہ اختصار ہے
Explore Similar Collections
Bewafai FAQs
Bewafai collection me kya milega?
Bewafai se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.