ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
Poetry Collection
Bharosa
Confidence over one another defines the level of relationship that human beings have with one another. Sometimes even small issues or incidents shake human confidence although confidences are not there to be easily shaken off. Some verses on this subject might be of interest to you.
Total
34
Sher
34
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر
عادتاً تم نے کر دیے وعدے عادتاً ہم نے اعتبار کیا
میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا
یا تیرے علاوہ بھی کسی شے کی طلب ہے یا اپنی محبت پہ بھروسا نہیں ہم کو
دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا تالوں کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا
ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے
مری طرف سے تو ٹوٹا نہیں کوئی رشتہ کسی نے توڑ دیا اعتبار ٹوٹ گیا
میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں ہزار بار جسے آزما لیا میں نے
جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا دھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا
ہم آج راہ تمنا میں جی کو ہار آئے نہ درد و غم کا بھروسا رہا نہ دنیا کا
بہت قریب رہی ہے یہ زندگی ہم سے بہت عزیز سہی اعتبار کچھ بھی نہیں
درد دل کیا بیاں کروں رشکیؔ اس کو کب اعتبار آتا ہے
کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح لٹا کے بیٹھوگے صبر و قرار میری طرح
یہ اور بات کہ اقرار کر سکیں نہ کبھی مری وفا کا مگر ان کو اعتبار تو ہے
جب نہیں کچھ اعتبار زندگی اس جہاں کا شاد کیا ناشاد کیا
آپ کا اعتبار کون کرے روز کا انتظار کون کرے
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
مسافروں سے محبت کی بات کر لیکن مسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کر
عادتاً تم نے کر دیے وعدے عادتاً ہم نے اعتبار کیا
آپ کا اعتبار کون کرے روز کا انتظار کون کرے
میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں
عشق کو ایک عمر چاہئے اور عمر کا کوئی اعتبار نہیں
ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا
مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج
دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا تالوں کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا
اے مجھ کو فریب دینے والے میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں
مری طرف سے تو ٹوٹا نہیں کوئی رشتہ کسی نے توڑ دیا اعتبار ٹوٹ گیا
بھولی باتوں پہ تیری دل کو یقیں پہلے آتا تھا اب نہیں آتا
جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا دھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا
یوں نہ قاتل کو جب یقیں آیا ہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ
بہت قریب رہی ہے یہ زندگی ہم سے بہت عزیز سہی اعتبار کچھ بھی نہیں
وہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے
کسی پہ کرنا نہیں اعتبار میری طرح لٹا کے بیٹھوگے صبر و قرار میری طرح
بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا گلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں
جان تجھ پر کچھ اعتماد نہیں زندگانی کا کیا بھروسا ہے
Explore Similar Collections
Bharosa FAQs
Bharosa collection me kya milega?
Bharosa se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.