تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میں کہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگا
Top 20 Sher Series
Top 20 Sher by Waseem Barelvi
Waseem Barelvi ke selected Top 20 sher ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا اس شعر میں کئی تلازمات ایسے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وسیم بریلوی شعر میں معنی کے ساتھ کیفیت پیدا کرنے کے فن سے واقف ہیں۔ ’جہاں‘ کی مناسبت سے ’وہیں‘، اور ان دونوں کی رعایت سے ’مکاں‘، ’چراغ‘ کی مناسبت سے ’روشنی‘ اور اس سے بڑھ کر کسی، یہ سب ایسے تلازمات ہیں جن سے شعر میں معنی آفرینی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ شعر کے معنیٔ قریب تو یہ ہوسکتے ہیں کہ چراغ اپنی روشنی سے کسی ایک مکاں کو روشن نہیں کرتا ہے، بلکہ جہاں جلتا ہے وہاں کی فضا کو منور کرتا ہے۔ اس شعر میں ایک لفظ ’مکاں‘مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ مکاں سے یہاں مراد محض کوئی خاص گھر نہیں بلکہ اسپیس ہے۔ اب آئیے شعر کے معنیٔ بعید پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دراصل شعر میں ’چراغ‘، ’روشنی‘ اور ’مکاں‘ کو استعاراتی حیثیت حاصل ہے۔ چراغ استعارہ ہے نیک اور بھلے آدمی کا، اس کی مناسبت سے روشنی استعارہ ہےنیکی اور بھلائی کا۔ اس طرح شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ نیک آدمی کسی خاص جگہ نیکی اور بھلائی پھیلانے کے لئے پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کا کوئی خاص مکان نہیں ہوتا اور یہ اسپیس کے تصور سے بہت آگے کے لوگ ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آدمی بھلا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بھلائی ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔ شفق سوپوری
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتا کسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرنا
مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہے کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی
ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیں تمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گی
تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے
جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے برسوں سے کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے شراب خانے میں راتیں گزارنے والا
یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا
تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میں کہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگا
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا اس شعر میں کئی تلازمات ایسے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وسیم بریلوی شعر میں معنی کے ساتھ کیفیت پیدا کرنے کے فن سے واقف ہیں۔ ’جہاں‘ کی مناسبت سے ’وہیں‘، اور ان دونوں کی رعایت سے ’مکاں‘، ’چراغ‘ کی مناسبت سے ’روشنی‘ اور اس سے بڑھ کر کسی، یہ سب ایسے تلازمات ہیں جن سے شعر میں معنی آفرینی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔ شعر کے معنیٔ قریب تو یہ ہوسکتے ہیں کہ چراغ اپنی روشنی سے کسی ایک مکاں کو روشن نہیں کرتا ہے، بلکہ جہاں جلتا ہے وہاں کی فضا کو منور کرتا ہے۔ اس شعر میں ایک لفظ ’مکاں‘مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ مکاں سے یہاں مراد محض کوئی خاص گھر نہیں بلکہ اسپیس ہے۔ اب آئیے شعر کے معنیٔ بعید پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دراصل شعر میں ’چراغ‘، ’روشنی‘ اور ’مکاں‘ کو استعاراتی حیثیت حاصل ہے۔ چراغ استعارہ ہے نیک اور بھلے آدمی کا، اس کی مناسبت سے روشنی استعارہ ہےنیکی اور بھلائی کا۔ اس طرح شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ نیک آدمی کسی خاص جگہ نیکی اور بھلائی پھیلانے کے لئے پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کا کوئی خاص مکان نہیں ہوتا اور یہ اسپیس کے تصور سے بہت آگے کے لوگ ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آدمی بھلا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بھلائی ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔ شفق سوپوری
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتا کسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرنا
مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہے کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی
ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیں تمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گی
تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے
جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے برسوں سے کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے شراب خانے میں راتیں گزارنے والا
یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Top 20 Sher by Waseem Barelvi FAQs
Waseem Barelvi Top 20 me kya milega?
Waseem Barelvi ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.