زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا
Top 20 Sher Series
Top 20 Sher by Zeb Ghauri
Zeb Ghauri ke selected Top 20 sher ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
21
Sher
21
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں جاتا
مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا
دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکن سچ پوچھو تو زیبؔ طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی
گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا
جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے جب سب لوگ چلے جائیں تو باتیں کرتا ہے
تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی
میں تو چاک پہ کوزہ گر کے ہاتھ کی مٹی ہوں اب یہ مٹی دیکھ کھلونا کیسے بنتی ہے
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے
الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ
دھو کے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا کہ یہ سرخی تری شمشیر کا جوہر ہی تو ہے
ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ اور پھر میں غبار بھی نہ رہا
زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا
بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں جاتا
مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا
دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکن سچ پوچھو تو زیبؔ طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی
گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا
جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے جب سب لوگ چلے جائیں تو باتیں کرتا ہے
تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی
میں تو چاک پہ کوزہ گر کے ہاتھ کی مٹی ہوں اب یہ مٹی دیکھ کھلونا کیسے بنتی ہے
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے
الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ
دھو کے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا کہ یہ سرخی تری شمشیر کا جوہر ہی تو ہے
ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ اور پھر میں غبار بھی نہ رہا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Top 20 Sher by Zeb Ghauri FAQs
Zeb Ghauri Top 20 me kya milega?
Zeb Ghauri ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.