Poetry Collection

Dariya

River, as a metaphor, has been used only sparingly in the classical poetry. Mostly, it appears as an image and is used to carry a literal meaning. It is with the modern poets that river acquired a metaphoric, a symbolic, and even a mythic dimension. In these poets, river appears sometimes as a metaphor of destruction while at others as a source of rejuvenation. You would enjoy this selection of verses on river in Urdu poetry.

Total

51

Sher

44

Ghazal

7

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے

تشنہ لب ایسا کہ ہونٹوں پہ پڑے ہیں چھالے مطمئن ایسا ہوں دریا کو بھی حیرانی ہے

بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے

چلی ہے موج میں کاغذ کی کشتی اسے دریا کا اندازہ نہیں ہے

کمال تشنگی ہی سے بجھا لیتے ہیں پیاس اپنی اسی تپتے ہوئے صحرا کو ہم دریا سمجھتے ہیں

جیسے ساحل سے چھڑا لیتی ہیں موجیں دامن کتنا سادہ ہے ترا مجھ سے گریزاں ہونا

دریا کو کنارے سے کیا دیکھتے رہتے ہو اندر سے کبھی دیکھو کیسا نظر آتا ہے

گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا

ایک دریا پار کر کے آ گیا ہوں اس کے پاس ایک صحرا کے سوا اب درمیاں کوئی نہیں

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر

ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے

ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے دریا میں ہم جو اترے تو دریا اتر گیا

بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے

کٹی ہوئی ہے زمیں کوہ سے سمندر تک ملا ہے گھاؤ یہ دریا کو راستہ دے کر

کمال تشنگی ہی سے بجھا لیتے ہیں پیاس اپنی اسی تپتے ہوئے صحرا کو ہم دریا سمجھتے ہیں

عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے

دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

دریا کو کنارے سے کیا دیکھتے رہتے ہو اندر سے کبھی دیکھو کیسا نظر آتا ہے

ایک دریا پار کر کے آ گیا ہوں اس کے پاس ایک صحرا کے سوا اب درمیاں کوئی نہیں

دریا دکھائی دیتا ہے ہر ایک ریگ زار شاید کہ ان دنوں مجھے شدت کی پیاس ہے

Explore Similar Collections

Dariya FAQs

Dariya collection me kya milega?

Dariya se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.