Poetry Collection

Husn

Beauty is a thing to see, observe, and enjoy. It is, however, too difficult to configure it in words. Poetry is an art of representing beauty which poets do with their well-chosen words and literary tools and figures of speech. Some examples that represent beauty can be seen here in this section.

Total

100

Sher

50

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

Explore Similar Collections

Husn FAQs

Husn collection me kya milega?

Husn se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.