Poetry Collection

Husn

Beauty is a thing to see, observe, and enjoy. It is, however, too difficult to configure it in words. Poetry is an art of representing beauty which poets do with their well-chosen words and literary tools and figures of speech. Some examples that represent beauty can be seen here in this section.

Total

100

Sher

50

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

GhazalRead Full

niyyat-e-shauq bhar na jae kahin

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

GhazalRead Full

hasti apni habab ki si hai

ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے چشم دل کھول اس بھی عالم پر یاں کی اوقات خواب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے نقطۂ خال سے ترا ابرو بیت اک انتخاب کی سی ہے میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اسی خانہ خراب کی سی ہے آتش غم میں دل بھنا شاید دیر سے بو کباب کی سی ہے دیکھیے ابر کی طرح اب کے میری چشم پر آب کی سی ہے میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے

GhazalRead Full

aahat si koi aae to lagta hai ki tum ho

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

GhazalRead Full

ek lafz-e-mohabbat ka adna ye fasana hai

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہے جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے وہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ مانا ہے سب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانا ہے شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہے فطرت مرا آئینا قدرت مرا شانا ہے جو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے اپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانا ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے آغاز محبت ہے آنا ہے نہ جانا ہے اشکوں کی حکومت ہے آہوں کا زمانا ہے آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے ہم درد بہ دل نالاں وہ دست بہ دل حیراں اے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانا ہے یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے اے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ آج ایک ستم گر کو ہنس ہنس کے رلانا ہے تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی آ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا جب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے یہ حسن و جمال ان کا یہ عشق و شباب اپنا جینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانا ہے مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے خودداری و محرومی محرومی و خودداری اب دل کو خدا رکھے اب دل کا زمانا ہے اشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں معصوم محبت کا معصوم فسانا ہے آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگرؔ لیکن بندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

GhazalRead Full

jis samt bhi dekhun nazar aata hai ki tum ho

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کا اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

GhazalRead Full

husn-e-mah garche ba-hangam-e-kamal achchha hai

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

GhazalRead Full

bechain bahut phirna ghabrae hue rahna

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

GhazalRead Full

shabnam hai ki dhoka hai ki jharna hai ki tum ho

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

GhazalRead Full

in aankhon ki masti ke mastane hazaron hain

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں

GhazalRead Full

tera chehra kitna suhana lagta hai

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشانا لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسانہ سب کا فسانا لگتا ہے کیفؔ بتا کیا تیری غزل میں جادو ہے بچہ بچہ تیرا دوانا لگتا ہے

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

GhazalRead Full

apni dhun mein rahta hun

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رت مجھے روئے گی جاتی رت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

GhazalRead Full

wo ghazal walon ka uslub samajhte honge

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے میں سمجھتا تھا محبت کی زباں خوشبو ہے پھول سے لوگ اسے خوب سمجھتے ہوں گے دیکھ کر پھول کے اوراق پہ شبنم کچھ لوگ ترا اشکوں بھرا مکتوب سمجھتے ہوں گے بھول کر اپنا زمانہ یہ زمانے والے آج کے پیار کو معیوب سمجھتے ہوں گے

GhazalRead Full

niyyat-e-shauq bhar na jae kahin

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

GhazalRead Full

hasti apni habab ki si hai

ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے چشم دل کھول اس بھی عالم پر یاں کی اوقات خواب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے نقطۂ خال سے ترا ابرو بیت اک انتخاب کی سی ہے میں جو بولا کہا کہ یہ آواز اسی خانہ خراب کی سی ہے آتش غم میں دل بھنا شاید دیر سے بو کباب کی سی ہے دیکھیے ابر کی طرح اب کے میری چشم پر آب کی سی ہے میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے

GhazalRead Full

aahat si koi aae to lagta hai ki tum ho

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

GhazalRead Full

ek lafz-e-mohabbat ka adna ye fasana hai

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانا ہے یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانا ہے جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانا ہے دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانا ہے دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانا ہے ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے وہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ مانا ہے سب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانا ہے شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہے فطرت مرا آئینا قدرت مرا شانا ہے جو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے اپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانا ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے آغاز محبت ہے آنا ہے نہ جانا ہے اشکوں کی حکومت ہے آہوں کا زمانا ہے آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے ہم درد بہ دل نالاں وہ دست بہ دل حیراں اے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانا ہے یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے اے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ آج ایک ستم گر کو ہنس ہنس کے رلانا ہے تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی آ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا جب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانا ہے تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے یہ حسن و جمال ان کا یہ عشق و شباب اپنا جینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانا ہے مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے خودداری و محرومی محرومی و خودداری اب دل کو خدا رکھے اب دل کا زمانا ہے اشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں معصوم محبت کا معصوم فسانا ہے آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگرؔ لیکن بندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے

GhazalRead Full

apni dhun mein rahta hun

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رت مجھے روئے گی جاتی رت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

GhazalRead Full

husn-e-mah garche ba-hangam-e-kamal achchha hai

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

GhazalRead Full

bhadkaen meri pyas ko aksar teri aankhen

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

GhazalRead Full

shabnam hai ki dhoka hai ki jharna hai ki tum ho

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

GhazalRead Full

wo chandni ka badan khushbuon ka saya hai

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے کہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

GhazalRead Full

in aankhon ki masti ke mastane hazaron hain

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں

GhazalRead Full

tera chehra kitna suhana lagta hai

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشانا لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسانہ سب کا فسانا لگتا ہے کیفؔ بتا کیا تیری غزل میں جادو ہے بچہ بچہ تیرا دوانا لگتا ہے

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

Explore Similar Collections

Husn FAQs

Husn collection me kya milega?

Husn se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.