حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
Related Ghazal
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
بات ایسی ہے ایسا تھا پہلے درد ہونے پہ روتا تھا پہلے چنو چاہے حقیقت کھیلا کرتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کا کھلونا تھا پہلے تجھ پہ کتنا بھروسا کرتا تھا خود پہ کتنا بھروسا تھا پہلے آخری راستے پہ چلنے کو پیر ا سے نے اٹھایا تھا پہلے اب تو تصویر تک نہیں بنتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو پیکر بناتا تھا پہلے روشنی آئی جب جلا کوئی سب کی آنکھوں پہ پردہ تھا پہلے گنتی پیچھے سے کی گئی ورنا میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے
Himanshi babra KATIB
45 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا
Bashir Badr
43 likes
More from Mirza Ghalib
حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز
Mirza Ghalib
0 likes
दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया
Mirza Ghalib
0 likes
ذکر میرا بب گرا بھی اسے جھمکے نہیں غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں وعدہ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق مژدہ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں شاہد ہستی مطلق کی کمر تراش ہے عالم لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھمکے نہیں اللہ ری اپنا بھی حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے دریا لیکن ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں حسرت اے ذوق خرابی کہ حقیقت طاقت لگ رہی عشق پر عربدہ کی گوں زیر مزار تن رنجور نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کہتا ہوں کہ ہم لیںگے خوشگوار ہے وہ ہے وہ تمہیں ک سے رعونت سے حقیقت کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں ظلم کر ظلم ا گر لطف دریغ آتا ہوں تو ت غافل ہے وہ ہے وہ کسی رنگ سے معذور نہیں صاف در گرا کش پیما لگ جم ہیں ہم لوگ وائے حقیقت بادہ کہ افشردہ انگور نہیں ہوں ظہوری کے مقابل ہے وہ ہے وہ خفائی تاکتے مری دعوی پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
Mirza Ghalib
2 likes
بے حد صحیح غم گیتی شراب کم کیا ہے غلام ساقی کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے رقیب پر ہے ا گر لطف تو ستم کیا ہے سخن ہے وہ ہے وہ خامہ غالب کی آتش افشانی یقین ہے ہم کو بھی لیکن اب ا سے ہے وہ ہے وہ دم کیا ہے کٹے تو شب کہی کاٹے تو سانپ کہلاوے کوئی بتاؤ کہ حقیقت زلف خم بہ خم کیا ہے لکھا کرے کوئی احکام تالا مولود کسے خبر ہے کہ واں جنبش کیا ہے لگ حشر و نشر کا قائل لگ کیش و ملت کا خدا کے واسطے ایسے کی پھروں قسم کیا ہے حقیقت داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدم وگر لگ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
Mirza Ghalib
1 likes
پھروں کچھ اک دل کو بے قراری ہے سینا جویا زخم کاری ہے پھروں ج گر خودنے لگا ناخن آمد فصل لالہ کاری ہے قبلہ مقصد نگاہ نیاز پھروں وہی پردہ عماری ہے چشم دلال جن سے رسوائی دل خریدار ذوق خواری ہے وہی صد رنگ نالہ فرسائی وہی سدگونا خوشی باری ہے دل ہوا خرام ناز سے پھروں محشرستان ستان بے قراری ہے جلوہ پھروں عرض ناز کرتا ہے روز بازار جاں سپاری ہے پھروں اسی بےوفا پہ مرتے ہیں پھروں وہی زندگی ہماری ہے پھروں کھلا ہے در عدالت ناز گرم بازار فوجداری ہے ہوں رہا ہے جہان ہے وہ ہے وہ اندھیر زلف کی پھروں سرشتہ داری ہے پھروں دیا پارہ ج گر نے سوال ایک پڑنا و آہ و زاری ہے پھروں ہوئے ہیں گواہ عشق طلب خوشی باری کا حکم جاری ہے دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا آج پھروں ا سے کی رو بکاری ہے بے خو گرا بے سبب نہیں تاکتے کچھ تو ہے ج سے کی پردہ داری ہے
Mirza Ghalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







