نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا
Poetry Collection
Kanta
Thorns, as opposed to flowers, embody opposite qualities. Thorns are hard, ugly, and cause pain with a simple prick. They are what they are and represent no duality of character. Like flowers, they don’t deceive the onlookers with their beautiful appearance. Such ideas would come across in some of the verses we have selected for you. You would also discover how our concepts of thorns and flowers have been reiterated and challenged by poets, as well as how the two represent the dualities of life characterized by odds and evens.
Total
25
Sher
25
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
بری سرشت نہ بدلی جگہ بدلنے سے چمن میں آ کے بھی کانٹا گلاب ہو نہ سکا
بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
خار حسرت بیان سے نکلا دل کا کانٹا زبان سے نکلا
کانٹوں پہ چلے ہیں تو کہیں پھول کھلے ہیں پھولوں سے ملے ہیں تو بڑی چوٹ لگی ہے
رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔ کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں
کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا گھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا
کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا دیا
کانٹا ہوا ہوں سوکھ کے یاں تک کہ اب سنار کانٹے میں تولتے ہیں مرے استخواں کا بوجھ
ایک نشتر ہے کہ دیتا ہے رگ جاں کو خراش ایک کانٹا ہے کہ پہلو میں چبھوتا ہے کوئی
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں
آرام کیا کہ جس سے ہو تکلیف اور کو پھینکو کبھی نہ پاؤں سے کانٹا نکال کے
وہ کانٹا ہے جو چبھ کر ٹوٹ جائے محبت کی بس اتنی داستاں ہے
نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
بری سرشت نہ بدلی جگہ بدلنے سے چمن میں آ کے بھی کانٹا گلاب ہو نہ سکا
بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
خار حسرت بیان سے نکلا دل کا کانٹا زبان سے نکلا
پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ
رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔ کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں
زخم بگڑے تو بدن کاٹ کے پھینک ورنہ کانٹا بھی محبت سے نکال
کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا دیا
پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی
نہیں کانٹے بھی کیا اجڑے چمن میں کوئی روکے مجھے میں جا رہا ہوں
ایک نشتر ہے کہ دیتا ہے رگ جاں کو خراش ایک کانٹا ہے کہ پہلو میں چبھوتا ہے کوئی
رہ حیات میں کانٹوں نے مہرباں ہو کر بچا لیا ہے عذاب شگفتگی سے مجھے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Kanta FAQs
Kanta collection me kya milega?
Kanta se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.