Poetry Collection

Khafa

Sulking is a dear and a lovable aspect of love that makes life romantic and worth living. Poetry is full of ideas around the experience of sulking. Urdu poetry has capitalised on this experience in a major way. Some examples would be of great interest to you.

Total

35

Sher

34

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

عشق میں تہذیب کے ہیں اور ہی کچھ فلسفے تجھ سے ہو کر ہم خفا خود سے خفا رہنے لگے

اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

~ Arsh Siddiqui

خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں ہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے

یہ جو راتوں کو مجھے خواب نہیں آتے عطاؔ اس کا مطلب ہے مرا یار خفا ہے مجھ سے

جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی

لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

یا خفا ہوتے تھے ہم تو منتیں کرتے تھے آپ یا خفا ہیں ہم سے وہ اور ہم منا سکتے نہیں

جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

~ Baqar Mehdi

خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے کھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا

چھیڑا ہے دست شوق نے مجھ سے خفا ہیں وہ گویا کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار ہے

بل پڑے چتون پہ ابرو تن کے خنجر ہو گئے ذکر وصل آتے ہی وہ جامے سے باہر ہو گئے

کھنچا کھنچا نظر آتا ہے ہم سے ہر آنچل ستارے توڑ کے لائیں تو لائیں کس کے لئے

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

عشق میں تہذیب کے ہیں اور ہی کچھ فلسفے تجھ سے ہو کر ہم خفا خود سے خفا رہنے لگے

اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

~ Arsh Siddiqui

خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں ہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے

یہ جو راتوں کو مجھے خواب نہیں آتے عطاؔ اس کا مطلب ہے مرا یار خفا ہے مجھ سے

جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی

لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

یا خفا ہوتے تھے ہم تو منتیں کرتے تھے آپ یا خفا ہیں ہم سے وہ اور ہم منا سکتے نہیں

جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

~ Baqar Mehdi

خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے کھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا

چھیڑا ہے دست شوق نے مجھ سے خفا ہیں وہ گویا کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار ہے

بل پڑے چتون پہ ابرو تن کے خنجر ہو گئے ذکر وصل آتے ہی وہ جامے سے باہر ہو گئے

کھنچا کھنچا نظر آتا ہے ہم سے ہر آنچل ستارے توڑ کے لائیں تو لائیں کس کے لئے

Explore Similar Collections

Khafa FAQs

Khafa collection me kya milega?

Khafa se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.