Poetry Collection

Khat

In olden times, when the means of communication were much limited, a letter was the only way to connect. One waited for many days and months to receive a message. The letters of lovers to each other were of greater significance as they represented their pain and pining. There are frequent references to letters in the classical poetry of Urdu. Here, we have collected some verses that would interest you for a variety of reasons.

Total

57

Sher

50

Ghazal

7

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوں لفافے میں کچھ روشنی بھیج دے

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

غصے میں برہمی میں غضب میں عتاب میں خود آ گئے ہیں وہ مرے خط کے جواب میں

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

ترا خط آنے سے دل کو میرے آرام کیا ہوگا خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا

کیا کیا فریب دل کو دئیے اضطراب میں ان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں

ہم پہ جو گزری بتایا نہ بتائیں گے کبھی کتنے خط اب بھی ترے نام لکھے رکھے ہیں

کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے

کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا

مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی

لے کے خط ان کا کیا ضبط بہت کچھ لیکن تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں نے بھرم کھول دیا

تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتیں ہماری سوچو ہمیں ہچکیاں نہیں آتیں

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

روح گھبرائی ہوئی پھرتی ہے میری لاش پر کیا جنازے پر میرے خط کا جواب آنے کو ہے

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوں لفافے میں کچھ روشنی بھیج دے

تمہارے خط میں نظر آئی اتنی خاموشی کہ مجھ کو رکھنے پڑے اپنے کان کاغذ پر

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصد اب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہے

کیا کیا فریب دل کو دئیے اضطراب میں ان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں

مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے

کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے

روح گھبرائی ہوئی پھرتی ہے میری لاش پر کیا جنازے پر میرے خط کا جواب آنے کو ہے

کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا

مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی

اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خط خون سے کیوں تحریر نہیں ہے

تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتیں ہماری سوچو ہمیں ہچکیاں نہیں آتیں

Explore Similar Collections

Khat FAQs

Khat collection me kya milega?

Khat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.