Poetry Collection

Kitab

It appears rather unlikely and also un-poetic that poets should make books the subject of their poetry. Books have been compared with the face of the beloved but also treated as a metaphor of light that illuminates our lives. More than anything physical, it has also appeared as a symbol. Enter into this amazing world of books and discovers what it intends to offer.

Total

41

Sher

39

Ghazal

2

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

کچھ اور سبق ہم کو زمانے نے سکھائے کچھ اور سبق ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے

کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

~ Shakeb Jalali

جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میری کتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

~ Wazir Agha

فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ

مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

کچھ اور سبق ہم کو زمانے نے سکھائے کچھ اور سبق ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے

چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

~ Shakeb Jalali

جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

جسم تو خاک ہے اور خاک میں مل جائے گا میں بہر حال کتابوں میں ملوں گا تم کو

وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے کتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز

کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میری کتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

~ Wazir Agha

کتاب کھول کے دیکھوں تو آنکھ روتی ہے ورق ورق ترا چہرا دکھائی دیتا ہے

~ Ahmad Aqeel Rubi

فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ

جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہ ہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا

Explore Similar Collections

Kitab FAQs

Kitab collection me kya milega?

Kitab se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.