غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
Poetry Collection
Maikashi
Wine is one of the stock references in poetry, more so in Urdu poetry. It is not necessarily a drink that drives one out of senses but brings them back to moments of higher consciousness. Wine and wine drinking have had a mystical connotation as well. We have collected some verses here which will help you appreciate various shades of these experiences.
Total
48
Sher
36
Ghazal
12
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے
جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم
اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے
زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا
اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم
مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے اور جگرؔ کو شراب نے مارا
اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی عبادت کریں آج مخمور ہو کر
زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی
رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا
مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے
غرق کر دے تجھ کو زاہد تیری دنیا کو خراب کم سے کم اتنی تو ہر میکش کے پیمانے میں ہے
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے اور جگرؔ کو شراب نے مارا
اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی عبادت کریں آج مخمور ہو کر
زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی
رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا
اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
پلا مے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری خدا سے جب نہیں چوری تو پھر بندے سے کیا چوری
مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے
مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے
تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی
اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم
مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی
مے کشی سے نجات مشکل ہے مے کا ڈوبا کبھی ابھر نہ سکا
Explore Similar Collections
Maikashi FAQs
Maikashi collection me kya milega?
Maikashi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.