Poetry Collection

Maikashi

Wine is one of the stock references in poetry, more so in Urdu poetry. It is not necessarily a drink that drives one out of senses but brings them back to moments of higher consciousness. Wine and wine drinking have had a mystical connotation as well. We have collected some verses here which will help you appreciate various shades of these experiences.

Total

48

Sher

36

Ghazal

12

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے

جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

~ Aale Ahmad Suroor

زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا

اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی

اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی عبادت کریں آج مخمور ہو کر

زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی

رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا

مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے

غرق کر دے تجھ کو زاہد تیری دنیا کو خراب کم سے کم اتنی تو ہر میکش کے پیمانے میں ہے

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے

اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی عبادت کریں آج مخمور ہو کر

زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی

رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا

پلا مے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری خدا سے جب نہیں چوری تو پھر بندے سے کیا چوری

مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

~ Aale Ahmad Suroor

مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے

تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی

اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی

Explore Similar Collections

Maikashi FAQs

Maikashi collection me kya milega?

Maikashi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.