Poetry Collection

Mashwara

Here is a collection of verses that will help you at different stages of your life to make a choice and move accordingly. These are no ordinary pieces of advice; on the contrary they sum up the philosophy of life and living. You may like to have a closer look and find your gems.

Total

85

Sher

35

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہوناوغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔ شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لئے اس پرچم کو بلند کرو۔ شفق سوپوری

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو

~ Jafar Malihabadi

بات کا زخم ہے تلوار کے زخموں سے سوا کیجیے قتل مگر منہ سے کچھ ارشاد نہ ہو

اس سے پہلے کہ لوگ پہچانیں خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

خدا نے نیک صورت دی تو سیکھو نیک باتیں بھی برے ہوتے ہو اچھے ہو کے یہ کیا بد زبانی ہے

فرصت کار فقط چار گھڑی ہے یارو یہ نہ سوچو کی ابھی عمر پڑی ہے یارو

میری ہی جان کے دشمن ہیں نصیحت والے مجھ کو سمجھاتے ہیں ان کو نہیں سمجھاتے ہیں

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہوناوغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔ شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لئے اس پرچم کو بلند کرو۔ شفق سوپوری

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

~ Arsh Siddiqui

اس سے پہلے کہ لوگ پہچانیں خود کو پہچان لو تو بہتر ہے

بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگی مر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیو

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل

فرصت کار فقط چار گھڑی ہے یارو یہ نہ سوچو کی ابھی عمر پڑی ہے یارو

اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے

Explore Similar Collections

Mashwara FAQs

Mashwara collection me kya milega?

Mashwara se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.