تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
Poetry Collection
Mazdoor
Literature has had respectable space for social issues one of which concerns the case of labourers. Poets in particular, have engaged with this in their own ways. In fact, Urdu poets have celebrated their worth and spoken against their exploitation. This selection brings a variety of perspectives on these issues.
Total
36
Sher
36
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں جس نے سب کے گھر بنائے اوس کا گھر کوئی نہیں
آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے
محنت کر کے ہم تو آخر بھوکے بھی سو جائیں گے یا مولا تو برکت رکھنا بچوں کی گڑ دھانی میں
تعمیر و ترقی والے ہیں کہیے بھی تو ان کو کیا کہیے جو شیش محل میں بیٹھے ہوئے مزدور کی باتیں کرتے ہیں
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
پیڑ کے نیچے ذرا سی چھاؤں جو اس کو ملی سو گیا مزدور تن پر بوریا اوڑھے ہوئے
میں نے انورؔ اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ
تیری تابش سے روشن ہیں گل بھی اور ویرانے بھی کیا تو بھی اس ہنستی گاتی دنیا کا مزدور ہے چاند؟
اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنا بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں
زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا
میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا
خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا
میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے
تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں
بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں
بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے چلو محتاج کے منہ میں نوالہ رکھ دیا جائے
سروں پہ اوڑھ کے مزدور دھوپ کی چادر خود اپنے سر پہ اسے سائباں سمجھنے لگے
انہی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھے ہیں وہ آنسو بھی جو اکثر دھوپ میں محنت کی پیشانی سے ڈھلتے ہیں
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں
شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں جس نے سب کے گھر بنائے اوس کا گھر کوئی نہیں
نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد
بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں
تعمیر و ترقی والے ہیں کہیے بھی تو ان کو کیا کہیے جو شیش محل میں بیٹھے ہوئے مزدور کی باتیں کرتے ہیں
ہونے دو چراغاں محلوں میں کیا ہم کو اگر دیوالی ہے مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور کی دنیا کالی ہے
پیڑ کے نیچے ذرا سی چھاؤں جو اس کو ملی سو گیا مزدور تن پر بوریا اوڑھے ہوئے
مل مالک کے کتے بھی چربیلے ہیں لیکن مزدوروں کے چہرے پیلے ہیں
تیری تابش سے روشن ہیں گل بھی اور ویرانے بھی کیا تو بھی اس ہنستی گاتی دنیا کا مزدور ہے چاند؟
پسینہ میری محنت کا مرے ماتھے پہ روشن تھا چمک لعل و جواہر کی مری ٹھوکر پہ رکھی تھی
زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا
بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے چلو محتاج کے منہ میں نوالہ رکھ دیا جائے
دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے
میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا
ہم ہیں مزدور ہمیں کون سہارا دے گا ہم تو مٹ کر بھی سہارا نہیں مانگا کرتے
سروں پہ اوڑھ کے مزدور دھوپ کی چادر خود اپنے سر پہ اسے سائباں سمجھنے لگے
انہی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھے ہیں وہ آنسو بھی جو اکثر دھوپ میں محنت کی پیشانی سے ڈھلتے ہیں
تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں
Explore Similar Collections
Mazdoor FAQs
Mazdoor collection me kya milega?
Mazdoor se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.