Poetry Collection

Mehboob

Who would not want to think of a lover or beloved, or even say or hear something about him or her. Poetry of all languages, especially of Urdu, is full of the stories of lovers and beloveds. H/she has had many facets and each one holds the readers’ attention. Here are some images of the lover/beloved for you to see for yourself.

Total

100

Sher

50

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

اک تجھ کو دیکھنے کے لیے بزم میں مجھے اوروں کی سمت مصلحتاً دیکھنا پڑا

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہے یاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنے

کیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتے معشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مرے کاغذ پر چھت پہ آ جاؤ مرا شعر مکمل کر دو

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

اک تجھ کو دیکھنے کے لیے بزم میں مجھے اوروں کی سمت مصلحتاً دیکھنا پڑا

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

ہم کو اکثر یہ خیال آتا ہے اس کو دیکھ کر یہ ستارہ کیسے غلطی سے زمیں پر رہ گیا

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھے ان کو دیکھا تو خدا یاد آیا

کیا ستم ہے کہ وہ ظالم بھی ہے محبوب بھی ہے یاد کرتے نہ بنے اور بھلائے نہ بنے

کیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتے معشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

Explore Similar Collections

Mehboob FAQs

Mehboob collection me kya milega?

Mehboob se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.