Poetry Collection

Muflisi

May not poverty be your fate but poverty has been the fate of many. It is a terrible state of being and calls for much courage to put up with it. These verses bring you close to the representation of this condition. The verses here help you appreciate the conditions of poverty and see how society considers a person subjected to a sorry state of living.

Total

47

Sher

46

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو

مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

اس کے ہاتھ میں غبارے تھے پھر بھی بچا گم صم تھا وہ غبارے بیچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

مفلسی سب بہار کھوتی ہے مرد کا اعتبار کھوتی ہے

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

اپنے بچوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں جب بھی آواز لگاتا ہے کھلونے والا

آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہ پیٹ ہے خالی آنکھ میں حسرت ہاتھوں میں گلدستہ ہے

جرأت شوق تو کیا کچھ نہیں کہتی لیکن پاؤں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دوات میری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیا

جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی

ہٹو کاندھے سے آنسو پونچھ ڈالو وہ دیکھو ریل گاڑی آ رہی ہے میں تم کو چھوڑ کر ہرگز نہ جاتا غریبی مجھ کو لے کر جا رہی ہے

کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوں گے تجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا ہے

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو

بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دوات میری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیا

مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

بھٹکتی ہے ہوس دن رات سونے کی دکانوں میں غریبی کان چھدواتی ہے تنکا ڈال دیتی ہے

مفلسی سب بہار کھوتی ہے مرد کا اعتبار کھوتی ہے

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

ہٹو کاندھے سے آنسو پونچھ ڈالو وہ دیکھو ریل گاڑی آ رہی ہے میں تم کو چھوڑ کر ہرگز نہ جاتا غریبی مجھ کو لے کر جا رہی ہے

کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوں گے تجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا ہے

میں اوجھل ہو گئی ماں کی نظر سے گلی میں جب کوئی بارات آئی

جرأت شوق تو کیا کچھ نہیں کہتی لیکن پاؤں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

Explore Similar Collections

Muflisi FAQs

Muflisi collection me kya milega?

Muflisi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.